قومی سلامتی کانفرنس اور نئے پالیسی فیصلے؟

08 جولائی 2013

پاکستان کے بڑے سنگین قومی سلامتی کے مسائل پر نئی پالیسی تشکیل دینے کیلئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے قومی سیاست قیادت اور فوجی قیادت (آرمی چیف جنرل کیانی اور آئی ایس آئی چیف) کا مشترکہ اجلاس قومی سکیورٹی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس میں ملک کیلئے ایک نئی قومی سلامتی پالیسی وضع کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے ملکی قیادت کا یہ امتحان ہوگا کہ وہ پاکستان کو پھیلتے دہشت گردی کے واقعات سے نکالنے میں کیا ٹھوس، نئی اور عملی پالیسی دیتے ہیں تاکہ ملک میں امن بحال ہو، امن و امان کی جانب تیز رفتار اقدامات اٹھانے کا فیصلہ ہو اور ساری سیاسی و فوجی قیادت اس میں ”ایک صفحہ“ پر ہو!
پاکستان کو اپنی اندرونی سلامتی کے سنگین چیلنج درپیش ہیں اس کی وجوہات، عوامل بہت سے ہیں سیاسی قیادت کو اب بہرحال فوجی قیادت اور خفیہ اداروں کو نئی قومی پالیسی دینا ہے اس میں دہشت گردی کی متعدد اقسام کی روک تھام، فرقہ وارانہ حملوں کے تدارک کی جامع اور وسیع حکمت عملی سرفہرست ہیں ہمیں نئے بدلتے سٹریٹجک حالات میں، خطے کی دیگر قوتوں (بھارت، ایران، افغانستان) کے ممکنہ منصوبوں اور خفیہ کارروائیوں، مستقبل کے سٹریٹجک پارٹنر بننے کے امکانات کے تناظر میں اپنی نئی قومی سلامتی پالیسی تشکیل دینا ہے یہ ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے اس پر سوچ بچار، فوائد نقصانات کا درست درست اندازہ لگانا ہوگا تاکہ اجتماعی سیاسی قیادت ملک کو خون خرابے، سرمایہ کاری کے ممکنہ منصوبوں (بین الاقوامی ادارے) کے ”ایشوز“ کے لئے کم از کم پانچ سال کی پالیسی دے سکے۔ قومی سلامتی و ٹیررزم پالیسی میں سنجیدہ معاملات کو قومی پالیسی بنانا وقت کا تقاضا ہے اگر سیاسی مصلحتوں اور ”مجبوریوں“ کے چنگل میں قومی حکمران قیادت پھنسی رہی تو پھر پاکستان کا ترقی و استحکام کا خواب، صرف خواب ہی رہے گا مضبوط حکومت بھی اگر دو ٹوک سخت فیصلے نہ لے سکی تو یہ قائدؒ، علامہ اقبالؒ کے پاکستان کے ساتھ ظلم عظیم ہو گا۔
1۔ قومی سطح پر شورش، علاقائی دہشت گرد گروپوں، شدت پسند جنونیوں ”مسلح سیاسی ونگز“ والی بڑے سیاسی پارٹیوں، ٹارگٹ کلرز، اسلحہ کے جدید ترین سمگلنگ اور پہنچانے کے نیٹ ورک، پولیس میں سیاسی پارٹیوں کے بھرتی شدہ وفادار پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف کریک ڈا¶ن (خصوصاً کراچی) جیلوں سے سیاسی دباﺅ پر دہشت گردوں کی رہائی، سیاسی پارٹیوں کے طاقتور لیڈران کی مجرموں سے ”ساز باز کا معاملہ“ ٹارگٹ کلرز کو عدالتوں،پولیس، ایجنسیوں سے چھڑانے والے مجرموں کے سیاسی سرپرست اصل قومی مجرم ہیں کہ کراچی میں 3000 سے زائد افراد بے گناہ قتل کر دیئے گئے ”گینگ وار“ کے سرغنے (سیاسی رہنما) بھی قانون کی زد میں لائے جائیں۔
2۔ کراچی کے بارے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر جج صاحبان دیئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جاتا؟ سیاسی حکمران اپنی حکومت بچانے کیلئے عوام کو قربانی کے بکرے بنانے پر کیوں ”چل“ رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ 3 سال کے عرصہ میں کم از کم آٹھ مرتبہ یہ کہا کہ بلاامتیاز قانون نافذ کیا جائے۔ مطلب ایم کیو ایم، اے این پی، پی پی پی، سنی تحریک وغیرہ پر یکساں پولیس، رینجرز ایکشن لیا جائے لیکن وہ اور وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، گورنر عشرت العباد، رحمان ملک کراچی میں خون کی ندیاں بہانے سے نہ روک سکے وجہ صرف اپنی حکومت کی بقاءاور لوٹ مار کے اقتداری مزے تھے!
