نیا قرضہ اور مہنگائی

08 جولائی 2013

”آسےب “کی طرح پر پھےلائے روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ عوام پر اےک اور دھماکہ : آئی اےم اےف سے ”5 ارب 30 کروڑ ڈالرز قرض کا معاہدہ ۔۔اس عوام کُش 3 سالہ پروگرام کے تحت بجلی، گےس مزےد مہنگی اور کئی شعبوں مےں ”ٹےکس چُھوٹ“ ختم ہو جائےگی۔۔”آئی اےم اےف“ اعلامےہ مےں ےکساں ٹےکس نظام کو اپنانے کا کہا گےا ہے جو کہ موجودہ اشرافےہ کی موجودگی مےں ممکن ہی نہےں ۔۔پاکستانی ترجمان نے دعوی کےا کہ ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات قبول نہےں کی گئی۔۔ مزےد براں پروگرام کے تحت ”مستحق طبقے“ کی امداد جاری رہے گی۔۔آج تک ہم ”ملکی مفاد“ عام آدمی کی ا صطلاحات کو سمجھ نہےں پائے کہ ےہ کونسی مخلوق ہے اور آسمان ےا زمےن کے کس درجے مےں رہائش پزےر ہے ؟ اور” مُلکی مفاد“ کس آسمانی اُڑن کھٹولے کا نام ہے جو آج تک زمےن پر اُتر ہی نہےں پاےا۔۔ ہماری آنکھےں کھولنے کے لےے اعلیٰ عدلےہ کے چند رےمارکس ہی کافی ہےں۔۔ عزت مآب چےف جسٹس آف پاکستان نے فرماےا ہے کہ غرےب غربت سے ےا پولےس کی زےادتےوں سے مرتا ہے۔۔ دوسری طرف ”پشاور ہائےکورٹ کے چےف جسٹس“ نے کہاہے کہ غرےبوں کو افطاری کے لےے ٹماٹر بھی نہےں ملےں گے۔۔ حکومت موےشی اور پولٹری کی ”افغانستان“ سملنگ کو روکنے کے لےے عدالتی فےصلے پر عمل کرائے۔۔ عجےب دوستی ہے ہم اپنا پےٹ کا ٹ کر کھانے پےنے کا سامان زائد منافع کے لالچ مےں ”ملکِ افغاناں“ کو بجھوا رہے ہےں اور وہاں سے برابر ہماری تباہی کا سامان بمعہ پروگرام رُکنے مےں نہےں آرہے۔۔اےک خبر کے مطابق ”اسٹےٹ بےنک“ کی کمزور پالےسےوں اور روک ٹوک کا نظام لاگو نہ کرنے کے باعث ہنڈی کے کاروبار مےں بہت تےزی آگئی ہے۔۔ےومےہ 3 سے4 کروڑ ڈالرز پاکستان سے باہر جا رہے ہےں۔ اربوں ڈالرز کے بےرونی قرضوں اور کھربوں روپے کے اندرونی قرضوں نے ہماری معیشت کے کتنے کل پُرزے ٹھےک کےے؟؟ ےہ قرضے ”بدنام زمانہ“ اےک عام آدمی کے معےار زندگی مےں کتنی بہتری لا پائے ہےں ےا پھر پہلے سے بھی زےادہ ابتری نے اُس کو چکرا کر رکھ دےا ہے۔۔”440ارب روپے“ کی رےوےنو شارٹ فال کے ساتھ نئے قرضوں کی وصولی کو پُرانے قرضوں کو چُکانے کا جواز کسی بھی طرح ”بزنس دوست حکومت“ کا تاثر مضبوط کرنے مےں معاون ثابت نہےں ہوگا۔۔20کروڑ نفوس سے زائد آبادی کے ملک کی آبادی مےں سالانہ 30 لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے۔۔ جو ہماری معیشت کے لےے آنے والے دنوں مےں مزےد مشکلات پےدا کرنے کا موجب بنے گا۔۔ ےہ اےک طے شدہ انسانی سائےکی ہے کہ سو، 2 سو خبروں مےں سب سے زےادہ توجہ کا مرکز وہ ”خبر“ بنتی ہے جس کابلواسطہ ےا براہ راست تعلق انسا ن کے پےٹ سے ہوتا ہے۔۔ بجلی کی کمےابی اور اشےائے صرف کی گرانی نے نڈھال عوام کو بہت جلدماےوس کر دےا ہے۔ عام آدمی تو عام آدمی ، خواص تک بلبلا اُٹھے ہےں۔۔کچھ ہی دنوں کے بعد رمضان المبارک کی آمد ہے۔ بجائے اس کے قےادت عوام الناس کو سہولےات بہم پہنچانے کی تدابےر اختےار کرتی ” مرے کو مارے شاہ مدار“ مانند وہ حسب رواےت اُنھی پر چڑھ دوڑی ہے جنہوں نے اُسے توقع سے بھی زائد ووٹوں سے لاددےا تھا۔۔ ہمارے مسائل کی نوعےت اےسی ہے کہ پچھلی اےک دہائی سے کسی بھی نو آموز حکومت کا ”ہنی مون پرےڈ“ اب شروع ہی نہےں ہوتا۔۔ حالات کی سنگےنی روزِ اول سے ہی سانس پُھلا دےتی ہے مگر افسوس کہ پُھولے ہوئے سانس کی ”ناگوار بُو“ کو بھی آخر عوام الناس کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔۔ ہماری ”65 سالہ“ تارےخ اقتدار سے پہلے عوام کی سانجھی اور حکومت ملنے کے بعد عوام کُش رہی ہے۔۔ احسان فراموشی، کرپشن، کمےشن ہماری تارےخ کے نماےاں ابواب ہےں۔۔ ہماری تارےخ بھی اُسی طرح اچھی اخلاقی اقداراور رواےات سے ےکسر عاری ہے جس طرح ”مغل دور کی تارےخ“ ۔۔ اےک فلاکت زدہ معاشرے کی قےادت روٹی مہےا کرنے کی بجائے فائےو اسٹار کا ”غذی مےنو“ پےش کرتی دکھائی دےتی ہے۔