شاستری بننا ہے یا لالو پرشاد

08 جولائی 2013

بھارت میں لال بہادری شاستری وزیر ریلوے تھے۔ ستمبر 1956 میںٹرین کاحادثہ ہوا، ایک سو بارہ افراد لقمہ اجل بن گئے۔شاستری نے اخلاقی ذمے داری کے پیش نظر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔وزیر اعظم جواہر لا ل نہرو نے استعفی قبول نہ کیا۔ تین ماہ بعد ٹرین کا ایک اور حادثہ ہو گیا۔اس میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو چوالیس تھی ، شاستری نے پھر استعفی لکھ کر وزیر اعظم کے سامنے رکھ دیا۔ اس مرتبہ نہرو اس کو مسترد نہ کر سکے۔
اسی ملک میں لالو پرشاد وزیر ریلوے بنے ، ایک خوفنا ک ریل حادثہ پیش آیا۔ لالو سے کہا گیا کہ وہ استعفی دیں۔اس مرد دانا نے کہا کہ لوگوں نے ہمیں اس لئے منتخب نہیں کیا کہ ہم چیلنج کے سامنے فرار کی راہ اختیار کریں۔انہوں نے ہمیں ہر حال میں ذمے داری نبھانے کے لئے ووٹ دیئے ہیں۔
پاکستان میں ہفتے کا دن خونی ثابت ہوا، صبح سویرے ایک رکشے کو ریل گاڑی نے ٹکر مار کر پاش پاش کر دیا،نوائے وقت کی سپر لیڈ کے مطابق ایک ہی خاندان کے بارہ افراد سمیت پندرہ افراد جاںبحق ہو گئے۔ مرحوم رکشہ ڈرائیور پر مقدمہ درج کر لیا گیا،اب اس کی روح کا ٹرائل ہو گا۔ مرنے والوں کے لواحقین کے لئے فی کس پانچ لاکھ کی امداد کا اعلان کر دیا گیا ، ایک ہی گھر سے بارہ جنازے اٹھے اور اسی گھر میں پانچ پانچ لاکھ کے بارہ چیک پہنچ جائیں گے۔ وزیر ریلوے سعد رفیق سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ا پنا فرض ادا کر دیا۔ اس حادثے کے وقت وزیر اعظم اوروزیر اعلی پنجاب چین میں ایک بلٹ ٹرین کے مزے لوٹ رہے تھے۔ اگر پاکستان میں بلٹ ٹرین آنی ہے تو اس کے فیصلے میں وفاقی وزیر ریلوے کو بھی شریک ہونا چاہئے تھا مگرسارے فیصلے ان سے بالا بالا ہو رہے ہیں اور وزیر ریلوے ایک ہی خاندان کے چودہ افراد کے لواحقین کے آنسو پونچھنے کے لئے پیچھے چھوڑ دیئے گئے۔
میری سعد رفیق سے نہ قربت ہے، نہ دوری، ان کے والد سے عقیدت کا رشتہ تھا،لیکن اب وہ وزیر ہیں اور میں ایک عامی شہری۔میں رات گئے تک مختلف ٹی وی چینلوں کو ٹٹولتا رہا کہ کہیں سے اس مرد غیور کے استعفے کی خبر نشر ہو جائے۔خبر تو ملی لیکن انارکلی کی فوڈ اسٹریٹ میں ایک ننھے بچے کے جسم کے چیتھڑے بننے کی۔اور ہر لمحے مرنے والوں کی تعداد میںاضافہ ہونے کی، پتہ نہیں زخمی کس حال میں ہیں۔ساری بلکہ اصل حکومت تو چین کے چھ روزہ دورے پر ہے۔گاہے انڈر گراﺅنڈ ٹرین کی سیر، گاہے بلٹ ٹرین کی سیر اور وہ بھی پانچ گھنٹے تک، کیا بچپنا لوٹ آتا ہے۔
میں واپس اخلاقی ذمے داری کی طرف آتا ہوں۔امریکی صدر رچرڈ نکسن نے واٹر گیٹ اسکینڈل میں استعفی دے کر اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کیا ۔دو سال قبل برطانیہ کی ایک خاتون سیکورٹی منسٹر نے خاتون ہوم منسٹر سے چپقلش کی بنا پر استعفی دے دیا۔سات برس قبل آسٹریلیا کے ایک وزیر دفاع نے صرف اس خیال سے استعفی دے دیا کہ انہیں کسی کیس میں پھنسا کر نہ نکال دیا جائے۔وہ پچیس برس سے پارلیمنٹ میںتھے اور طویل تریں عرصے تک سینیٹ میں اپنی پارٹی کے لیڈر رہے۔انہوں نے عزت کے ساتھ گھر جانے کافیصلہ کیا۔ابھی پچھلے سال بھارتی وزیر دفاع ایس ایم کرشنا نے صرف اس لئے استعفی دیا کہ وزیر اعظم اپنی مرضی سے کابینہ میں تبدیلیاں کر سکیں۔اسی سال اپریل میں دو عراقی وزرا نے فوج کی طرف سے احتجاجی مظاہرین پر کریک ڈاﺅن کرنے کی وجہ سے استعفی دے دیا تھا۔پچھلے ماہ چیکو سلوواکیہ کے وزیراعظم کو عوامی دباﺅ پر مستعفی ہونا پڑا، ان پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات تھے۔مئی میں بھارتی وزیر ریلوے پون کمار بنسال کو بھی کرپشن الزامات کیو جہ سے مستعفی ہونا پڑا۔