آمد ماہ صیام سے قبل گھروں میں خصوصی اہتمام

08 جولائی 2013
آمد ماہ صیام سے قبل گھروں میں خصوصی اہتمام

عنبرین فاطمہ
 ”رمضان المبارک“ کی آمد آمد ہے اس مہینے میں رحمتیں اور برکتیںسمیٹنے کےلئے جہاںخصوصی عبادات کی جاتی ہیں وہاں افطاری اور سحری کےلئے بھی روٹین سے ہٹ کر انتظامات کئے جاتے ہیں۔رمضان شروع ہونے سے قبل ہی خواتین اپنے اپنے گھروں میں بیسن،مرچ مصالحے ،آٹا جیسی دیگر ضرورت کی اشیاءجن کے خراب ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا وہ جمع کر لیتی ہیں اور بوقت ضرورت اس کا استعمال کرتی ہیں۔آج کل لاہور کے تقریباً ہر دوسرے بڑے ڈیپارٹمنل سٹور پر آپ خواتین اور مرد حضرات کا ہجوم دیکھیں گے تمام لوگ رمضان المبارک کی خصوصی شاپنگ میں مصروف ہیں۔جہاں کچھ لوگ آئل گھی،دالیں انڈے،قیمہ،گوشت،بیسن لینے میں مصروف نظر آتے ہیں وہاں مختلف قسم کے انرجی ڈرنکس کی بھی خریداری کی جارہی ہے۔خواتین گھر کے ہر فرد کی پسند کے مطابق کھانے پینے کی چیزیں خریدتی ہیں تاکہ سحر و افطار میں بازار کے چکر نہ لگانے پڑیں۔اس کے علاوہ بڑے بڑے جنرل سٹورز رمضان میں ڈسکاﺅنٹ پر چیزیں لگاتے ہیں اور حکومت کی جانب سے سستے رمضان بازاروں کا خصوصی طور پر انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوگوںکوکھانے پینے کی اشیاءپر خصوصی رعایت مل سکے۔خواتین اپنے گھروں میں انواع و اقسام کی چٹیناں،کیچپ،شربت تیار کر رہی ہیں اس کے علاوہ وقت کی بچت کے پیش نذر سموسے،کباب جیسی چیزیں تیار کر کے فریج میں رکھی جا رہی ہیں ،ساتھ ہی ساتھ آلو چنے کی چاٹ بنانے کےلئے چنوں کو بھگو کر ابالنے کے بعد اسے فریز کیا جا رہا ہے۔بیشتر خواتین نے گھروں میں مطلوبہ آمیزش کے ساتھ خصوصی مصالحے تیار کئے ہیں ویسے تو مارکیٹ میں مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ بے شمار مصالحے دستیاب ہیں جبکہ انڈین مصالحوں کا جواب نہیں لیکن ان کی اوریجنل دستیابی آسان نہیں اسی لئے گھریلو خواتین اپنے تیار کر دہ مصالحوں کو ترجیح دیتی ہیں۔دہی بڑے، پھلکیاںبنانے کےلئے بیسن کا استعمال کیا جاتا ہے کئی خواتین تو بازار کی بجائے گھر میں ہی بیسن میں نمک،زیرہ اور چٹکی بھر میدہ ڈال کر بڑے اور پھلکیاں تیار کرلیتی ہیں۔آلو اور بیسن کے تلے ہوئے ہلکے پھلکے پکوڑے بچے بہت رغبت سے کھاتے ہیں اس لئے مائیں آلوﺅں کابھی زخیرہ بھی کر لیتی ہیں تاکہ بچوں کو ان کی پسندیدہ افطاری کرائی جا سکے جبکہ پالک،بند گوبھی کے پکوڑے بھی افطاری میں بہت مرغوب سمجھے جاتے ہیں۔خواتین پالک اور گوبھی کو دھو کر فریج میں رکھ لیتی ہیں تاکہ بوقت ضرورت ان کا استعمال بخوبی کیا جا سکے۔پکوڑے تلنے کےلئے آئل اور گھی کا استعمال روٹین سے ہٹ کر ہوتا ہے اس لئے خواتین رمضان شروع ہونے سے قبل ہی آئل اور گھی کی خریداری بھی کر لیتی ہیں ۔اس کے علاوہ اگرہم دیکھیں تو سحر کے وقت تقریباً ہر گھر میں دیسی گھی کے پراٹھے کھائے جا تے ہیں اس لئے خواتین دیسی گھی بھی سٹور کر لیتی ہیں تاکہ رمضان المبارک میں سحر کے وقت کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔رمضان میں چونکہ خواتین کی گھریلو ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے کام جو وقت سے پہلے کئے جا سکتے ہیں ان کو کر کے رکھ لیں تاکہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں وقت صرف نہ ہو اور وہی وقت وہ عبادت میں گزار سکیں۔آج کل خواتین گھروں میں کچن کیبنٹ فریزرز کو اچھی طرح صاف کر رہی ہیں تاکہ چیزیں بآسانی رکھی جا سکیں۔اس کے علاوہ گھروں کی صفائی ستھرائی بھی زور و شور سے کی جا رہی ہے ان تمام تیاریوںمیں گھر کے بچے بڑے سب شامل ہیں۔
روزے کی فرضیت کا مقصد مسلمان کے اندر ایسی کیفیت کا پیدا کرنا ہے کہ وہ ہر معاملے میں اعتدال کی راہ کی طرف لوٹ آئے۔اگر ہم دستور حیات کی طرف نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد کھانا،پینا اور نفسانی خواہشات کے پیچھے دوڑتے رہنا نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف بقائے نسل انسانی کے زرائع ہیں۔مگر ہم نے زندگی کا اول آخر صرف ان چیزوں کو بنا لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم بحیثیت مجموعی خسارے میں ہیں۔ان حالات میں سال کے بعد رمضان کا مقدس مہینہ عطیہ خداوندی ہے جو ہمیں حیوانی صفات کے چنگل سے نکال کر معراج انسانیت کی طرف لے چلنے عملی مشق کرواتا ہے جبکہ دوسری طرف یہ اسی دستور حیات کی سالگرہ کا مہینہ بھی ہے۔
فائنل ---- 123