لائف ٹوکن ایک بڑی بے انصافی

08 جولائی 2013

مکرمی! اخبار کے اشتہارات کے ذریعہ عوام کو متنبہ کر دیا گیا ہے کہ وہ ہزار سی سی سے کم مکی گاڑیوں پر لائف ٹوکن حاصل کریں جو 17,700 روپے تک ہو سکتا ہے) آمدنی بڑھانے کےلئے پنجاب حکومت کا یہ اقدام قابل قبول ہو سکتا تھا کیونکہ قرض اتارنے کےلئے ہم چٹنی روٹی کھا کے بھی گزارہ کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کی مدد کرنے پر امیر کیوں تیار نہیں؟ لائف ٹوکن ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر معاف کیوں ہے؟ کیونکہ ان گاڑیوں کے مالک عوام کے درمیان نکلنا قطار میں کھڑے ہونا ۔حکومت کو ایڈوانس رقم دینا۔ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو مالک کو خود حاضر ہونے کی شرط ختم کر دیں۔ اگر امیروں کو اس لائف ٹوکن کا پابند نہ کیا گیا اور صرف متوسط طبقے پر ہی یہ لاٹھی برسائی گئی تو نتائج سامنے آنے پر حکومت پنجاب حیران نہ ہو۔(فرزانہ وحید لاہور)