زرعی مداخل سے جی ایس ٹی ختم کیا جائے: لیاقت بلوچ

08 جولائی 2013

لاہور (خصوصی نامہ نگار)جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی مداخل پر جی ایس ٹی کا خاتمہ، کھاد کی بوری پر قیمت فروخت تحریر اور دھان، گندم، گنا، کپاس کی قیمتیں کسانوں کی مشاورت سے طے کی جائیں۔ بلوچستان کی طرز پر دیگر صوبوں میں زرعی ٹیوب ویلوں پر بجلی کے فلیٹ ریٹ طے کیے جائیں۔ زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے، بھارتی آبی جارحیت کو سفارتی سطح اور عالمی ثالثی عدالت میں لے جایا جائے اور شوگر ملیں کاشتکاروں کو ادائیگی بذریعہ چیک کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی کی زرعی امور کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں کیا۔ انہوںنے کہا کہ زراعت کا مجموعی ملکی پیداوار میں 68 فیصد حصہ تھا مگر حکومتوں کی ناقص اور کسان و زراعت دشمن پالیسیوں کی بدولت یہ شرح اب 25 فیصد تک رہ گئی جبکہ 68 فیصد ملکی آبادی کا انحصار اب بھی زراعت پر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے بھی زراعت پر ٹیکس لگا کر مخصوص لابی کے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جبکہ قومی نمائندے جن کی اکثریت دیہی علاقوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچی ہے‘ انہوں نے کاشتکاروں کی مشکلات کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ ہی کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں پانی کے زیرزمین ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے لہٰذا حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بڑے آبی ذخائر کی تکمیل کےلئے مخلصانہ اقدام اٹھائے کیونکہ ان آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کھاد ساز فیکٹریوں کو پابند کرے کہ وہ کھاد کی بوری پر قیمت فروخت درج کریں تاکہ کسان بلیک مارکیٹنگ سے بچ سکیں۔