ایک بہو کا سوال ہے بابا

08 جولائی 2013

یوں تو ہماری بہن طیبہ ضیاءبہت اچھے سماجی اور سیاسی کالم لکھتی ہیں۔ مزاج صوفیانہ رکھتی ہیں۔ مگر اس ہفتے جو انہوں نے ”ضرورت رشتہ“کا کالم لکھا ہے۔ اس نے ہمارادل موہ لیا اور بے اختیار داد دینے کو دل چاہا۔ داد کیا دیں یوں لگتا ہے۔ انہوں نے میری ہی روداد لکھ دی ہے۔ میں اپنے سب سے چھوٹے بیٹے حسن کےلئے گزشتہ ایک سال سے بہوکی تلاش میں ہوں۔ اور میرے ساتھ وہ سب کچھ پیش آرہا ہے۔ جس کی تفصیل بڑی خوبصورتی سے طیبہ ضیاءنے لکھ دی ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے میری جیسی ماﺅں نے اپنے بیٹوں کو اپنی تہذیب اور اپنے ماحول کی تربیت دے کرغلطی کی ہے جدید دورکی لڑکی بڑی تیزی سے مغربی تہذیب و تمدن کے پروں پر سوار ہوتی جا رہی ہے میرا بیٹا رہتا تو اشک آباد میں ہے۔ مگر وہ کاروبار کے سلسلے میں تقریباً ساری دنیا کا سفر کرتا ہے۔ زیادہ قیام اس کا دبئی میں ہوتا ہے۔ وہاں اس کا ایک دفتر بھی ہے۔ دبئی میں بے شمار پاکستانی لڑکیاں جاب کرتی ہیں۔ اب پاکستانی لڑکیوں کو ہر ملک میں باآسانی جاب مل جاتے ہیں۔ کیونکہ پاکستانی لڑکیاں محنتی بھی ہوتی ہیں۔ لائق بھی اوردیانت دار بھی پھر والدین بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ بعض حالات میں پاکستانی شوہر بھی انہیں ملازمت جاری رکھنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ گھمبیر ہوتا جاتا ہے مرد تو ہر عمر میں شادی کر لیتا ہے۔ مگر لڑکی کی ایک خاص عمر ہوتی ہے شادی کی جب ملازمت پیشہ لڑکی گھر بیٹھے ہی 35/34 سال کی ہو جاتی ہے۔ تو پھر والدین کو فکر لاحق ہوتی ہے۔ لیکن تب تک لڑکی کے آئیڈلز بہت اونچے ہو چکے ہوتے ہیں۔ اگر تو دفاترکے اندر ہی کسی ہم پیشہ ہم مذہب اور ہم عمرسے انڈر سینڈنگ ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ لڑکیاں سدا خوب سے خوب ترکی تلاش میں رہتی ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آجکل ملٹی نیشنل اور دوسری کمپنیاں بہت زیادہ تنخواہیں دیتی ہیں۔ لڑکی خود دھائی تین لاکھ ماہانہ کما رہی ہو تو کم آمدنی والا لڑکا اسے پسند نہیں آتا۔ تیسرا مسئلہ تعلیمی قابلیت کا ہے۔ لڑکا کسی بھی گھر کا ہو۔ اسے مناسب تعلیم دلاکر برسرروزگار کر دینے کی جلدی ہوتی ہے تاکہ اس کے کاندھوں پر کفالت کی ذمہ داریاں فوراً ڈال دی جائیں۔ بی اے یا ایم اے کے بعد اسے بہترین سرکاری ملازمت مل جائے تو مزید نہیں پڑھ سکتا۔ اگر اس کے والد کا کاروبار ہو کارخانہ ہو‘ سٹور ہو‘ دکان ہو‘ یا جو بھی روز گار ہو۔ باپ کی خواہش ہوتی ہے وہ اسکی زندگی میں سنبھال لے۔ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا کہ لڑکا صرف میڑک کرکے کارخانے کا کام سنبھالنے لگا اس نے ڈگریاں لینے میں وقت ضائع نہیں کیا۔ مگر بہت بڑا بزنس مین بن گیا۔ ایسی اور بھی کئی مختلف مثالیں ہوسکتی ہیں۔ دوسری طرف مناسب رشتہ نہ ملنے سے لڑکی اپنی تعلیم جاری رکھتی ہے اب تو والدین جن کی ایک یا دو لڑکیاں ہوں۔ انہیں مزید تعلیم کے لئے باآسانی انگلینڈ اور امریکہ بھیج دیتے ہیں۔ پھر قدرتی طور پر ایسی لڑکیوں کی خواہش ہوتی ہے ۔ لڑکا بھی ان کی طرح فارن کوالیفائیڈہو۔ ایک زمانہ تھا لڑکے کی عمراور صورت نہیں دیکھی جاتی تھی۔ لوگ کہتے تھے لڑکا نجیب الطرفین ہو اور
