اے پی سی : چودھری نثار کے سیاسی رہنماﺅں کو فون‘ دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں : متحدہ

08 جولائی 2013
اے پی سی : چودھری نثار کے سیاسی رہنماﺅں کو فون‘ دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں : متحدہ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) 12 جولائی کو قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کے لئے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے رابطے شروع کر دئیے ہیں۔ وزیر داخلہ نے گزشتہ روز (ق) لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین‘ جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن‘ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ‘ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ اختر مینگل‘ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان‘ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار‘ محمود اچکزئی اور دیگر رہنما¶ں کو فون کر کے انہیں وزیراعظم کی طرف سے قومی سلامتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ قومی سلامتی کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمے‘ فرقہ واریت کے سدباب اور ملک میں امن و امان کو مستحکم بنانے کے لئے اتفاق رائے سے ایک پالیسی تشکیل دے گی‘ قومی سلامتی پالیسی میں ڈرون حملوں کے خاتمے کے سلسلے میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ کانفرنس میں چیف آف آرمی سٹاف‘ مسلح افواج کے دوسرے سربراہ‘ انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ‘ وزارت خارجہ کے حکام بھی شریک ہوں گے۔ قابل اعتماد ذرائع نے نوائے وقت کو بتایا ہے کہ وزیراعظم نے بیجنگ سے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان سے رابطہ کر کے انہیں 12 جولائی کی کانفرنس میں شرکت کے لئے سیاستدانوں سے رابطوں کی ہدایت کی تھی۔ آئی این پی کے مطابق چودھری نثار نے شجاعت حسین اور منور حسن سے ملک کی سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر بات چیت بھی کی۔ ذرائع کا کہنا ہے دونوں رہنماﺅں نے دعوت قبول کر لی ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے 12 جولائی کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اے پی سی میں شرکت کرینگے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہمیشہ قومی پالیسی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد (جاوید صدیق) 12جولائی کو وزیراعظم سیکرٹریٹ میں منعقد ہونے والی قومی سلامتی کانفرنس میں وزیراعظم کے مشیر برائے سلامتی امور اور خارجہ امور سرتاج عزیز حکومت کی جانب سے نئی سلامتی پالیسی کا ایک خاکہ پیش کریں گے جس پر سیاسی و عسکری رہنما اپنی آراءاور تجزیہ پیش کریں گے۔ نوائے وقت کو معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ قومی سلامتی کے عسکری اداروں کے سربراہ اس وقت ملک میں پائی جانے والی امن و امان کی صورت حال اور اس کے محرکات سے متعلق بریفنگ دیں گے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک م¶ثر قومی پالیسی نہ ہونے کے باعث اور سلامتی کے اداروں کی استعداد کار‘ رابطوں کے فقدان اور وسائل کی کمیابی سمیت اہم امور پر تفصیل سے غور کیا جائے گا۔ ان ذرائع کے مطابق حکومت نئی قومی سلامتی پالیسی کو پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کرے گی۔
سرتاج عزیز