با برکت مہینہ ....رمضان المبارک

08 جولائی 2013
با برکت مہینہ ....رمضان المبارک

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
اﷲ رب العزت کا یہ عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک جیسا با برکت مہینہ عطاکیا ہے ۔جس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
    ” اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کر دیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے شاید کہ تم اﷲ سے ڈرو “۔
 اﷲ کے سامنے جوابدہی کا احساس ہی روزے کاا صل حاصل ہے ۔قرآ ن کریم میں روزے کی فرضیت کا حکم دیتے ہوئے اﷲ تعالی ٰ نے اس کی مصلحت یہ بیان کی ہے اس عبادت سے آ پ کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی ۔جب ہم خشوع و خضوع کے ساتھ اﷲ کی طرف متوجّہ ہوتے ہیں تو اﷲ کی نافرمانی اور تمام برائیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔اور یہ صفت تمام عبادتوں سے بڑھ کر روزے کے ذریعے ایک بندہ مومن میں پیدا ہوتی ہے کہ وہ ہمہ وقت ایک عبادت میں مشغو ل رہتا ہے اور اﷲ کے حکم سے ان خواہشات سے بھی دور رہتا ہے جن کے پورا کرنے پر عام حالات میں کوئی پابندی نہیں اور یہ کھلے اور چھپے ہر حال میں اﷲ کے حکم کی پابندی بجا لاتا ہے کیوں کہ اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے ۔
  حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول ا ﷲ نے فرمایا۔
     ”ابنِ آ دم کا ہر عمل اس کے لئے کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے یہاں تک کے ایک نیکی دس سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے لیکن اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیوں کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ (متفق علیہ( “
اس سے مراد یہی ہے کہ روزے کے اجر کی کوئی حد نہیں ۔اﷲ تعالی جس قدر چاہے گا روزے دار کو اس کا اجر دے گا اور جتنا روزے دار تقویٰ اختیار کریں گے اور جس قدر روحانی اور دینی فوائد روزے سے حاصل کریں گے اتنی ہی اﷲکے ہاں جزا بڑھتی جائے گی۔
اس لئے نبی کریم نے نصیحت کی کہ رمضان کے مہینے میں چار خصلتیں اپناﺅ کثرت سے لا الہ الا اﷲ پڑھا کرو ۔کثرت سے استغفار کرو ۔اﷲ سے جنت طلب کرو اور آ گ سے نجات کی دعا کرو ۔اور جس نے روزہ دار کا روزہ افطار کرایا اﷲ تعالیٰ اس کو میرے حوض ،حوض ِ کوثر سے پانی پلائے گا ۔اس کے بعد اسے جنت میں داخلے تک پیاس نہیں لگے گی ۔رمضان میں اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کی طرف خصوصی متوجہ ہوتا ہے۔اپنی خاص رحمت نازل فرماتا ہے۔خطاﺅں کو صاف فرماتا ہے پس اﷲ کو اپنی نیکی دکھاﺅ بد نصیب ہے وہ شخص جو اس مہینے میں اﷲ کی رحمت سے محروم رہ جائے ) طبرانی ( یعنی وہ مالک اس مہینے میں اپنے بندے کو نعمتیں عطا کرنے کے لئے بے تاب ہوتا ہے اور فرشتوں سے بھی یہ کہتا ہے کہ دیکھومیرے بندے کس طرح نیکی میں ایک دوسرے سے آ گے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں میرے قرب کے لئے بے تاب ہیں۔ وہ میرے دامن سے چمٹ کر ایک دوسرے سے مسابقت کر رہے ہیں اور یہی وہ مقدس مہینہ ہے جب رحمت خداوندی پورے جوش میں ہوتی ہے۔رب کائنات رمضان کی ہر صبح ور ہر رات فرشتوں کو مقرر کردیتا ہے جو آ واز لگاتے ہیں :
  ”اے خیر کی تلاش کرنے والے ! متوجہ ہو اور آ گے بڑھ ،اے برائی کے طالب رک جا “ ۔
 اس کے بعد فرشتہ کہتا ہے ”ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ اس کی مغفرت کی جائے ہے کوئی توبہ کرنے والا اسکی توبہ قبول کی جائے ہے کوئی دعا کرنے والا اس کی دعا قبول کی جائے ۔ہے کوئی سائل کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔“
 یہ اصو ل ِ فطرت ہے کہ اگر قول وفعل میں تضاد ہو تو پھر انسانی سیرت و کردار کی تعمیر نہیں ہوتی جب کہ روزہ انسانی کردار و اخلاق کی تعمیر و تخلیق کرتا ہے۔
بشرطیکہ وہ اﷲ کی خوشنودی کے لئے ہو۔ دنیوی شہرت اور ناموری کے لئے نہ ہو جب انسان میں صداقت ِ گفتار و عمل پیدا ہو گی تو اسکی سیرت میں بھی عفت و پاکیزگی ،دیانت داری ،امانت ، شرم و حیا ، عہد کی پابندی ،خوش کلامی ، استقامت اورحق گوئی جیسی خصوصیات ظہور پذیر ہو ں گی اور یہی روزے کا حاصل ہے۔یہی انسانیت کی وہ اعلی خوبیاں ہیں جن کے حصول کا راستہ روزہ ہے اور اس کے برعکس ہر راستہ فجور کا راستہ ہے اور فسق و فجور شیطان کا راستہ ہے اور انسانیت کی تباہی کا اصل سبب ہے۔ رمضان میں انسان تیس دن تک خواہشات ِ نفس کو مغلوب کر نے کی مشق کرتا ہے اور اس مشق کے لئے بظاہر انسان کی دوقسم کی خواہشات کو چن لیا گیا ہے اور ساری پابندیاں بھی دو نفسانی خواہشات بارے میں ہیں مگر روزے کی اصل روح یہ ہے کہ آ دمی پر روزے کی حالت میں اﷲ تعالیٰ کی کبریائی اور بندے کی غلامی اور بندگی کا احساس مکمل طور پر طاری ہو جائے۔اور بندہ ایسا مطیع و فرمانبردار بن کر یہ ساعتیں گزارے کہ ہر اس کام سے رکا رہے جس سے اﷲ تعالیٰ نے اسے منع کیا اور ہر اس چیز کی طرف دوڑے جس کا حکم اﷲ تعالیٰ نے دیا ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...

اتحاد میں برکت ہے

کبھی نہ بھولئے کہ اتحاد میں برکت ہے‘ اپنی رجمنٹ پر فخر کیجئے‘ اپنی کور ...

اتفاق میں برکت

سمیرا فاطمہ قادری گوجرانوالہ ایک گائوں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اس کے چار بیٹے ...