زراعت و لائیو سٹاک پر توجہ سے خوشحالی ممکن ہے

08 جولائی 2013

لیلتہ القدر کی مقدس ساعتوں میںجنم لینے والے ملک کو رب رحمن و رحیم نے کائنات کی انمول نعمتیں رحمتیں عنایت فرماکر بڑی فیاضی سے ان کے تسلسل کے لئے ہواﺅں فضاﺅں اور دریاﺅں کو معمور کر دیا ۔صحراءبھی ہیں ، خوش نما وادیاں اور حسین میدان بھی ۔سونا اگلتے کھیت اور محنت کش افرادی قوت بھی ،معدنی ذخائر کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔قومی ادارے باہم تنازعات میں مبتلا ہیں ۔بددیانتی رگ رگ میں سماتی جا رہی ہے ۔ ہر سو بے ضابطگیاں ہیں ۔ ایسا افراتفری اور بے صبری کا ماحول ہے اس کشمکش کے عال میں لاہور کے ایک ہوٹل میں زراعت لائیو سٹاک پر سیمینار میں جانا ہو اجو کہ یونٹی ہیومن ویل ویشئر زکونسل اور ماہانہ کسان ونگ کے اشتراک سے بعنوان خوشحالی بذریعہ زراعت و لائیو سٹاک انعقاد تھا ۔سیمینار کا ماحول انتہائی سنجیدہ اور پر وقار تھا ۔ ہال کے اندر سٹیج کے سامنے چند قطاروں میں معروف زرعی ماہرین ، اساتذہ کرام ،زرعی سائنسدان ،ویٹنری ڈاکٹرز ، پروفیسرز اور صحافی حضرات موجود تھے ۔سیمینارمیں مہمان خصوصی علی اکبر گروپ آپ کمپنیز کے ڈائریکٹرزسعد اکبر خان اور احسن اکبر خان تھے جبکہ صدارت کی ذمہ داری پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد وائس چانسلر جامعہ اسلامیہ بہاولپور نے فرمائی ۔ دیگر مہمان میں ایگری ہیڈ فیصل بینک علی رضا ڈی جی زراعت پنجاب ، انجم علی بٹر ، سینیٹر محمد نعیم حسین چٹھہ ، ڈاکٹر نواز سعیدڈی جی لائیو سٹاک پنجاب ،سید حسن رضا آغا اتحاد کیمیکل ، سید حسن رضا ڈیری سلوشن پاکستان ، ڈاکٹر سبحان قریشی ڈین فکلٹی آف ویٹرنری سائنسز زرعی یونیورسٹی پشاور کے علاوہ دیگر بے شمار صاحب علم وفکر خواتین و حضرات جنہوں نے زراعت و لائیو سٹاک کے شعبہ جات میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے ساتھ آج بھی ہمہ تن پیش ہیں ۔ راقم نے زراعت و لائیو سٹاک کے شعبہ سے متعلقہ ایک پروگیسو گرو ر سے لیکر زراعت و لائیوسٹاک ،ادویہ ساز ادارے ،زرعی سائنسٹسٹ ، اساتذہ ، ڈاکٹرز اور سرکاری افسروں کا ایک چھت کے نیچے باہم اجتماع پہلے کبھی نہیں دیکھا جہاں پر نمایاں کارکردگی پر اعزازات اور میڈل تقسیم ہو رہے تھے جس کے لئے میزبان این جی او تحسین کی مستحق ہیں ۔تلاوت و نعت رسول کریم ﷺکے بعد رانا عبدالوہاب چیئر مین یونٹی ہیومن ویل ویشئر کونسل نے خطبہ استقبالیہ میں مہمانان گرامی اور تمام شرکاءکو سیمینار میں خوش آمدید کہتے ہوئے حکومت کی توجہ زراعت سے متعلق مسائل پر دلانے کے لئے بتایا کہ سیل ٹیکس کا نفاذ ، لوڈشیڈنگ ، کھاد کی بلیک مارکیٹنگ ، زرعی ان پٹس میں ملاوٹ، بیج کھاد کی آسمان سے باتیں کرتی قیمت اور پانی کے مسائل نے کسان اور زراعت کو تباہ کر دیا ہے ۔جن کے حل کے بغیر خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا ۔ زرعی یونیورسٹی پشاورکے ڈین ڈاکٹر سبحان قریشی نے کہا کہ ہماری معیشت کی بقا صرف اور صرف زراعت اور لائیو سٹاک پر مضمر ہے ۔ قدرت نے تو ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے مگر ہم استفادہ نہ کر سکے ۔ ڈاکٹر محمد ارشد شاہ جنرل منیجر پنجاب لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ نے بتایا کہ بورڈ مصنوعی نسل کی افزائش و فروغ کے لئے نوجوانوں کی تربیت کر رہا ہے ۔سائیلچ فروغ کا منصوبہ کے تحت ساسیچ بنانے کی عملی تربیت کے ساتھ کارپوریٹ سیکٹر اور مویشی پال حضرات کو بیلڈ سائیلج کی مناسب قیمت پر فروخت بھی جاری ہے ۔ راقم نے اپنی باری پر کہا کہ قیادت کی نا اہلیوں کی وجہ سے سائنسدانوں کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے ۔ آج کی محفل میں شریک ہو کر مجھے یقین ہوگیا کہ پاکستان میں زرعی شعبہ سے منسلک پیشہ ور افراد اور کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے ادارے بھی موجودہیں ۔ فیصل بینک کے ایگری ہیڈ علی رضا نے کہا کہ کسانوں کو قرضے کی فراہمی کے لئے بینک تیار ہے مگر بڑا مسئلہ قرض واپسی میں دشوار ی ہے ۔ کسان پیسے لوٹانے کی عادت ڈالیں بینک قرض دینے کو تیار ہے ۔چودھری احسن اکبر خان نے کہا کہ زراعت کے شعبہ کے لئے حکومت ٹھیک کام کر رہی ہے ۔پنجاب میں کسانوں کے لئے ویئر ہاﺅس بنا دیے ہیں جہاں کسان اپنی زرعی پیداوار رکھوا سکتے ہیں ۔پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد وائس چانسلر جامعہ اسلامیہ بہاولپور نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بالکل تاریک نہیں زراعت اور لائیو سٹاک ہوتے ہوئے پاکستان کبھی مشکلات کاشکار نہیں ہو سکتا ۔ آخر میں مہمان خصوصی سعداکبر خان نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل زراعت میں ہے ۔ ہماری صنعت، تجارت ، ذراعت کے مرہون منت ہے ۔ سیمنٹ ، سٹیل کے علاوہ پاکستان کی تمام صنعتوں کا خام مال کسان مہیا کرتا ہے ۔علی اکبر گروپ کسان خوشحال اور وطن عزیز کی ترقی پر یقین رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک کا شعبہ بھی توجہ طلب ہے ۔ آج کا سیمینار کسانوں اور زرعی سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی اور خدمت کا اعتراف ہے اس نیک کام میں دوسرے اداروں کو بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔ محفل حب وطنی کے دردو فکر سے لبریز تھی ۔ تمام شرکاءحکومت سے زراعت و لائیو سٹاک پر توجہ کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے ہم آہنگی پیدا کرنے کا انمول موقع ہے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ پر عوام کو بڑی توقعات ہیں ۔ حکومت پر لازم ہے کہ عزم نو کے ساتھ کالا باغ ڈیم پر اجماع امت کا فریضہ انجام دےں کیونکہ یہ منصوبہ کم مدت اور قلیل لاگت سے ایک طرف لاکھوں اےکڑ زمین کو سےراب اورگلزار کرے گا۔اکابرین حکومت ، اہل دانش اور صاحب قلم حضرات کالا باغ ڈیم کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کو فرض اولین مان کر میدان عمل میں نکلیں تاکہ ہم وطن عزیز کو مشاہیر کے خواب کے مطابق جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست قائم کر سکیں ۔