فرد اور ادارے زیادہ اہم کون

08 جولائی 2013

انسان کائنات میں بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ وہ باشعور ہے اور اپنی اعلیٰ ذہنی اور وجدانی صلاحیتوں کے سبب زندگی کے مسائل سے عہدہ برآ ہونے اور حالات کو اپنے بس میں کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ سقراط کی بات کو سچ مانتے ہوئے ہم اس دنیا کے تمام افراد کو مساوی حیثیت نہیں دے سکتے اس لئے کہ افراد ذہنی قابلیتوں کے حوالے سے مختلف درجوں پر فائز ہیں۔ ایک فلسفی، ایک شاعر، ایک مصور اور فنکار جو تعمیر اور تخلیق کی دنیا کا شہنشاہ ہے وہ اپنی انفرادیت کی بقا کو قائم رکھ سکتا ہے اس لئے کہ وہ اپنی ذات میں اک جہان ہے۔ اک ایسا جہان جس کا بادشاہ وہ خود ہے۔ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین کی تابع داری کرتا ہے اور خوش رہتا ہے۔ یہاں کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ وہ خواب دیکھتا ہے۔ اپنی خواہشوں اور آرزوﺅں کی تکمیل کا اور کائنات کو اپنے خوابوں کی تعبیر جیسا دیکھنا چاہتا ہے۔ روسو فرد کی جس انفرادی آزادی کا قائل ہے وہ شاید اسی طرح ممکن ہو سکتی ہے لیکن جب فرد کسی ادارے سے وابستہ ہو جاتا ہے تو پھر حالات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کے ذاتی اغراض و مقاصد غیر اہم اور ادارے کے مقاصد اہم ہو جاتے ہیں۔ ادارے کے بالاتر مقاصد کے لئے ذات اوجھل ہو جاتی ہے۔ اس موقع پر کسی خاص نظریے کے تحت اپنی انفرادیت باقی رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ جرمن فلاسفر اور سوشیالوجسٹ Deskhein فرد کی انفرادی حیثیت کا سرے سے قائل ہی نہیں۔ وہ سمجھتا ہے فرد ادارے کے بغیر Exist نہیں کر سکتا اور اس کی انفرادی انا کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی کہ ایک مکتبہ ¿ فکر فرد کی آزادی اور انفرادیت کا قائل ہے اور دوسرا ادارے کی برتری کا۔ انسان روبوٹ نہیں کہ وہ چپ چاپ کسی ایک ڈگر کا انتخاب کر کے چل پڑے اور اپنے ارادے کو پوری طرح قوانین کی کتاب کے تابع کر لے یعنی ہر دو صورتوں میں مکمل خود مختار یا مکمل مطیع ہو جائے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ ادارے کے ساتھ جڑ کر وہ اپنے آپ کو قوانین کے تابع کر لیتا ہے مگر کسی یہ جڑت اس کی سوچ، اس کی نظریاتی وابستگی، اس کی پسند ناپسند اور اس کی فکر کے انداز کو یکسر تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس کے سوچنے اور عمل کرنے کا منفرد انداز باقی رہتا ہے جو اس کے فیصلوں اور عمل پر کسی نہ کسی حد تک اثرانداز بھی ضرور ہوتا ہے۔پاکستان کی بات کریں تو گزشتہ 65-60 سالوں سے دانستہ یا نادانستہ اداروں کو کمزور کئے جانے کی روش عام رہی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ادارے کبھی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہی نہیں ہو پائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اداروں کی اس چپقلش کی وجہ سے فہم و فراست والے لوگ پاکستان کے مستقبل اور حالات و واقعات سے شدید خائف رہتے ہیں لیکن شاید یہ پہلا موقع ہے جب ریاست کے ادارے اپنی اپنی ڈگر پر چلنے کی مشق کر رہے ہیں۔ دخل اندازی کو کم سے کم کرنے کے لئے ابھی کچھ وقت درکار ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو بہت جلد ادارے صحیح معنوں میں اپنے اپنے دائرہ کار میں خود مختار اور مضبوط بن کر ابھریں گے۔ عدلیہ، مقننہ، پارلیمنٹ تین بڑے ادارے آمریت کے اشاروں پر ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان میں بہرحال پارلیمنٹ ہی رہی ہے۔ قانون اور ضابطے کے مطابق ان اداروں کی آزادانہ رائے اور حیثیت کو کم کم تسلیم کیا گیا اور انہیں زیادہ تر Dictation پر کام کرنا پڑا۔ اداروں کے اس نئے سفر کے باعث فضا بظاہر پرسکون مگر اندر کھاتے تناﺅ کا شکار ہے اور یہ تناﺅ قومی سوچ اور اجتماعی عمل میں خوف کی طرح سرایت کئے ہوئے ہیں۔ اس بے یقینی کی کیفیت میں تمام خاص و عام کے ماتھے پر فکر کی لکیریں کچھ اور گہری ہو گئی ہیں اس لئے کہ اب مزید تجربات کی گنجائش باقی نہیں۔ یہ وقت عقلِ کل کی پٹی اتار کر اداروں کے مفاد سے جڑنے اور نئے سفر کے آغاز کا ہے۔ پرویز مشرف نے ایک طاقتور ادارے کی آڑ میں اپنی ذات یعنی فرد کو مضبوط ہونے کا موقع دیا اور اس کے اس عمل سے قوم اور ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ آج اس کے یومِ حساب پر اسی ادارے نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کر کے قانون اور وطن سے محبت کا ثبوت دیا ہے۔ شاید اس کے بعد کوئی فرد ادارے کی ساکھ مجروح کر کے ریاست کو مفلوج کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ ساٹھ سالہ تاریخ کا احتساب ممکن نہیں مگر اب میڈیا اور عوامی شعور یقینا آئندہ کسی کو کھل کھیلنے اور قوانین کی دھجیاں اڑانے کی اجازت نہیں دے گا۔