”گندم کے ذخائرکافی نہیں‘خوفناک بحران جنم لے سکتا ہے“

08 جولائی 2013

کراچی (این این آئی) اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ پاکستان میں گندم کے ذخائر کی صورتحال اطمینان بخش نہیں۔ موجودہ ساڑھے سات ملین ٹن کا سٹاک ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے اور گندم کی درآمد و برآمد کے بارے میں فیصلوں میں غیرضروری تاخیر سے پاکستان میں خوفناک غذائی بحران جنم لے سکتا ہے۔ نازک صورتحال کا اندازہ ہونے کے باوجود ارباب اختیار کی سستی سے ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ جبکہ عوام ا ور حکومت کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی برآمدات اور سمگلنگ کی وجہ سے ملک میں موجود گندم کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ ذخیرہ اندوز بھی ہمیشہ کی طرح مصنوعی قلت کے ذریعے راتوں رات اربوں روپے کمانے کے ایجنڈے پر پورے زور و شور سے کام کر رہے ہیں۔حکومت سمگلروں اور ذخیرہ اندوزوں کو تو کچھ نہیں کہہ سکتی‘ برآمدات پر فوری پابندی لگا سکتی ہے۔ اسی طرح عوام دشمن ذخیرہ اندوزوں کو ناکام بنانے کیلئے گندم درآمد کی جا سکتی ہے مگر اس پر ود ہولڈنگ ٹیکس‘ درآمدکنندگان کی حوصلہ شکنی کیلئے کافی ہے ۔