امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی : جنرل کیانی کی زیرصدارت اجلاس

مئی 08, 2013

کراچی (این این آئی + اے پی اے) چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ 11 مئی کو ملک بھر میں پر امن الیکشن کے انعقاد کیلئے پاک فوج سکیورٹی کے حوالے سے حکومت اور الیکشن کمشن کی بھرپور معاونت کرے گی اور ملک بھر میں سیکورٹی انتظامات کے تحت پاک فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود ہے۔ تمام سکیورٹی ادارے کراچی سمیت ملک بھر میں پرامن الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔ وہ منگل کو کور ہیڈ کوارٹر کراچی میں پرامن الیکشن کے انعقاد کیلئے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل محمد اعجاز چودھری، ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر، چیف سیکرٹری سندھ اعجاز چودھری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سندھ محمد وسیم، پولیس اور حساس اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں آرمی چیف کو سندھ خصوصاً کراچی میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، الیکشن کے انعقاد کیلئے مرتب کئے گئے سکیورٹی پلان، سندھ بھر میں الیکشن کے پرامن انعقاد کیلئے فوج کی تعیناتی سمیت اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس دو گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف کو کراچی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج ملک بھر میں پرامن الیکشن کے انعقاد کیلئے پرعزم ہے اور آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج الیکشن کے حوالے سے حکومت اور الیکشن کمشن کےساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کے علاوہ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا کام بھی پاک فوج نے احسن طریقے سے انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پرامن الیکشن کے انعقاد کیلئے پاک فوج سکیورٹی کے حوالے سے ہر ممکن تعاون اور وسائل فراہم کر رہی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے ہدایت کی کہ پرامن الیکشن کے انعقاد کیلئے مربوط پلان کے تحت تمام سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ الیکشن کے حوالے سے تمام سکیورٹی ادارے ایک نظام کے تحت رابطے میں رہیں اور ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کیلئے کوآرڈی نیشن نظام کے تحت اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی پلان کے تحت فوری اقدامات کئے جائیں گے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ الیکشن کے پرامن انعقاد کیلئے کراچی سمیت سندھ بھر میں پاک فوج حساس علاقوں میں تعینات ہو گی اور فوجی دستے گشت کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کراچی میں الیکشن کے دن حساس ترین علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔ مزید برآں کراچی میں انتخابی ڈیوٹی کیلئے 10 ہزار جوان تعینات کر دئیے گئے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بریفنگ دیتے ہو ئے کہا کہ کسی پولنگ سٹیشن پر فوج تعینات نہیں ہو گی ، کوئیک رسپانس کیلئے ہیلی کاپٹرز استعمال کئے جائیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق عام انتخابات کے لئے سندھ میں ایک لاکھ 4 ہزار اہلکار تعینات کئے جائیں گے جبکہ انتخابات کے بعد کی صورت حال دیکھ کرفوج کی واپسی ہو گی ۔ بریفنگ میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کراچی سمیت سندھ میں مربوط حکمت عملی سے کام کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بیلٹ پیپرزکی تقسیم کاکام مکمل کر لیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آرمی چیف نے بلوچستان اور سندھ میں الیکشن کے لئے سکیورٹی کا جائزہ لیا۔ سندھ خصوصاً کراچی کے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام پہلوو¿ں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ چار ہزار پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کے اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ ہاک فوج کے 20 ہزار جوان سکیورٹی پر تعینات ہوں گے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ کراچی میں دس ہزار فوجی جوان سمیت 49 ہزار اہلکار سکیورٹی پر مامور ہوں گے جبکہ ہیلی کاپٹر استعمال کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولنگ سٹیشن کے اندر فوج تعینات نہیں کی جائے گی ۔ فوج پلان کے مطابق پیٹرول کرے گی تاہم فوج کی واپسی کا فیصلہ 12 مئی کو کیا جائے گا۔ 

مزیدخبریں