طالبان سے مذاکرات کیلئے جلدازجلد جامع پالیسی تیار کی جائے: فضل الرحمن

08 جولائی 2013

اسلام آباد (آن لائن) جمعیت علماءاسلام (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور طالبان سے مذاکرات کےلئے جلد ازجلد جامع پالیسی اور حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ ملک معاشی و معاشرتی طور پر مستحکم ہوسکے جبکہ جے یو آئی نے دوسرے مرحلے میں وفاقی کابینہ میں شمولیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے حکومت کا ساتھ وفاقی وزراتوں کےلئے نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کا ساتھ وسیع تر ملکی مفاد میں دیا۔ طالبان مذاکرات کےلئے گرینڈ جرگہ کی حمایت کےلئے کوئی وفد اکوڑہ خٹک نہیں گیا۔ یہ باتیں ”آن لائن“ سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی ترجمان جان اچکزئی نے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا موقف بالکل واضح ہے اور وہ بارہا مرتبہ کہہ چکے ہیں انہوں نے حکومت کا ساتھ صرف اور صرف ملک کے وسیع تر مفاد میں دیا۔ انہوںنے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر سیاسی جماعت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں البتہ ہماری تجاویز اور ترجیحات سے مسلم لیگ (ن) نے سو فیصد اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بطور پارٹی ترجمان وہ اس خبرکی تصدیق نہیں کرسکتے کہ حکومت نے وفاقی کابینہ میں شمولیت کےلئے دو نام طلب کئے ہیں۔ واضح رہے کہ دوسری جانب یہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ جے یو آئی (ف) سے حکومت نے وفاقی کابینہ میں شمولیت کےلئے دو نام طلب کرلئے ہیں اور وزیراعظم کے دورہ¿ چین کے بعد جے یو آئی (ف) باقاعدہ وفاقی کابینہ میں شامل ہوکر حکومت کا حصہ بن جائےگی۔