کراچی میں مزید 9 افراد قتل‘ لیاری سے ہزاروں افراد کی نقل مکانی

08 جولائی 2013

کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی میں خونریزی کا سلسلہ جاری‘ اتوار کو بھی تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں 9 افراد ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوگیا جبکہ دو ماہ قبل فائرنگ سے زخمی ہونے والے سیاسی کارکن نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاﺅن کے علاقے کٹی پہاڑی میں مسلح افراد نے 40 سالہ محمد علی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ پاک کالونی کے علاقے میں بڑا بورڈ کے نزدیک نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 45سالہ سید متین ہلاک ہوگیا۔ ادھر ماری پور روڈ پر دعا ہوٹل کے نزدیک کی بوری بند لاش ملی جسے تشدد اور فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ آگرہ تاج کالونی میں بتول فلیٹس کے قریب جنرل سٹور کے سامنے سے بھی دو افراد کی لاشیں ملیں، انہیں بھی فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ دونوں مقتولین نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور ان کی عمر 25 اور 30سال کے درمیان تھی تاہم ان دونوں کی بھی شناخت نہیں ہو سکی۔ دریں اثناءنیوکراچی میں یوپی موڑ پر مسلح افراد نے الیکٹرک سٹور پر فائرنگ کر کے دکاندار 65سالہ شہاب الدین کو زخمی کر دیا۔ مزید برآں میمن گوٹھ تھانے کی حدود میں مارو گوٹھ سے بھی 23 سالہ نوجوان گوہر علی کی لاش ملی جسے گولیاں مارکر ہلاک کیاگیا۔ کلری کے علاقے میں جونا مسجد کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جس پر لیاری کے مکینوں نے نعش اٹھا کر ماڑی پور روڈ پر مظاہرہ کیا جس سے ٹریفک کی آمدورفت معطل ہو گئی۔ ادھر سمن آباد سے سائٹ پولیس نے بھتہ خور محمد انور اور ٹارگٹ کلر حماد رضا کو گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں گلستان جوہر اور دیگر علاقوں میں رینجرز نے سرچ آپریشن کر کے 8 جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کر لیا۔
کراچی (سٹاف رپورٹر/ نیشن رپورٹ) لیاری میں کئی دنوں سے جاری گینگ وار سے تنگ درجنوں خاندان کراچی کے ساحلی علاقوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق 30 ہزار افراد ہجرت کر کے بدین اور ٹھٹھہ کے علاقے چلے گئے ہیں۔ یہ افراد نئی اور پرانی کالری، آگاہ تاج کالونی، بہار کالونی، حنیف منزل اور خیام بیکری کے علاقے میں رہتے تھے اور ان کا تعلق سومرہ، ہنگورہ، ادیجہ، مندرہ، بھٹی اور میمن قبیلے سے ہے۔ ان میں سے اکثر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہیں مجبوراً علاقہ چھوڑنا پڑا۔ اسکے علاوہ 500 افراد نے بلدیہ ٹاﺅن کے ایک سکول میں بھی پناہ لی ہوئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ علاقے سے شرپسندوں کو نکالا جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ متحدہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کراچی میں خراب صورتحال کے حوالے سے لوگ متحدہ کیخلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