بھارت سے مذاکرات کا جواز نہیں: حمید گل، بات چیت ہونی چاہئے: اقبال احمد

08 جولائی 2013
بھارت سے مذاکرات کا جواز نہیں: حمید گل، بات چیت ہونی چاہئے: اقبال احمد

لاہور (خبر نگار+ سپیشل رپورٹر) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے جب حکمران بھارت سے گرمجوشی سے گلے ملنے لگیں، راکھی بندھوانے لگیں، سرحدوں پر دیئے جلانے لگیں، کشمیریوں کی قربانیوں کو فراموش کرنے لگیں تو قوم کو باہر آنا چاہئے اور حکومت پر دباﺅ بڑھانا چاہئے۔ اگر 62-63 کیلئے اسلام آباد میں دھرنا دیا جا سکتا ہے تو پاکستان کے استحکام، سلامتی کیلئے بھی دیا جا سکتا ہے۔ بھارت پاکستان میں کھلم کھلا دہشت گردی میں ملوث ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت پر دباﺅ کہاں سے آئے گا جب حکمران بک چکے ہیں لیکن 18 کروڑ پاکستانی قوم ابھی زندہ ہیں۔ جب تک بھارت سے کشمیر، سرکریک، سیاچن، پانی کے مسائل طے نہیں ہو جاتے، بھارت دہشت گردی بند نہیں کرتا تب تک اس سے تجارت کا جواز نہیں ہے۔ پاکستان کو اس وقت ایک بڑے لیڈر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کے چین کے دورے سے امید بندھی ہے، چین کھل کر بھارت کی مخالفت کرتا ہے۔ دریں اثناءسابق سفیر اقبال احمد خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہو جانا چاہئے بلکہ اس کو تو رکنا ہی نہیں چاہئے تھا لیکن بڑے فیصلوں کیلئے ہمیں بھارت کے الیکشن کے بعد کا انتظار کرنا پڑے گا تاہم وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے بھارت کے حق میں بیانات پر بھارت نے موقع ضائع کیا۔ بھارتی وزیراعظم کو پاکستان آ کر سیاچن اور سرکریک کا مسئلہ حل کرنا چاہئے تھا۔ بات چیت کے عمل کو ایل او سی کو ایشو بنا کر روکنا نہیں چاہئے، بات چیت ہر وقت جاری رہنی چاہئے۔