امریکہ کے طالبان سے براہ راست مذاکرات....

08 جولائی 2013

افغانستان میں گزشتہ 12 سال سے جاری خونریز امریکی جنگ کے خاتمہ کیلئے بالآخر مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے تاہم زمینی حقائق کا اگر عمیق نظری سے جائزہ لیا جائے تو صاف عیاں ہے کہ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا اتنا بھی آسان اور محفوظ نہیں جتنا اوبامہ اور انکے Coaliton Partners تصور کر رہے ہیں۔امریکی انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد کہ ”نیٹو افواج “ افغان افواج کو ہینڈ اوور کرنے کے بعد 2014ءکے آغاز میں افغانستان سے واپس اپنے ملک روانہ ہو جائیں گی۔ امریکہ اور طالبان کے مابین گزشتہ روز پرامن معاہدہ تو طے پا گیا مگر اس معاہدے کو عملی شکل دینے کےلئے ابھی مزید Give اینڈ Take باقی تھا کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے قطر میں کئے جانے والے اس سمجھوتے میں شمولیت نہ کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا حامد کرزئی نے اس طرح کی ”صدارتی حرکت“ پہلی مرتبہ نہیں کی بلکہ انہیں جہاں بھی تھوڑا بہت تقریر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا انہوں نے سب سے پہلے ”سیاسی زہر“ پاکستان کے خلاف اُگلا.... نہ جانے وہ یہ کیوں بھول چکے ہیں کہ افغانستان کے صدر بنوانے میں امریکہ نے ان پر جو ”سیاسی احسانات“ کئے اور جس طرح انہیں عالمی برادری میں ”پروٹوکول“ سے نوازا اسے نظر انداز کرنا اب کرزئی کے بس میں نہیں رہا....؟ افغانستان میں پائیدار امن کےلئے جو مذاکرات 12 سال قبل ہونا چاہئے تھے اب اس لئے شروع کئے جا رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ ”افغانستان کی جنگ“ کا واحد اور حتمی حل.... فقط ”مذاکرات کی میز“ اور افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ہے....؟حامد کرزئی کی ان پر امن مذاکرات میں عدم شرکت اور اچانک ناراضگی کے پس پردہ کون سے عوام کارفرما ہیں آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم اس مسلمہ حقیقت سے انکار اب ممکن نہیں کہ طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے یہ مذاکرات قدرے تاخیر سے مگر یقیناً کامیابی سے ہمکنار ہونگے کیونکہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے پاس اب کوئی اور ”آپشن“ باقی نہیں بچی.... ”اسلامی امارات افغانستان“ کے قیام سے قبل طالبان نے امریکہ سے جو مبینہ شرائط طے کی ہیں ان میں سب سے اہم شرط ”گوانٹاناموبے“ سے طالبان قیدیوں کی غیر مشروط رہائی.... سرفہرست ہے....؟ امریکہ نے قیدیوں کے تبادلے کے حوالےہ سے ہی اگلے روز طالبان کے زیر حراست اپنے ایک فوجی سارجنٹ کی رہائی کے بدلے گوانٹاناموبے میں قید 5 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کی حکمت عملی پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ قیدیوں کی اس متوقع رہائی پر حامد کرزائی کا ردعمل کیا ہو گا؟ ایسا سوال جس کے جواب کےلئے امریکہ کو شاید اتنی زیادہ سوچ بچار بھی نہ کرنی پڑی....!! تاہم لندن میں میرے بعض عسکری تجزیہ نگار دوستوں کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کے قول فعل میں پائے گئے تضاد سے خود اوبامہ بھی افغانستان کے صدر کو زیادہ اہمیت دینے کے حق میں نظر نہیں آ رہے۔ امریکی صدر اب یہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ 12 برس سے جاری اس خون ریز جنگ کو جس میں امریکہ، برطانیہ سمیت دیگر کولیشن پارٹنرز کا بھاری مالی اور جانی نقصان ہو چکا ہے۔ مزید جاری رکھا جا سکے....؟؟؟سوال یہاں یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ افغان امریکہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کھلے عام شامل کیوں نہیں کیا گیا جبکہ پاکستان کو اس طویل جنگ میں سب سے زیادہ مالی اور جا نی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ادھر اگلے روزMr.Arm Taij نے یہ تو کہہ دیا کہ افغانستان 25 برس بعد ایک بار پھر ”موجود“ ہو گا مگر ”آرمٹیج“ سے جب یہ پوچھا گیا کہ ”پاکستان“ کے بارے میں انکا کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے فوراً کہہ دیا کہ ”اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے؟ بات اگر ”کہنے“ اور ”کہلوانے“ کی ہو تو ہماری نظر میں”آرمٹیج“ کو یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ امریکہ بلاشبہ ایک قوت ہے مگر اس ”قوت“ میں شامل52 ریاستوں نے بھی آزادی اور خود مختاری کے لئے ہاتھ پاﺅں مارنے کا آغاز کر دیا ہے۔ کل کیا ہو جائے کسے معلوم....؟؟؟ وہاں تو والدین کو یہ یقین بھی نہیں ہے کہ اگلی صبح انکے بچے سکول سے واپس خیریت سے گھر پہنچ پائیں گے بھی یا نہیں....؟؟؟ اس لئے ”آرمٹیج“ کو ہم یہ صائب مشورہ دیں گے کہ وہ اپنی توجہ فی الحال افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پر مرکوز رکھیں کہ ”اسلامی امارات افغانستان“ کا قیام ان کی حکومت کی اب سب سے بڑی مجبوری بن چکی ہے....؟؟؟حالیہ جی ایٹ کانفرنس میں امریکی صدر اوبامہ نے جس مسرت سے طالبان سے امن مذاکرات کرنے کی خبر دی۔ افسوس! حامد کرزئی نے اس پر عارضی طور پر پانی پھیر دیا مگر مغربی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اوبامہ اس امن مذاکرات کانفرنس میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