اس کے بھتیجے کو پہلے ہی اس جرم میں گرفتار کر لیا گیا تھا کہ اس نے ریلوے بورڈ میں ایک ترقی دلانے کے لئے نوے لاکھ روپے کا نذرانہ وصول کیا تھا۔یونان میں ایک خاتون ڈپٹی وزیر صحت نے حلف کے دو گھنٹے کے بعداستعفی دے دیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی اپنے محکمے کی وزیر صاحبہ سے نہیں بنتی تھی۔ استعفے میں دو گھنٹے کی تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ ڈپٹی منسٹر بنتے ہوئے اسے پتہ نہیں تھا کہ وزیر صحت کسے بنایا جا رہا ہے۔مارچ میں اٹلی کے وزیر اعظم کو اس لئے اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا کہ اس نے ان فوجیوں کو بھارت کی تحویل میں دینے پر احتجاج کیا تھا جن کی فائرنگ سے بھارتی ماہی گیر ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ ویسا ہی کیس تھا جو پاکستان میں ریمنڈ ڈیوس کے سلسلے میں دیکھنے میں آیا، ریمنڈ تو موقع پر پکڑا گیا مگر جیل سے اڑنچھوہو گیا ۔شاید کچھ لوگوں کو یاد ہو کہ ہمارے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو کن حالات میں مستعفی ہونا پڑا۔ زرداری صاحب ملک کے صرف صدر تھے، وزیر اعظم نہیں تھے مگر وزیر خزانہ ان کی فرمائشیںپوری کرنے سے عاجز آگئے تھے۔اسرائیل میں بھی کسی حد تک اخلاقیات کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم ناتن یاہو کے دفترکے بیورو چیف کو پندرہ سالہ پرانے جنسی الزامات کی وجہ سے استعفی دینا پڑگیا۔ابھی چند دن پہلے مصر میں فوج نے صدر مرسی کو ڈیڈ لائن دی تو اس کے چھ وزیروںنے استعفی دے دیا، ان میں وزیر خارجہ بھی شامل تھے۔پانچ برس قبل جنوبی افریقہ کی پوری حکومت کو مستعفی ہونا پڑا۔پہلے تو صدر مبیکی کو ہٹایا گیا، بعد میں نائب صدر اور کئی وزیروںکے استعفے بھی آ گئے،ان میں وزیر خزانہ کا استعفی ملک کے لئے دھچکا ثابت ہو ا کیونکہ اس نے مسلسل گیارہ سال محنت کر کے اپنے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا تھا اور معیشت پانچ فی صدکی شرح سے ترقی کر رہی تھی،حکومت میں اسی اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں موجودہ صدر زوما الیکشن جیت کر آگے آئے۔ہسپتال میں زیر علاج نیلسن منڈیلا کو یا تو وہ دیکھ رہے ہیں یا منڈیلا کی فیملی کے لوگ، اس لئے کسی کو خبر نہیں کہ منڈیلا کس حال میں ہیں۔یکم جولائی کو پرتگال کے وزیر خزانہ کو اس لئے مستعفی ہونا پڑا کہ اس نے آئی ایم ایف کے دباﺅ پر عوام کو ٹیکسوںکے بوجھ تلے دبا دیا تھا۔فلپائن کی خاتون صدر گلوریا آرویا کو انتخابی دھاندلیوںکے الزامات کی وجہ سے حکومت چھوڑنا پڑی۔بر طانوی وزیر اعظم جان میجر نے پارٹی کا دوبارہ اعتماد حاصل کرنے کے لئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔مصر کے جمال عبدالناصر نے استعفی دیا تھا، قوم نے قبول نہیں کیا،امریکی نائب صدر اگنیو کو مالی الزامات کی وجہ سے حکومت چھوڑنا پڑی، مارکوس، شاہ ایران،ایوب خان،محمد خاں جونیجو،آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت،انڈونیشیا کے صدر سہارتو،ملائیشیا کے مہاتیرمحمد ، سنگا پورکے لی کوان یو ، برطانوی وزیر اعظم گورڈن براﺅن،مصر کے حسنی مبارک اور صدر مرسی،مالدیو کے صدر محمد نشید،اور سترھویں پوپ بینیڈکٹ بھی کرسی خالی کرنے والوں میں شامل ہیں یا کرسی ان سے خالی کروائی گئی۔ وزیر اعظم محمد نوازشریف کو ننانونے میں جنرل مشرف نے ا قتدار سے ہٹایا۔ وزیر اعظم گیلانی عدلیہ کے فیصلے کی وجہ سے گھر گئے۔ ضیا الحق اورمشرف کا انجام سب کے سامنے ہے۔
سعد رفیق پندرہ انسانوں کے خون کی ذمے داری قبول کرتے ہیں یا چند سال بعد بلٹ ٹرین کے مزے لوٹنے کے لئے کرسی سے چمٹے رہتے ہیں ، یہ فیصلہ ان کے ضمیر نے کرنا ہے۔