ایک گمنام ہیرو

08 جولائی 2013

1992 ءکی بات ہے فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا تو پہلی بار اپنے گاﺅں اکال گڑھ سے نارووال شہر جانے کا اتفاق ہوا، کالج سے واپسی پر بس میں سوار ہوتے تو سڑک کنارے لگے سائن بورڈ پر نظر دوڑانا شروع کر دیتے، ہر دوسرے سائن بورڈ پر این آر ڈی پی لکھا ہوتا لیکن سمجھ نہ آتی کہ یہ این آر ڈی پی کس بلا کا نام ہے؟ وقت گزرتا گیا لیکن این آر ڈی پی کی کو ئی خاص سمجھ نہ آئی ، لوگوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ یہ ایک ایسا ادارہ جو معاشرے کے پسماندہ افراد کی مدد کرکے ان کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کیلئے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے لیکن جب سائن بورڈز کو تنقیدی نقطہ¿ نظر سے پڑھنا شروع کیا تو یہ راز بھی کھلنے لگاکہ این آرڈی پی صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کیلئے مشعل راہ ہے، این آر ڈی پی کے پلیٹ فارم سے بیروزگار وںکو چھوٹی سطح پر کاروبار شروع کرنے کیلئے نہ صرف مالی امداد فراہم کی جاتی ہے بلکہ کاروبار کرنے کے گُر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد غم روزگار کیلئے لاہور میں ڈیرے لگانے پڑے تو ہم بھی بھول گئے کہ یہ این آر ڈی پی کیا ہے؟ صحافت کے شعبے میں قدم رکھا تو دوبارہ این آر ڈی پی کا ”جِن“ ایک بار پھر اس وقت بوتل سے باہر آ گیا جب ایک روز برادرم سعید الحق ملک صاحب نے فون کرکے کہا کہ مرزا مقیم بیگ کی خبر لگانی ہے ہم نے پوچھا کہ یہ مرزا مقیم بیگ کون ہیں؟ کہنے لگے کہ این آر ڈی پی والے، جب این آر ڈی پی کا نام سُنا تو پھر 21 سال پیچھے کالج کا زمانہ یاد آ گیا جب روز این آر ڈی پی کے بورڈ سڑکوں پر دیکھتے تھے۔مرزا مقیم بیگ سے تعلق گہرا ہُوا تو ایک روز ہم نے کہاکہ این آر ڈی پی (نیشنل رورل ڈویلپمنٹ پروگرام) پر لکھا جائے گا تو مرزا صاحب گویا ہوئے کہ ”آپ ضرور لکھیں لیکن میری ایک شرط ہے اس کے بغیر نہیں لکھنا،، ہم نے سمجھاکہ شاید مرزا مقیم بیگ اپنی مرضی کا مواد دینا چاہتے ہیں ، ہم نے شرط پوچھی تو کہنے لگے کہ آپ جب دوبارہ لاہور سے نارووال آئیں تو میرے ساتھ فیلڈ وزٹ کریں گے ، میں اپنی طرف سے ایک لفظ نہیں بولوں گا آپ نے این آرڈی پی کے تحت چلنے والے اداروں میں جانا ہے اور وہاں جو دیکھیں اور محسوس کریں اسے سپرد قلم کر دینا ، ہمارے لیے یہ ایک حیرت انگیز بات تھی کہ فیلڈ وزٹ کے بعد ہی کیوں لکھنا ہے؟ خیر اگلے ہفتے گاﺅں پہنچے تو طے شدہ پروگرام کے مطابق فیلڈ وزٹ کیلئے نکل پڑے۔ مرزا مقیم بیگ نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ جہاں جہاں بھی این آر ڈی پی کے بینر تلے ادارے چل رہے ہیں وہاں لے چلو، ہم پسماندہ ترین دیہات میں پہنچے تو یہ دیکھ کر ششدرہ گئے کہ این آرڈی پی کے تحت چلنے والے سکولوں میں معیار تعلیم کس قدر بلند ہے ، بچے کتنے ذہین ہیں جبکہ تعلیم بھی مفت دی جا رہی ہے، ان سکولوںمیں واش رومز ، کھیل کے میدانوں اور دیگر سہولیات کا معیار نجی اور سرکاری سکولوں سے کئی گُنا بہتر لگا، ایک گاﺅں ساتووال میں قائم بنیادی ہیلتھ یونٹ تو کسی بڑے شہر کے ہسپتال جیسالگا کیونکہ اس ہیلتھ سنٹر میں 24 گھنٹے میڈیکل و پیرا میڈیکل سٹاف کی موجودگی کسی معجزے سے کم نہ تھی جہاں ڈیلیوری سے لیکر چھوٹے بڑے آپریشن بھی صرف چند روپے کی پرچی پر مفت کیے جاتے۔ ہم نے ابھی صرف چند اداروں کا ہی وزٹ کیا تھا کہ سورج ڈھلنے لگا بھارتی سرحد کے کنارے پر قائم پر پاکستانی گاﺅں جرمیاں کے علاوہ گورالہ ، علی آباد اور دیگر دیہات میں قائم ادارے تو نہ دیکھ سکے لیکن یہ وعدہ ضرورکیا کہ اگر زندگی نے وفا کی تو دوبارہ ضرور آئیں گے لیکن دل میں سوچا کہ دیگ کے چند دانوں سے ہی پتہ چل جاتاہے کہ پکوائی کیسی ہوگی؟ پاکستان میںہونے والے 2013 ءکے عام انتخابات میں این آرڈی پی نے ہزاروں خواتین کو ایڈوانس ووٹ ایجوکیشن پروگرا م کے تحت ٹریننگ د ی جس کی وجہ سے ہزاروں خواتین نے پہلی بار اپناحق رائے دہی استعمال کیا۔ ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ کئی لوگ دکھی انسانیت کی خدمت اس قدر خدمت کرتے ہیں کہ وہ مسیحا لگتے ہیں لیکن وہ پھر بھی گمنا م ہوتے ہیں ۔