چین کیساتھ ہونیوالے بعض معاہدوں پر ایک ماہ میں عملدرآمد شروع ہو جائیگا : شہباز شریف

08 جولائی 2013

لاہور(خبر نگار) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ چینی قیادت کی ذاتی دلچسپی کے بغیر پاکستانی قیادت کے دورہ چین کی کامیابی ممکن نہیں تھی۔ چینی حکومت نے پاکستان چین دوستی کا حق ادا کر دیا ہے اس دورے کے نتیجے میں پنجاب میں توانائی‘ ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے کئی منصوبوں کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ چین کے صنعتی شہر گوانگ ژو پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کے معاہدوں کے علاوہ حکومت پنجاب کے وفد نے چین کی سرکاری تعمیراتی کمپنی سے صوبے کے 5 شہروں لاہور‘ ملتان‘ فیصل آباد ‘ رولپنڈی اور گوجرانوالہ میں میٹروبس سسٹم اور انڈرگراﺅنڈ بس سروس کی تعمیر کا ابتدائی معاہدہ کیا ہے۔ اربوں روپے مالیت کے یہ منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر مکمل کئے جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے چینی کمپنی کا وفد عنقریب پنجاب کا دورہ کرے گا۔ اسی طرح چین کی ایک کمپنی نے کوئلے کے حصول کے لئے چنیوٹ رجوعہ پراجیکٹ کی سٹڈی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقام پر پائے جانے والے کوئلے کی مقدار 600ملین ٹن سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں جہاں بھی گیا‘ چینی ماہرین نے لاہور میں تعمیر ہونے والی میٹروبس سروس کی تعریف کی اس کے معیار کو سراہا۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان میں ہمارے کچھ کوتاہ نظر دوست اس بس سروس پر تنقید کرنے سے باز نہیں آتے۔ شمسی توانائی کے منصوبوں میں ہسپتالوں‘ تعلیمی اداروں اور سٹریٹ لائٹس کو ترجیح دی جائے گی۔ نندی پور پاور پراجیکٹ کی بحالی حکومت پنجاب کی شفافیت پر بین الاقوامی اعتماد کا ایک اور مظہر ہے۔ چین سے جاری بیان میں وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین سے ہونیوالے کچھ معاہدوں پر عملدرآمد ایک ماہ میں شروع کر دیا جائیگا۔ چین سے توانائی کی پیداوار میں اضافے کےلئے رہنمائی لے رہے ہیں۔ چین سے توانائی کی پیداوار کے ساتھ بجلی کے ضیاع اور چوری ختم کرنے کےلئے بھی رہنمائی لے رہے ہیں۔ چین کے ساتھ ہونیوالے معاہدوں پر عملدرآمد کی رفتار کا جائزہ لینے کےلئے مانیٹرنگ سسٹم قائم کر دیا ہے۔ چین میں پانچ روزہ قیام کے دوران وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق 30 سے زائد کمپنیوں کے سربراہوں اور ان کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں یا ان کے اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ انہوں نے اس دوران انرجی کے شعبے میں کام کرنے والی کئی فیکٹریوں کا دورہ کیا۔ صبح سات بجے سے رات گئے تک جاری رہنے والی ان ملاقاتوں میں شریک چین کی سرکاری، نیم سرکاری اور نجی کمپنیوں کے سربراہ اور ارکان وزیراعلی پنجاب کے کام کرنے کی رفتار اور متعلقہ شعبوں میں ان کی معلومات پر حیران رہ گئے۔ چین میں شمسی توانائی کی سب سے بڑی کمپنی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کو بجلی کے بدترین بحران کا سامنا ہے تاہم شہباز شریف جیسے رہنما¶ں کی موجودگی میں اس بحران پر قابو پانا ناممکن نہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے تحت انرجی فورم میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب کی مساعی کو سراہا اورکہا کہ دورے کے دوران ان کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان کئی معاہدے عمل میں آئے ہیں۔ محمد شہباز شریف نے اپنے ساتھ اپنے وفد کے ارکان کو بھی مصروف رکھا انہیں تفریح یا نجی مصروفیات کے لئے کوئی وقت نہ مل سکا۔
شہباز شریف