کما¶ ہو۔ کم ازکم ہماری بیٹی کو عزت کی زندگی اور گھر کا سکھ دے سکے۔ باقی لڑکی کے نصیب ہوتے ہیں۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ خواہشوں کے حصول کا ذریعہ بنتے جاتے ہیں۔ آخرتقدیر بھی کوئی چیز ہے طیبہ نے ٹھیک لکھا ہے کہ آجکل معاملہ الٹ ہوگیا ہے پہلے جو رویہ اورڈیمانڈ لڑکے والوں کی ہوتی تھی اب وہ متکبرانہ رویہ اور ڈیمانڈ لڑکی والوں کی ہوتی ہے آخر لڑکی کب تک والدین کے گھر بیٹھ سکتی ہے ان کی زندگی تک نا؟ اور ان لڑکیوں کو بھی بہت دیر بعد پتہ چلتا ہے جوانی کا پرندہ تیز رفتار ہوتا ہے اس کے اڑجانے کا پتہ نہیں چلتا۔ مجھے بھی کئی ماﺅں نے یہ کہا ہے آپ لڑکیوں کو سمجھائیں کہ وہ ڈگریوں اور سٹیٹس کے چکر میں اپنی عمر ضائع نہ کریں یہ بات میں ان کو نہیں سمجھا سکتی زمانہ سمجھائے گا یا اپنی مائیں۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ لڑکی کا گھر آباد کرنے اور برباد کرنے میں لڑکی کی ماں کا اسی فیصد ہاتھ ہوتا ہے ساس بچاری تو یونہی بدنام ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں بُری ساسیں نہیں ہوتیں جتنی بُری ساسیں ہوتی ہیں۔ اتنی ہی بری بہوئیں بھی ہوتی ہیں۔ بہو کی تربیت کون کرتا ہے ہر لڑکی کو شادی اور خانہ آبادی کے لئے تیارکرنے والی ماں ہوتی ہے پہلے وہ اسکی تربیت اس نہج پر کرتی ہے کہ اس نے دوسرے گھر جانا ہے اور ایک مرد کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہے شادی کے بعد پھر اچھی ماں اپنی دخل اندازی بند کردیتی ہے مگر بعض مائیں باقاعدہ بیٹی کی ازدواجی زندگی میں دخل اندازی کرتی رہتی ہیں اسے سکھاتی پڑھاتی رہتی ہیں۔ اسے علیحدہ رہنے پر اکسا لیتی ہیں یا علیحدگی کو برداشت کر لیتی ہیں اچھی مائیں بیٹی کوجنم سے ہی سکھانے لگتی ہیں۔ اس کا کوئی دوسرا گھر ہے اور وہاں اس نے اچھی بہو اور اچھی بیوی بنکر رہنا ہے اگر کسی لڑکی کو ماں نہیں سمجھا سکتی تو میں اور طیبہ کیسے سمجھا سکتے ہیں۔ ماں باپ غریب ہوں یا امیر اپنی بیٹوں کی پرورش اس خیال سے بھی کرتے ہیں کہ بڑھاپے میں ان کے دکھ درد کا مداوا کریں گے۔ اور قرآن پاک کا بھی یہی حکم ہے کہاکہ ان کے ساتھ احسان کرو اور انہیں اف تک نہ کہوتو ہر کوئی ماں (خواہ لڑکی کی ہو) بیٹے کو اپنے والدین سے جدا کرکے کیسے لے جاتی ہے مگر یہ ہو رہا ہے لڑکی کی ماں لڑکی کی تقدیر خود لکھنا چاہتی ہے۔ ہم اس بات سے بہت خوش ہیں کہ جدید عورت تعمیر ملت کے کاموں میں برابر کی حصہ دار ہو گئی ہے۔ لڑکیاں دفاتر میں اہم ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ مگر قیمت کیا ادا کررہی ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی عورت ایک صدی گزرنے کے بعد واپس گھر جارہی ہے ہماری لڑکیاں گھروں کو ٹھکرا کے باہر نکل رہی ہیں۔ عورت کا اقتصادی طور پر مضبوط ہونا کئی معنوںمیں مفید ہوتا ہے۔ مگر خلاف تقدیر زندگی گذارنا سہل نہیں ہوتا ۔ عورت کا سب سے بڑا سہارا مرد ہی ہوتا ہے۔ مرد کوڈگریوں اورنوکریوں سے فتح نہیںکیا جاتا بلکہ محبت اور خدمت سے اس کوکمانا پڑتا ہے کیونکہ عورت کچن سے کتنی بھی نفرت کرے اپنے بچے کےلئے اسے کھانا پکانا پڑتا ہے جوکام وہ اپنے بچے کے لئے خوشی خوشی کرسکتی ہے وہ اپنے شوہرکےلئے کیوں نہیں کرسکتی جبکہ آجکل کے شوہر بہت لبرل اورمعاون بھی ہوتے ہیں۔ ہم لوگ یعنی کالم نگار چوبیس گھنٹے سیاست دانوں کو رگیدنے میں لگے رہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک خطر ناک تبدیلی آرہی ہے اور یہ تبدیلی لڑکیوں میں آرہی ہے سیاسی سیٹ اپ تو ہر پانچ سال بعد بدل جاتا ہے لیکن اگر معاشرے کی بنیاد غلط پڑ جائے تو ٹھیک کرنے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ کیونکہ معاشرے کی بنیاد تو عورت ہے یعنی ماں ہے ماﺅںکو جاگنا ہوگا دولت اور ڈگریوں کے غرورسے نکلنا ہو گا اور کام کرنے والی لڑکیوں کو بھی باور ہو کہ گھرکے اندرکا مرد گھر سے باہرکے مرد سے بہت مختلف ہوتا ہے واہ طیبہ جی: آپکی بات کو بڑھاوا دیتے دیتے میں کہاں سے کہاں نکل گئی۔ اصل میں میں نے حسن بیٹے سے کہا کہ تم دنیا بھر میں گھومتے ہو۔ میاں کوئی لڑکی پسند آجائے مجھے بتا دینا وہ بولا ماں پاکستان کے اندر ہی پاکستانی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ آپ نے بچپن سے ذہن ہی ایسا بنادیا ہے....
کوئی بتلاﺅ ہم بتلائیں کیا....