افغانستان میں شدت پسندوں نے کارروائیاں بڑھا دیں، پاکستانی مدارس کا ہاتھ ہے: افغان جنرل‘سرحد کے قریبی صوبوں میں 3ہزار شدت پسند موجود ہیں، اکثریت پاکستانیوں، چیچن کی ہے، میجر جنرل یفتالی

08 جولائی 2013
افغانستان میں شدت پسندوں نے کارروائیاں بڑھا دیں، پاکستانی مدارس کا ہاتھ ہے: افغان جنرل‘سرحد کے قریبی صوبوں میں 3ہزار شدت پسند موجود ہیں، اکثریت پاکستانیوں، چیچن کی ہے، میجر جنرل یفتالی

کابل (نوائے وقت رپورٹ/ رائٹر) افغان جنرل شریف یفتالی نے کہا ہے کہ پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان کے صوبوں میں شدت پسندوں نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ شدت پسندوں کی تعداد میں گذشتہ سال کی نسبت 15فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان افغان سرحد کے قریبی صوبوں میں 3ہزار شدت پسند موجود ہیں۔ شدت پسندوں میں بڑی تعداد پاکستانیوں اور چیچن باشندوں کی ہے۔ گذشتہ گرمیوں میں پاکستان سے ملحق افغان سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس میں پاکستانی مدارس کا بھی ہاتھ ہے اور انہوں نے ان علاقوں میں کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ دوسری جانب حکومتی فورسز نے بھی مشرقی افغانستان میں سکیورٹی حالات کو بہتر بنایا ہے۔ مشرقی سرحد پر واقع افغانستان کے 7اہم صوبوں میں فورسز کی کمانڈ کرنیوالے میجر جنرل محمد شریف یفتالی کا کہنا ہے کہ گذشتہ گرمیوں میں 15فیصد اضافے کے ساتھ ان کے زیرنگیں علاقوں میں جنگجوﺅں کی تعداد 5ہزار ہو گئی ہے جن میں بہت سے پاکستانی اور چیچن باشندے بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغان آرمی چیف نے جنرل شیر محمد کریمی کے مطابق افغانستان میں حالات کو خراب کرنے کیلئے پاکستان میں جنگجوﺅں کو سپورٹ کرنے والوں نے بہت سے مدارس بند کرکے اپنے طلبہ کو افغانستان بھیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 3500مدرسے ہیں اگر ہر مدرسے سے صرف پانچ افراد لڑنے کے لئے بھیج دئیے جائیں تو بات کہاں پہنچ جائیگی۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی چاہے تو اپنے ملک میں طالبان بغاوت کا سامنا کرنے کے بجائے افغانستان میں 12سال سے جاری جنگ چند ہفتوں میں بند کر سکتی ہے۔ ساتھ ساتھ افغان فورسز کے میجر جنرل یفتالی نے بتایاکہ افغان فورسز نے نیٹو کی کم سے کم مدد کے ساتھ ان صوبوں میں سکیورٹی کی حالات بہتر کی ہے اور گذشتہ تین ماہ میں ساڑھے چھ سو جنگجوﺅں کو ہلاک کیا ہے۔ ان صوبوں میں اب ڈیڑھ لاکھ طالبات سکولوں میں جا رہی ہیں، تمام بڑی شاہراہوں کو شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔
افغان آرمی چیف