دہشت گردی: غیرملکی ہاتھ کو الزام دینا توجہ ہٹانے کے مترادف ہے: تجزیہ کار

08 جولائی 2013

اسلام آباد+ لاہور (مقبول ملک+ ارشد بھٹی/ دی نیشن رپورٹ) ایسے موقع پر جبکہ نئی حکومت ملک میں دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے وسیع البنیاد اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، بھارت اور افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان واقعات کا مورد الزام ٹھہرانا ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ بعض قابل اعتماد حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کوششوں کا مقصد مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے حوالے سے بھارت سے دوستانہ تعلقات کی کوششوں میں بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔ تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ ایسے موقع پر غیرملکی ہاتھ کو الزام دینے کا مقصد نواز شریف حکومت کی دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے کوششوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کی کریڈیبلٹی کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے جذبہ¿ خیرسگالی کی تردید ہے جنہوں نے نوازشریف کے بھارت اور افغانستان سے تعلقات معمول پر لانے کا مثبت جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی میڈیا رپورٹس ٹھیک نہیں کیونکہ پاکستان میں گہرا امریکی انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے اس لئے دہشت گردی میں غیر ملکی ہاتھ کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے نوازشریف اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پر زور دیا کہ وہ باہم مل کر کوششوں کو ناکام بنا دیں جن کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرتا ہے۔ ان رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے قابل اعتماد فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج اور سکیورٹی ایجنسیاں درپیش چیلنجز کے بارے میں رپورٹس تیار کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت صورتحال سے ایسے نہیں نمٹ رہی جیسا کہ اسے نمٹنے کے لئے اقدامات کی ضرورت تھی۔ پی ٹی آئی آئندہ حکومتی اے پی سی میں شریک ہو کر تجاویز دے گی۔ اس حوال سے معروف سیاسی مبصر اور ڈین فیکلٹی آف سوشل سٹڈیز بیکن ہاﺅس نیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ یہ بہت آسان کام ہے کہ ہم دوسروں کو الزام دے کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالیں۔ یہ قریباً تمام حکومتوں کا کام رہا ہے کہ وہ امن وامان کے قیام میں اپنی ناکامیاں تسلیم کرنے کی بجائے دوسروں پر الزامات دیں۔ انہوں نے کہا حالیہ ہلاکتیں اور بم دھماکے ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کوتاہیوں کے باعث ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بڑی فورسز کارفرما ہیں، ان میں فرقہ واریت، طالبان اور کریمینل مافیا شامل ہیں۔ دشمن ایسے حالات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بھارت دشمن ہے تو پھر دشمن سے کوئی اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے ”را“ ”موساد“ یا ”این ڈی ایس“ ملوث ہیں تو پھر انہیں روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے سکیورٹی سے متعلقہ معاملات میں الجھا ہوا ہے اس لئے وہ دوسرے ممالک کی سرزمین پر ایسی کارروائیاں کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں کوئی سرحد نہیں اور وہاں کے لوگ ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ حامد کرزئی حکومت ناکام ہو چکی ہے اور اب وہ پاکستان پر الزامات عائد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ان معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سیاسی مبصر اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ بلاشبہ انٹیلی جنس ایجنسیاں دوسرے ممالک میں کام کرتی ہیں اگر ”را“ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں ملوث ہیں تو ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اسے بے نقاب کرنے کی پوری اہلیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری ایجنسیوں نے پاکستان میں بم دھماکوں کا الزام کبھی ”را“ پر عائد نہیں کیا۔ حکومت حملے کرنے والوں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ اے این پی کے رہنما حاجی عدیل نے کہاکہ جب طالبان اور لشکر جھنگوی ان واقعات میں ملوث ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو پھر دوسرے ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر الزام کیوں دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ 90 فیصد واقعات ملک میں موجود دہشت گردوں کی کارستانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا انٹیلی جنس نظام بری طرح ناکام ہوا وہ اس حوالے سے انفارمیشن اکٹھے نہیں کر سکتیں۔