افسران نے غربت کے خاتمہ کیلئے پروگرام میں کروڑوں کی گاڑیاں مانگ لیں

08 جولائی 2013

لاہور (معین اظہر سے) پنجاب میں بیورو کریسی نے پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں غربت کے خاتمے کیلئے غیر ملکی امداد سے چلنے والے پروگرام میں اپنی غربت مٹانے کا کام شروع کر تے ہوئے کروڑوں روپے کی گاڑیاں خریدنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جنوبی پنجاب میں غربت کے خاتمے کا پروگرام جس میں انٹرنیشنل فنڈز نے زراعت کی ترقی کیلئے بہاولپور ، بہاولنگر ، مظفر گڑھ ، اور راجن پور میں 3 ارب 38 کڑور 30 لاکھ سے پروگرام شروع کیا تھا جس میں 80 ہزار غریب کسانوں کی بہتری کیلئے منصوبے شروع کئے گئے تھے۔ اس پروگرام میں تعینات افسران نے 2 کڑور 45 لاکھ روپے گاڑیوں کی خریداری کیلئے طلب کر لئے ہیں جبکہ اس سال مارچ میں مشینری اور دیگر سامان خریدنے کیلئے بھی انکو تقریباً پانچ کڑور روپے سے زیادہ فنڈزفراہم کئے گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق بہاولپور میں 12800 افراد ، بہاولنگر میں 17600 افراد مظفر گڑھ میں 17600 افراد اور راجن پور میں 32000 ہزار افراد کی غربت دور کرنے کیلئے انٹرنیشنل ڈونر سے پانچ سالہ پروگرام شروع کیا گیا تھا جس کا اب تیسرا سال جاری ہے۔ اس کیلئے محکمہ پی اینڈ ڈی میں ایک پی ایم یو بنایا گیا تھا جس پر ان اضلاع میں تعینات افسران کو پہلے تو لاکھوں روپے تنخواہیں دی گئی پھر ان افسران کو بے تحاشا پراجیکٹ سٹاف رکھنے کی اجازت دی گئی۔ ان کو تیسرے فیز میں دفاتر کی تزئین و آرائش کیلئے تقریباً دو کڑور کے فنڈز دئیے گئے۔ مارچ میں ان کومزید فنڈز فراہم کئے گئے جبکہ نگران حکومت نے ان کو گاڑیاں دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن دوبارہ پی اینڈ ڈی نے ان کا کیس منظوری کیلئے وزیر اعلیٰ کو بجھوایا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک 1300 سی سی گاڑی پراجیکٹ ڈائریکٹر کو دی جائے، اس کیلئے 18 لاکھ 59 ہزار روپے جاری کئے جائیں۔ اسکے علاوہ 7 ڈبل کیبن گاڑیاں جو 2500 ہوں جن میں ٹربو انجن لگے ہوں، گاڑیاں جن میں سے چار پی ایم یو کو فراہم کی جائیں جبکہ تین گاڑیاں ڈسٹرکٹ میں فراہم کی جائیں جن کی مالیت 2 کڑور 23 لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ 3 موٹر سائیکلیں بھی مانگی گئی ہیں جن پر 3 لاکھ 30 ہزار کا خرچہ آئیگا جبکہ جو وجہ بتائی گئی ہے ا س میں کہا گیا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے انٹرنیشنل فنڈز کے سلسلے میں اسلام آباد جاناہوتا ہے اسلئے ان کو نئی گاڑی کی ضرورت ہے جبکہ 7 ڈبل کیبن گاڑیوں کیلئے کہا گیا ہے کہ چونکہ اضلاع میں راستے ہموار نہیں ہیں اسلئے ان راستوں کیلئے بڑی ڈبل کیبن گاڑیاں عملے کو چاہئیں۔