مصر: اسلامی جماعتوں کے اعتراض پر البرادی کو عبوری وزیراعظم مقرر کرنے کا اعلان واپس‘ مزید احتجاجی مظاہروں کی کال

08 جولائی 2013
مصر: اسلامی جماعتوں کے اعتراض پر البرادی کو عبوری وزیراعظم مقرر کرنے کا اعلان واپس‘ مزید احتجاجی مظاہروں کی کال

قاہرہ+واشنگٹن (رائٹر+اے ایف پی+نمائندہ خصوصی) مصر کے اپوزیشن لیڈر اور اقوم متحدہ کی ایٹمی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادی کو عبوری وزیر اعظم مقرر کرنے کا اعلان واپس لے لیا گیا ہے۔ اسلامی جماعتوں نے لبرل البرادی کا نام مسترد کردیا تھا۔دوسری جانب اخوان نے مزید احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے۔ مصر کے نئے عبوری صدر عدلی منصور کے ایک ترجمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری وزیر اعظم کیلئے متعدد نام زیر غور ہیں لیکن ابھی تک محمد البرادی کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ترجمان احمد المسلمانی نے ان خیالات کو مسترد کیا کہ البرادی کا نام مذہبی گروپوں کے دباو¿ کی وجہ سے واپس لیا جا رہا ہے۔قبل ازیں البرادی کو مصر کا عبوری وزیراعظم مقرر کرنے کا اعلان سامنے آیا تھا۔ مصر کی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ البرادی کی عبوری صدر عدلی منصور کے ساتھ ملاقات کے بعد انہیں عبوری وزیراعظم مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کی تقرری کی خبر کا ان کے حامیوں کی طرف سے پرجوش انداز میں استقبال کیا گیا۔ دارالحکومت میں اتحادیہ صدارتی محل کے باہر انکے ہزاروں کارکنوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف مصری پرچم لہرائے بلکہ دیر تک گاڑیوں کے ہارن بھی بجاتے رہے۔ نئے وزیراعظم کی تقرری کا اعلان اخوان المسلمون کی طرف سے شہر نَصر میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے بعد کیا گیا تھا۔ اخوان المسلمون کے بعد دوسری بڑی اسلامی سلفی جماعت ’حزب النور‘ کے نائب سربراہ احمد خلیل نے الحرم ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر البردای کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا تو ان کی پارٹی موجودہ سیاسی تبدیلی کے عمل سے دستبردار ہوجائیگی۔ عبوری صدر کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اخوان المسلمون آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکے گی۔ ڈاکٹر مرسی کے حق میں جاری اس شدید اور خوفناک احتجاج کی لہر کو روکنے کیلئے صدارتی ترجمان نے یہ بیان دیکر اخوان المسلون کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے تاکہ ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کیا جاسکے۔ ترجمان کا کہنا تھا: ”ہم ہر ایک کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں کیوںکہ ہر کوئی مصری قوم کا حصہ ہے“۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عبوری صدارتی ترجمان اخبار نویسوں کو بتایا کہ اخوان المسلموں کو انتخابات میں حصہ لینے کے پہلے بھی بارہا مواقع مل چکے ہیں، آئندہ صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لینے کا پورا موقع ہو گا۔ اسکے ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ فوج اگرچہ ملک کو نیا سیاسی روڈ میپ دینے کا اعلان کرچکی ہے تاہم ابھی تک نئے صدارتی انتخاب کیلئے تاریخ کا تعین کرنا باقی ہے۔ مرسی کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے ابھی جاری ہیں۔ مرسی کے ہزاروں حامیوں نے انکی نظربندی کے مقام کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ملک میں سیاسی بحران کے حل کی فوج کی کوششیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتیں، امریکہ میں مصر کے سفیر محمد توفیق نے اے بی سی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں فوجی بغاوت نہیں ہوئی بلکہ فوج نے ملک میں تشدد کو پھیلنے سے روکنے کیلئے یہ اقدام کیا ہے۔ مصر کے موجودہ حالات میں 1.5 بلین ڈالر کی فوجی امداد خطرے میں پڑتی نظر آرہی ہے۔ ہاﺅس انٹیلی جنس کمپنی کے ری پبلک رکن مائیک راجرز نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ مصر کی امداد جاری رکھے اور وہاں کے جمہوری عمل میں مدد دے۔ روسی صدر ولادےمےر پےوٹن نے خبردار کےا ہے کہ مصر مےں معزول صدر محمد مرسی کے حامےوں اور مخالفےن کے درمےان تنازعہ سے ملک مےں خانہ جنگی چھڑنے کا خطرہ ہے۔ روسی خبررساں اداروں نے پےوٹن کا حوالہ دےتے ہوئے کہا کہ شام پہلے ہی خانہ جنگی مےں گھرا ہوا ہے، بدقسمتی سے ےہی کافی ہے اور مصر اسی سمت مےں بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مصری عوام کواس قسمت سے بچتے دےکھنا چاہتے ہےں۔ سابق برطانوی وزےراعظم ٹونی بلےئر نے کہا ہے کہ فوج کے پاس اسلام پسند صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے سوا کوئی دوسری چوائس نہےں تھی۔ بلےئر کا کہنا تھا کہ مغرب کے پاس مصر کی جمہوری تبدےلی کی حماےت کےلئے مضبوط دلائل تھے۔ اس مرحلے پر ہم مصر کو ٹوٹتے دےکھنے کے متحمل نہےں ہوسکتے، ہمےں ڈےفکٹو پاور کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئےں، اس طرح سے ہم واپس مذاکرات کی راہ پر آنے مےں مدد بھی کرسکتے ہےں جس کی مصری عوام خواہش رکھتے ہےں۔