3۔ پاکستان کے مختلف صوبوں میں تخریب کاروں، دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز پر ”کریک ڈاﺅن“ کیلئے فوری طور پر 5 ارب روپے کے فنڈ سے ہوم لینڈ سکیورٹی اور سپیشل آپریشن فورس تشکیل دی جانے کی منظور دی جائے یہ قومی ادارہ فوج کی جگہ جرائم پیشہ افراد سے نمٹے کیونکہ فوج کو سول آبادیوں میں آپریشنوں سے افواج، عوام اعتماد و یکجہتی متاثر ہوتی ہے اور فوجی آپریشن کے خلاف عوامی ردعمل بھی آ سکتا ہے عالمی خفیہ طاقتیں بھی فوج کو ہی ہر جگہ ”پھسانا“ چاہتی ہیں تاکہ پاکستان بھارت بارڈر فوجی توازن سے بھارت کے حق میں جائے۔ ہم مزید بھر پور فوجی آپریشنوں کے شاید متحمل نہ ہو سکیں پہلے جو کئے ہیں وہاں سے بھی فوج واپس نہیں آ سکتی!!
4۔ قومی سلامتی پالیسی میں ایک بڑا سخت فیصلہ بہرحال کرنا ہوگا وہ ناجائز اور جائز لائسنسی اسلحہ (جو BURST مارتے ہیں) یہ خود کار ہتھیار اور نیم خود کار ہتھیار (جائز اور ناجائز) واپس لینے کیلئے اگلے ہفتے سے آغاز کیا جائے جب تک وفاقی حکومت اور صوبہ سندھ کی حکمران و اتحادی جماعتیں قومی مفاد میں یہ بڑا سخت قدم نہیں اٹھاتیں۔ کراچی میں گولیوں کی ”بارش“ ہوتی رہے گی۔
سپریم و ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان (وفاق سندھ) اس معاملے میں عدالت آنے والے ”متاثرین“ کو آٹو میٹک میں تبدیل ہو جانے والے ہتھیاروں کے ”کیس“ میں کوئی رعایت نہ دیں کراچی میں خون بہنے سے روکنا چیف جسٹس صاحبان کا قومی فرض ہے، قانون کی رعایتیں، شرفاءکیلئے ہوتی ہیں ”گینگسٹرز“ کے لئے نہیں!
5۔امریکہ سے طالبان کے مذاکرات اب ہر ایک کو معلوم ہیں وہ طالبان کمانڈرز خود بھی اپنی جیلوں سے رہا کرنے جا رہے ہیں ان کا ”مک مکا“ اپنی افواج، جان و مال کو بہ حفاظت افغانستان سے نکالنے کیلئے ہو رہا ہے پاکستان سے بھی طالبان کمانڈرز کو درجہ بہ درجہ رہا کیا جا رہا ہے پھر پاکستان کے طالبان سے مذاکرات آخر کیوں نہیں ہو سکتے امریکہ، نیٹو تو 2014ءمیں واپس چلے جائیں گے ہمیں مستقبل میں تاجکستان، افغانستان، پاکستان، ایران پائپ لائن، وسطی ایشیائی ممالک کو بلوچستان سے تجارتی راہداری، اور قدرتی معدنیات و تجارت کرنا ہے۔ وفاقی حکومت بھی قابل عمل اور خلوص والی شرائط رکھے! طالبان گروپوں کو بھی افغانستان کے بدلتے حالات کے تناظر میں پاکستان کے اندر حملے روک دینے چاہئیں تاکہ ایک متحدہ قوم کے طور پر بھارت، امریکہ دیگر خفیہ اداروں کے پاکستان پر حملوں کو روکا جا سکے۔ قبائلی علاقہ میں احساس محرومی کا خاتمہ کرنے بارے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ گولہ باری، راکٹ باری، ڈرون بازی، یہ سب کچھ پاکستان بھر میں خون خرابے کی وجہ ہے امریکہ کی جنگ سے الگ ہونے کا اعلان بھی کیا جائے۔