علم کے میدان میں ناکامی ”ایک کروڑ 40 لاکھ یہودیوں کے مقابلے میں ڈیڑھ ارب مسلمان سیاسی‘ اقتصادی طور پر کمزور تر ہو رہے ہیں“

08 جولائی 2013

لندن (ثناءنیوز) دنیا بھر میں پھےلی ہوئی 35 بڑی ملٹی نیشنل کمپنےاں یہودیوں کے کنٹرول مےں ہےں ، افرادی قوت مےں ایک کروڑ چالیس لاکھ ےہودےوں کے مقابلے مےں ڈیڑھ ارب مسلمان اقتصادی اور ، سےاسی طور پر کمزور سے کمزور ہوتے جا رہے ہےں ۔ سرکردہ بنک کار حافظ اے بی محمد نے لندن میں ایک تقریب کے دوران مسلم امہ کے زوال اور یہودیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ یہودیوں کی آبادی ایک کروڑ چالیس لاکھ جبکہ مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے ۔ اس کے باوجود یہودی طاقتور اور مسلمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کی کمزوری کی بنیادی وجہ علم کے میدان میں ناکامی ہے ۔ کالاک مارکس ، البرٹ ، انسٹن سمیت دنیا کے پانچ بڑے فلاسفر یہودی تھے ۔ ویکسین لگانے کی سوئی پولیو ویکسین اور اسی طرح کی 12 بڑی طبی ایجادات میں یہودیوں کا ہاتھ ہے ۔ حافظ اے بی محمد نے کہا کہ گزشتہ ایک سو پانچ برسوں میں یہودیوں نے ایک سو اسی بار نوبل پرائز حاصل کیا جبکہ مسلمان تین بار نوبل پرائز حاصل کر سکے ۔ کمپیوٹر چپ ، اپٹک فائبر کیبل ، ٹریفک لائٹس ، سٹیل اینڈ سٹیل ، ٹیلی فون مائیکرو فون اور ٹیپ ریکارڈر سمیت آٹھ بڑی اہم ایجادات کا سہرا بھی یہودیوں کے سر ہے ۔ اس وقت دنیا میں 35 بڑے کاروباری ادارے چھائے ہوئے ہیں ان میں کمپیوٹر کی دنیا کا سرفہرست سرچ انجن گوگل ،ڈل کمپیوٹر ، کوکا کولا اور اسی طرح کے بڑے دوسرے ادارے یہودیوں کے کنٹرول میں ہیں یعنی ان کے مالک یہودی ہیں۔ دنیا کے بڑے ابلاغی ادارے سی این این ، نیویارک ٹائمز وغیرہ کے مالک بھی یہودی ہیں ۔ دنیا میں فیاضی کے حوالے سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے دو بڑی شخصیات جارج سورس اور اے والٹر بھی یہودی ہیں ۔ حافظ اے بی محمد نے مزید بتایا کہ دنیا کے ستاون اسلامی ممالک میں صرف پانچ سو یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں جبکہ صرف امریکہ میں 5758 اور بھارت میں 8460 یونیورسٹیاں ہیں ۔ دنیا کی 500 بڑی یونیورسٹیوں میں کسی اسلامی ملک کی اسلامی یونیورسٹی شامل نہیں ۔ عیسائیوں میں لٹریسی کی شرح 90 فیصد اور مسلمانوں میں 40 فیصد ہے ۔ مسلمانوں میں ہر دس لاکھ افراد میں دو سو تیس سائنسدان ہیں جبکہ امریکہ میں ہر دس لاکھ افراد میں پانچ ہزار سائنسدان ہیں ۔ عیسائیوں میں ہر دس لاکھ افراد میں ایک ہزار ٹیکنیشن جبکہ پوری عرب دنیا میں دس لاکھ افراد میں پچاس ٹیکنیشن پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم دنیا میں ریسرچ پر جی ڈی پی کا صرف 0.2 فیصد خرچ کیا جاتا ہے جبکہ عیسائی آبادی میں جی ڈی پی کا 5 فیصد خرچ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے ایک ہزار افراد کے لئے صرف تئیس اخبارات ہیں جبکہ سنگا پور میں ایک ہزار افراد کے لئے 460 اخبارات ہیں ۔