اووربلنگ کے خلاف وزیراعظم کا نوٹس

 وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت بجلی شعبے کی اصلاحات اور ملک میں شمسی توانائی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے بجلی صارفین کے بلوں میں زائد یونٹس شامل کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو تقسیم کار کمپنیوں کے ایسے اہلکاروں و افسران کو فوری معطل کرنے اور ان کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دو سو یونٹس سے نیچے تحفظ شدہ صارفین کے بلوں میں مصنوعی طور پر زائد یونٹس شامل کرکے غیر تحفظ شدہ درجے میں شامل کرنے والے اہلکاروں و افسران کو قوم کے سامنے بے نقاب کرکے انھیں قرارواقعی سزا دی جائے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان درآمدی ایندھن سے بجلی بنانے کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ ماضی میں کیے گئے غلط پالیسی اقدامات کا بوجھ غریب عوام کو قطعاً برداشت نہیں کرنے دوں گا، ملک میں درآمدی ایندھن سے مہنگی بجلی پیدا کرنے والے اور ناکارہ سرکاری کارخانوں کو فوری طور پر بند کیا جائے، کم لاگت قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار سے صارفین کو بلوں میں ریلیف ملے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ آئے روز بجلی کے بڑھتے نرخوں نے غریب عوام کی چیخیں نکلوادی ہیں۔ ان میں بجلی کے بھاری بل ادا کرکرنے کی سکت ہی باقی نہیں رہی۔ بجلی کے بڑھتے نرخوں کے خلاف سوشل میڈیا پر اور ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ماہ اپریل میں وفاقی وزیر توانائی خود اعتراف کر چکے ہیں کہ ملک میں کروڑوں روپے کی اووربلنگ کی جا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بجلی کے اداروں میں 20 فیصد سے زائد ایسے لوگ ہیں جو بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اس انکشاف کے باوجود ان کرپٹ افراد پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا جس سے ملی بھگت کا ہی تاثر ابھرتا ہے۔ اس وقت اصل پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں صرف بیوروکریٹس، واپڈا ملازمین اور بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر بیٹھے افسران آتے ہیں جنھیں سرکار کی طرف سے بھاری تنخواہیں اور مراعات ملنے کے علاوہ بجلی، گیس، پٹرول مفت ملتا ہے جبکہ عام آدمی اپنی معمولی سی تنخواہ سے مہنگی بجلی، گیس، پانی کے بھاری بل ادا کرنے پر مجبور ہے اور حکومتی سطح پر صرف ریلیف دینے کے محض دعوے ہی کیے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری افسران اور ایوانوں میں بیٹھے ان اشرافیہ طبقات سے مراعات واپس لے کر غریب عوام کی طرف منتقل کی جائیں۔ جب تک ان اشرافیہ پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، عام آدمی کو ریلیف دینے کا حکومتی خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ 

ای پیپر دی نیشن