لاہور : دھماکے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا‘ سرچ آپریشن میں 200 گرفتار‘ بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے‘ سی سی پی او‘ لوگ خود بھی اپنی حفاظت کا انتظام کریں : آئی جی

08 جولائی 2013

 لاہور(نامہ نگار+سٹاف رپورٹر) پرانی انارکلی میں واقع فوڈ سٹریٹ میں بم دھماکے کا ایک اور زخمی جاں بحق ہوگیا جس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔ پولےس و قانون نافذکرنے والے اداروں نے دھماکے کے بعد صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے 200مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ پولےس نے خصوصی طور پر ایئر پورٹ سے ملحقہ آبادیوں میں سرچ آپریشن کےا رہائشےوں کے کوائف بھی چےک کئے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے جن افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان مےں اکثرےت پٹھانوں اور دیگر افغانےوں کی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے سرچ آپریشن جاری رہے گا۔ گرفتار افراد مےں سے شناخت پےش کرنے والے افراد کو چھوڑ دےا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہرمےں سکیورٹی ہائی الرٹ کرکے پولےس گشت بڑھا دےا تھا چےکنگ کےلئے پولےس نے خصوصی ناکے لگائے گئے۔ جہاں تعےنات اہلکار مشکوک گا ڑےوں کو چےک کرتے رہے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی گاڑےوں کی چےکنگ کی گئی۔ حساس اداروں و پولیس افسروں کے دفاتر اور اہم عمارتوں و مزاروں کے باہر سکیورٹی انتظامات کو سخت کرتے ہوئے وہاں بھاری رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ مزےد مسلح اہلکاروں کو بھی تعینات کر دےا گیا ہے۔ شہر مےں اہم مزاروں کی سےکورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ دوسری جانب آئی جی پولیس پنجاب خان بیگ نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کے لئے خود بھی انتظام کریں۔ دھماکے سے متاثر ہونیوالی دکانوں کے مالکان نے بکھرا ہوا سامان اکٹھا کیا۔ فوڈ سٹریٹ میں بم دھماکے کی جگہ کے معائنے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس خان بیگ نے کہا کہ رمضان المبار ک میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائینگے، انارکلی فوڈ سٹریٹ میں سکیورٹی کے انتظامات مناسب تھے ،جلد ہی واقعے میں ملوث ملزم قانون کی گرفت میں آجائینگے فوڈ سٹریٹ میں مناسب سکیورٹی فراہم کی گئی تھی تاہم شہر بھر کے بازاروں، مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے دکانداروں سے اپیل کرتے ہیں کسی بھی قسم کی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کےلئے حکومت کے ساتھ ساتھ خود بھی اپنے گرد و نواح پر نظر رکھیں اور نجی سکیورٹی کا بندوبست کریں تاکہ دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران لگائے جانے والے بچت اور ہفتہ وار بازاروں میں سکیورٹی کو فول پروف بنانے کےلئے سادہ لباس پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ پولیس دہشتگردوں سے نمٹنے کےلئے پر عزم ہے انشاءاللہ قوم کیساتھ ملکر ان عناصر کو شکست دیں گے۔ دریں اثناءانارکلی پولیس نے زخمی دو بھائیوں کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے جان ولی اور جان محمد کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جان ولی انارکلی میں جوتے اور جان محمد عینکیں بیچتا تھا وہ ساﺅتھ سرجیکل وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ آئی جی نے کہا کہ دھماکے کی تحقیقات کے بعد ہی صورتحال واضح ہوگی، تمام پبلک مقامات پر فول پروف سکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔ پولیس کی طرف سے علاقے میں سکیورٹی اقدامات مناسب تھے، دوسری طرف سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہے تاہم بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس نے اتوار بازاروں سمیت اہم عمارتوں اور مقامات کی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ پولیس کے مطابق زیر حراست افراد کے پاس شناختی دستاویزات مکمل نہےں تھیں۔ فوڈ سٹریٹ کے مکینوں سے ان کے ہاں آنیوالے مہمانوں کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس نے دھماکے کی جگہ سے متعدد لاوارث موٹرسائیکلیں اور سائیکلیں قبضہ میں لے لی ہیں۔ دھماکے میں زخمی ہونیوالوں کا ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ میو ہسپتال میں 30، گنگا رام ہسپتال میں 6 اور سروسز ہسپتال میں بھی 6 زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیاگیا جس میں لوہے کی پتریاں بھی استعمال کی گئیں۔ علاقے کی فضا سوگوار رہی، فوڈ سٹریٹ میں موجود دکانوں کا سامان بکھرا پڑا ہے۔ پولیس نے دھماکے کی جگہ کو ٹےنٹ لگا کر بند کر رکھا ہے۔ عبادتگاہوں‘ غیر ملکی باشندوں ‘ بڑے ہوٹلوں ‘ اہم سرکاری و نجی عمارتوں پر بھی تعینات اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے پولیس حکام حفاظتی انتظامات کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ اتوار بازاروں میں خریداری کے لئے آنےوالوں کو جامہ تلاشی کے بعدبازار کے احاطے میں داخل ہونے دیا گیا۔ پولیس پرانی انار کلی فوڈ سٹریٹ میں دھماکے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
لاہور(نامہ نگار) پرانی انارکلی فوڈ سٹریٹ میں بم دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم فرحان تسلیم اور چھ سالہ بچی سعدیہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں ارکان اسمبلی کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کے علاوہ مرحومین ک عزیز و اقارب کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جاںبحق ہونیوالی چھ سالہ سعدیہ کی نماز جنازہ مسجد نیلا گنبد میں ادا کی گئی جس میں رکن صوبائی اسمبلی ماجد ظہور کے علاوہ علاقے کی نامور شخصیات اور عزیز و اقارب نے شرکت کی۔ نجی ٹی وی کے اکاﺅنٹنٹ سلمان تسلیم کے بھائی پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم فرحان تسلیم کی نماز مغلپورہ میں ادا کی گئی جس میں رکن صوبائی اسمبلی باﺅ اختر کے علاوہ معززین علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد دونوں میتوں کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ فوڈ اسٹریٹ میں کھانا کھانے کیلئے آئے ہوئے 16 سالہ سلمان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، اہل خانہ نے تمام ہسپتال چھان مارے۔ لاہور کے رہائشی محمد رفیق نے بتایا کہ اسکا 16 سالہ بیٹا سلمان ہفتہ کی رات پرانی انارکلی فوڈسٹریٹ میں کھانا کھانے کیلئے آیا۔جب ہم دھماکے کی اطلاع ملی تو ہم پہلے پرانی انارکلی فوڈ سٹریٹ پہنچے لیکن وہاں اسکا کوئی سراغ نہ مل سکا جسکے بعد ہم نے اسکی تلاش میں لاہور کے تمام ہسپتال چھان مارے ہیں لیکن اسکی کوئی خبر نہیں ملی۔اس دھماکے میں سوفٹ ویئر انجینئر کا طالبعلم 20 سالہ فرحان تسلیم بھی جاں بحق ہوا وہ سوفٹ ویئر انجینئرنگ میں ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتا تھا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ فوڈ سٹریٹ میں کھانا کھانے گیا اسے کیا معلوم تھا کہ دوسرے لوگ اس کی موت پر اس کے والدین کو پرسہ دے رہے ہوں گے۔ فرحان تسلیم سپرد خاک کردیا گیا لیکن اس کی یادیں ہمیشہ چاہنے والوں کو رلاتی رہےں گی۔ جاں بحق ہونے والے 4 افراد کی نعشیں ورثا کے حوالے کی گئی ہیں۔ بھلوال اور حویلی لکھا سے نامہ نگاروں کے مطابق انارکلی لاہور میں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے سی ایس ایس کے طالبعلم شجاع الرحمن کو بھلوال جبکہ درزی منظور احمد کو حویلی لکھا میں گزشتہ روز سپرد خاک کردیا گیا۔ سی ایس ایس کے طالب علم شجاع الرحمن کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما چودھری مبشراحمد گجر نے پڑھائی، نماز جنازہ میں سیاسی ،سماجی اور مذہبی شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ قبل ازیں جب شجاع الرحمن کی میت لاہور سے گاﺅں پہنچی تو گاﺅں میں کہرام مچ گیا، مرحوم کی بیوی پر سکتہ طاری ہوگیا جبکہ والدہ بیہوش ہوگئی۔ شجاع الرحمن نواحی چک نمبر5 جنوبی کے زمیندار عبدالرحمن کا بیٹا تھا ۔ مرحوم اپنے چاروں بھائیوں اور ایک بہن سے بڑا تھا۔ علاوہ ازیں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے حویلی لکھا کے درزی منظور احمد کو انکے آبائی گاﺅں میں سپرد خاک کیا گیا۔ منظور کے والد جمال دین سکنہ محلہ شکور آباد نے بتایا کہ اسکا بیٹا عرصہ 20 سال سے لاہور میں رہائش پذیر تھا بیوہ کے علاوہ اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ملک دشمن عناصر کی اس ظالمانہ حرکت سے دلبرداشتہ نہیں ہونگا۔
سپرد خاک