” مجھے لاہور تو، جانا پڑے گا !“

08 جولائی 2013

بابا بُلّھے شاہؒ نے، کہا تھا ۔۔۔
” حاجی لوک،مکّے نُوں جاندے
تے میرا ،رانجھا ماہی، مکّہ “
بابا بُلّھے شاہ ۔ولی تھے ۔انہوں نے جب ، یہ کہا ہوگا تو،ممکن ہے وہ ۔”فنافی اُلرسول “۔کی کیفیت میں ہوں ۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کی نگری ،لاہور ، علّامہ اقبالؒ کا بھی مسکن ہے اور میرے لئے ۔زیارت گاہ۔لاہور نے ، بےشمار غیر لاہوریوں کو ،عِزت اور شہرت بخشی اورمجھے بھی بہت کچھ نوازا۔لاہور ہی میری پہچان ہے ۔میرے والدین اور بڑی بیگم۔ اختر بانو بھی لاہور میں دفن ہیں ۔لاہور مجھے، بار بار تروتازہ کر دیتا ہے۔ 13اگست2012ءکوبھی، یہی ہُوا،جب محترم مجید نظامی کی شفقت سے۔”نوائے وقت“۔ میں میری کالم نویسی کا نیادَور شروع ہُوا ۔ علّامہ اقبالؒ نے ،اپنی نظم ۔”ہمالہ“ ۔میں ۔کوہ ہمالہ کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا تھا ۔۔۔
” تُجھ میں کچھ ، پیدا نہیں ،دیرینہ روز ی کے نشاں
 تُو جواں ہے ،گردشِ شام و سحر کے درمیاں“
 محترم مجید نظامی میں بھی۔کوہ ہمالہ۔ کی سی خصوصیات ہیںاوراُن کا ہر ساتھی ، ایک چٹان کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن، نظریہءپاکستان ٹرسٹ اور کارکنانِ تحریکِ پاکستان میں۔اُن کے مُرید (اور میرے برادرِ خورد ) ۔ سیّد شاہد رشید تو، اپنی جگہ طوفان ہیں۔لاہور میں جب میرے کسی رشتہ داریا دوست کے بیٹے /بیٹی کی شادی ہوتی ہے تو، مَیں ضرور جاتا ہُوں۔13 نومبر 2010ءکو، جب ایک شادی کے اختتام کے بعد ، مَیں اپنے بھانجے ، شجاع سلیم کے ساتھ اُس کے گھر چلا گیا تو،میری بیٹی عاصمہ ،داما د معظم ریاض اور اُن کے 5 ماہ کے بیٹے علی امام کو، ماڈل ٹاﺅن میں، میرے چھوٹے بھائی سلیم چوہان کے گھرکے گیٹ پر ،ڈاکوﺅں نے گھیر لِیااور علی امام کی کنپٹی پر پستول رکھ کر میری بیٹی کے سارے زیورات اُتروا لئے ۔تین ماہ بعد،مَیں اُن کے ساتھ ،لاہور میں، ایک دوست کی بیٹی کی شادی میں پھر چلا گیا اور ایک نظم بھی لِکھ دی جِس کا مطلع تھا ۔۔۔
” غمِ ڈاکہ زنی ،کھانا پڑے گا
مجھے لاہور تو، جانا پڑے گا “
علامہ اقبالؒ کو، انگریز سرکار نے۔"Sir" ۔کا خطاب دینا چاہا تو،انہوں نے لِکھا کہ ۔” پہلے آپ ،میرے پرائمری کے ٹیچر ۔ مِیر حسن صاحب کو ۔” شمس اُلعلماء“ ۔ کا خطاب دیں“ ۔جناب ِ نظامی کے انگریزی اخبار ۔"The Nation" ۔ کے لاہور کے ایڈیٹر ۔سیّد سلیم بُخاری نے ۔1973ءمیں، صحافت کا پرائمری سبق مُجھ سے پڑھا اور مجھے کئی بار۔ ” شمس اُلعلمائ“۔ کا خطاب دِلوایا۔سلیم بُخاری کے والد۔سُپرنٹنڈٹ پولیس،سیّد مختار حسین شا ہ ، میرے دوست تھے اور اُنہوں نے ،حُکمرانوں کا آلہءکارنہ بننے کے ۔”جُرم“۔ میں کئی بار تبادلے اور معطلی کی سزا پائی ، لیکن اپنی۔”عِزّتِ سادات“۔کو کبھی مجروح نہیں ہونے دِیا۔ 1961ءسے 1969ءتک ، سرگودھا سے لاہور تک ،پولیس اور سپیشل برانچ کی رپورٹس کے مطابق، میرا ۔ ” چال چلن “ ۔ خراب تھا اور مجھے اپنا اخبار جاری کرنے کی اجازت نہیں مل رہی تھی، لیکن ۔"The Nation"۔ کے کالم نگار ۔اعظم خلیل سے جب میری دوستی ہوئی تو، انہوں نے ۔اپنا سرکاری اثر و رسوخ استعمال کر کے، 1970ءمیں مجھے ،ایک ہفت روزہ کا مالک بنوا دِیا۔ دوستی نبھانے میں اعظم خلیل کاریکارڈ،اگر کوئی توڑ سکتا ہے تو، وہ ہے خود اعظم خلیل۔نامور شاعر جناب قتیل شفائی بھی میرے دوست تھے ۔جنہوں نے کہا تھا ۔ ۔۔” اُڑتے اُڑتے ، آس کا پنچھی ،دُور اُفق میں ڈُوب گیا“۔ لیکن ۔”نوائے وقت“۔ کے ڈپٹی ایڈیٹر ۔برادرم سعید آسی نے ۔”آس کے پنچھی “۔کو اپنے دِل کے پنجرے میں قید کر رکھا ہے ۔”جب ذرا گردن جھُکائی ، دیکھ لی “۔آسی ۔رجائیت پسند ۔(Optimistic) ۔ ہونا بہت بڑی خوبی ہے ۔مَیں نے ،بریگیڈئر ریٹائرڈ سیّد افضال حسین شاہ کواپنے ہزاروں مُریدوں اور دوست احباب میں یہ۔” تبرک “۔ فراخدِلی سے بانٹتے دیکھا ہے۔سیّد صاحب ۔ محترم مجید نظامی کو۔ ” مجاہد ملت “ قرار دیتے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ ”نظریہ ¿پاکستان کی ترویج و اشاعت اور جمہوریت کے استحکام کے لئے محترم مجید نظامی نے، اپنے بڑے بھائی، جناب حمید نظامی کی نسبت ، شاید زیادہ جدوجہد کی ہے “۔
سید افضال حسین شاہ صاحب ،اپنے دادا ۔ (چشتیہ ، صابریہ ،قادریہ سلسلے) کے ،معروف صُوفی۔ حضرت پِیر سیّد محمد امین شاہ کے گدّی نشین ہیں۔ اُن کے بیٹے، بھتیجے اور بھانجے ، سِول اور فوجی اسٹیبلِشمنٹ کے اہم ستون ہیں، جنہیں وہ۔خُدا کے بندوں کی ،خاموشی سے خدمت کرنے کی ہدایت کرتے ہیں ۔وہ کہتے ہیںکہ۔”صوفی اور مولوی کا مِشن ایک ہی ہے۔ دونوں اپنے اپنے انداز میں ، خُدا کے بندوں کو ، خُدا کے قریب لاتے ہیں “۔سید صاحب، عمر میں مجھ سے ڈیڑھ سال چھوٹے ہیں، لیکن میں انہیں اپنا بزرگ مانتا ہوں۔ اُن سے مل کر جو سکون ملتا ہے ، وہ کسی حکمران سے مل کر نہیں ۔ 7جولائی کو ، لاہور میں سیّد افضال حُسین شاہ کے بھانجے ۔سیّد اعجاز حُسین، کی بیٹی ۔”شفق “۔ کی شادی پر ۔سیّد افضال حُسین شاہ صاحب نے مجھ سے بغلگیر ہو کر کہا ۔ ” اثر چوہان صاحب ! آپ میرے بھائی ہیں اور میں آپ کو اپنا فیملی ممبر سمجھتا ہوں“۔ تو مجھے حضرت مہر علی شاہ کا یہ مصرع یاد آگیا۔”کتھے مہر علی، کتھے تیری ثناء، گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں “۔شادی میں ، سِول اور مِلٹری ، بیوروکریسی ، سیاسی و سماجی شخصیات ،صحافیوں اور انفارمیشن گروپ کے لوگوں کی بڑی تعداد تھی ۔مجھے اپنے پُرانے دوستوں سے مِل کر بہت اچھا لگا ۔”Message “ کے سہیل عزیز۔ اورکئی دوستوں نے ، گلہ کیا۔ ” اثر چوہان صاحب ! چوری چُھپے لاہور آ کے، واپس اسلام آباد چلے جاندے او ، تاں سانوں پتا لگدا اے“۔میرے پاس کھسیانی سی مسکراہٹ کے سوا کوئی جواب نہیں تھا۔ سیّد اعجاز حسین ، میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں،جب وہ اپنی بیٹی کو رُخصت کر رہے تھے تو،مَیں نے اُن کے چہرے پر،وہ سکُون دیکھا جو، مَیں نے ، باری باری اپنی چاروں بیٹیوں کو رُخصت کرتے وقت محسوس کِیاتھا۔اعجاز صاحب کے والدین۔ لندن میں سیٹل ہیں ۔ اُن کے والد ،سیّد سجاد حسین شاہ اور دو نوںچھوٹے بھائیوں سیّد عباس حسین شاہ اورسیّد سہیل حسین شاہ کا بہت بڑا کاروبار ہے ، اور وہ لندن میں برطانوی قوانین کے معتوب پاکستانیوں کی بہت مددکرتے ہیں۔ مجھے 2006 ءمیں ، اُن کے گھر جانے کا موقع ملا۔ ڈرائنگ روم میں قائد اعظم کی بہت بڑی تصویرآویزاںہے۔ صاحبِ تصویر کے بارے میں، انگریزمہمانوں کو ، خاص طور پر بتایا اور سمجھایا جاتا ہے۔سیّد اعجاز حُسین کو لندن سے صرف اتنی دلچسپی ہے کہ وہاں اُن کے والدین ،دو بھائی اور بیوی بچے رہتے ہیں، وہ اپنے ماموں،سیّد افضال حُسین شاہ اور لاہور کی محبت میں گرفتار ہیںاور ۔ ” لہوری اور پاکستانی کہلانا ہی پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ مَیں نے اپنے بچوں کو وصیت کر رکھی ہے کہ۔انتقال کے بعد ،مجھے لاہور میں ،اپنے والدین کے قدموں میں دفن کِیا جائے ۔تو صاحبو!۔۔۔
” مجھے لاہور تو، جانا پڑے گا “