پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا فیصلہ تشویشناک ہے: انٹرنیشنل جیورسٹس کمشن

08 جولائی 2013
پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا فیصلہ تشویشناک ہے: انٹرنیشنل جیورسٹس کمشن

اسلام آباد (رائٹرز) پاکستان کی موجودہ حکومت نے پھانسی کی سزاﺅں پر عملدآرمد کا جو فیصلہ کیا ہے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی جانب سے اس پر تشویش اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ انٹرنیشنل کمشن آف جیورسٹس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے۔ کمشن کے مطابق اس فیصلے کی سنگینی اس لحاظ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد غیرمعمولی طور پر بہت زیادہ ہے۔ کمشن کے مطابق پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں موت کی سزا برقرار اور اس پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ پاکستانی جیلوں میں اس وقت سزائے موت کے 8ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیورسٹس کمشن