پشاور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن کو اغوا کرنے کی کوشش کا انکشاف

08 جولائی 2013

پشاور (نوائے وقت نیوز) پشاور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ایک رکن کو چاند نظر آنے کی شہادتوں کو تسلیم کرنے کیلئے دباﺅ ڈالنے اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش کے باعث 9 سال سے پشاور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہ ہو سکا جس کے باعث روزہ اور عید کے حوالے سے تنازع ختم ہونے کی بجائے مرکز اور صوبے میں فاصلے مزید بڑھ گئے جو پارلیمنٹ میں قانون سازی ہونے تک ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ایک سابق رکن شبیر احمد کاکاخیل نے ہفتے کو صوبائی وزیر مذہبی امور حبیب الرحمن کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں اس بات کا انکشاف کیا کہ متحدہ مجلس عمل کے دور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے پشاور میں مفتی منیب الرحمن کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران مانکی شریف سے تعلق رکھنے والے افراد چاند نظر آنے کی شہادت لے کر آئے تاہم جب ان کی شہادتوں کی جانچ پڑتال کی گئی تو وہ شرعی اعتبار سے مکمل نہیں تھیں۔ ان لوگوں کا اصرار تھا کہ ان کی شہادتوں کو قبول کیا جائے اور ہمارے انکار پر انہوں نے زبردستی انہیں گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