چین کی مدد سے توانائی کے مختلف منصوبوں کی تکمیل پر ایک لاکھ میگاواٹ بجلی کے حصول کی توقع اور سرمایہ کاری کے امکانات

08 جولائی 2013

وزیراعظم اب بھارت جا کر ان کامیابیوں کا سفر کھوٹا نہ کریں


وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ چین کے تعاون سے توانائی بحران پر قابو پا لیں گے۔ بجلی کی کمی پوری کرنے کےلئے طویل المیعاد منصوبہ بندی کر لی ہے۔ ہم معیشت بھی بحال کریں گے۔ گذشتہ روز شنگھائی میں پاکستان چین توانائی فورم کے زیر اہتمام منعقدہ انرجی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اور چین نے اقتصادی راہداری کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔ چین کے ساتھ ہمارا جامع اور پائیدار تعلق ہے اور انہوں نے اپنے پہلے دورے کے لئے چین کا انتخاب مضبوط دوستی کے تناظر میں ہی کیا ہے۔ پاکستان چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیاں سورج کی روشنی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں تعاون کریں، ہم توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری میں حائل تمام رکاوٹیں دور کریں گے اور حکومت چین کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک چینی کمپنی نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ 2015ءتک مکمل ہو جائے گا، جبکہ گرٹ، کوہالہ تونسہ میں بجلی کے مزید تین منصوبوں کے اجراءسے نیشنل گرڈ میں20 ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہو گا۔ اس طرح چین کے تعاون سے متبادل توانائی کے شعبہ بالخصوص ونڈ اور سولر انرجی کے منصوبوں کی تکمیل پر 60 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں کوئلہ کے 125 ارب ٹن کے ذخائر موجود ہیں جن سے آئندہ تین سو سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔
توانائی کانفرنس کے موقع پر چینی سرمایہ کاروں نے بھاشا ڈیم کی تعمیر میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ اگر بھاشا ڈیم کا منصوبہ ان کے حوالے کر دیا جائے تو وہ دیگر ممالک سے پہلے اس کی تعمیر مکمل کر دیں گے۔ چینی سرمایہ کاروں نے توانائی کے شعبہ میں ہی نہیں دیگر منصوبوں میں بھی اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم نوازشریف کا دورہ¿ چین ملک میں صحیح معنوں میں اقتصادی انقلاب برپا کرنے کی نوید بن سکتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پاکستان چین اقتصادی اور دفاعی تعاون ان دونوں ممالک کے ہی مفاد میں نہیں بلکہ علاقائی ترقی اور امن و سلامتی کا بھی ضامن ہے۔ اور دنیا میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں بھی ممد و معاون ہو سکتا ہے۔ چین کے تعاون سے گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعد دنیا کو تجارتی راہداری میسر ہو گی تو اس کا سب سے زیادہ پاکستان ہی کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ اس سے علاقائی منڈیوں ہی نہیں، مغربی دنیا کی منڈیوں میں بھی ہمیں تجارتی رسائی حاصل ہو گی چنانچہ ہماری برآمدات کو بھی فروغ حاصل ہو گا اور گوادر پورٹ کے ذریعہ دیگر ممالک کو بھی ایک دوسرے کی منڈیوں تک آسان رسائی حاصل ہو جائے گی جس سے ہمارے لئے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور تجارتی سرگرمیاں بڑھنے سے اس خطہ میں ہمارا اپنا اعتماد بھی مستحکم ہو جائے گا۔ اس تناظر میں چین کا اقتصادی تعاون ہمارے لئے عملًا ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے کھول رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ملک میں موجود دہشت گردی کے ناسور اور توانائی کے بحران نے ہماری ترقی اور خوشحالی کے راستے عملاً بند کر دئیے ہیں اور سرمایہ کاروں کو یہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود چین کے سرمایہ کار پاکستان میں توانائی کے شعبے سمیت تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کر رہے ہیں تو ان کی جانب سے ہمارے ساتھ دوستی میں اخلاص کا اس سے بڑا اور کوئی عملی ثبوت نہیں ہو سکتا مگر ہمیں بہرصورت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھنا اور سرمایہ کاروں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات اٹھانے ہیں۔ پاکستان میں توانائی کا بحران بھی یقینا ایک گھمبیر مسئلہ ہے اور ہمیں چین کی دوستی پر اس حوالے سے بھی ناز کرنا چاہئے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کےلئے توانائی کے بحران کے پیدا کردہ مسائل حل کرنے میں بھی عملی تعاون پر آمادہ ہے۔ وزیراعظم کے دورہ¿ چین کے موقع پر توانائی کے جن ہائیڈل، تھرمل، سولر، ونڈ اور کوئلے کے منصوبوں کی تکمیل کےلئے مختلف چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ہوئے ہیں۔ ان کی تکمیل پر وزیراعظم نوازشریف کے اپنے بقول ملک کو آئندہ تین سو سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی دستیاب ہو گی۔
اس وقت قوم کے لئے تشویشناک صورتحال یہ بن رہی ہے کہ جب ہمارا قابلِ اعتماد دوست پڑوسی ملک چین توانائی کے بحران سمیت ہمیں درپیش تمام مسائل کے حل کےلئے عملی تعاون کی پیشکش کر رہا ہے تو اس کے بعد ہمیں توانائی کے حصول کےلئے اپنے روایتی دشمن پڑوسی ملک بھارت سے تعاون حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ قوم نے یہ خبر انتہائی دکھ کے ساتھ سنی کہ وزیراعظم نوازشریف اپنے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ہمراہ چین جاتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ شہریار خاں کو بھارت کے لئے اپنا خصوصی ایلچی مقرر کر کے ان کے ہاتھوں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کو بھارت کے ساتھ یکطرفہ دوستی کی خواہش پر مبنی اپنا مراسلہ بھجوانے کا اہتمام بھی کر گئے۔ کیا قوم کےلئے یہ صدمے والی بات نہیں کہ دورہ¿ چین کے موقع پر تو وزیراعظم توانائی کے منصوبوں میں چین کے تعاون کے حصوں کے محض ایم او یو سائن کر رہے ہیں جن پر عملدرآمد کی نوبت آتے آتے نہ جانے پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا ہو گا جبکہ بھارت سے بجلی کے حصول کے لئے وزیراعظم اتنے بے تاب ہیں کہ وہ پانی اور بجلی کے وزیر خواجہ محمد آصف کو بھارت جا کر اس معاہدے کو عملی قالب میں ڈھالنے کی ہدایت بھی کر چکے ہیں حالانکہ بھارت کہہ رہا ہے ہمارے پاس تمہارے لئے سستی بجلی نہیں ہے۔اسی طرح بھارت سے ایل این جی کی درآمد کے لئے بھی میاں نوازشریف کی حکومت کے معاملات طے پا چکے ہیں اور اس سلسلہ میں بھارت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی بنیاد پر پاکستان بھارت سے یومیہ پانچ ملین کیوبک میٹر گیس درآمد کرے گا۔ اگر چین کی مدد سے ہم توانائی کے مختلف منصوبوں کی تکمیل پر آئندہ تین سو سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور ملک میں موجود قدرتی گیس کے ذخائر پر جامع کام کر کے ہم گیس کی پیداوار میں بھی خودکفیل ہو سکتے ہیں تو ہما رے حکمرانوں کو اپنے اس مکار دشمن کے آگے سر جھکا کر اس سے تعاون طلب کرنے کی کیا ضرورت ہے جو قیام پاکستان کے وقت سے پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں مارنے اور صفحہ¿ ہستی سے مٹانے کے مذموم عزائم رکھنے والا بھارت ہمیں اپنے وسائل سے بھلا خوشحال ہونے دے گا؟ چنانچہ توانائی کے بحران کے خاتمہ کے لئے اس کی تعاون کی پیشکش محض ایک ٹریپ ہے جس میں الجھا کر وہ ہمیں بے دست و پا کرنا چاہتا ہے۔ اس کی ایسی گھناﺅنی سازشوں کے جو ثبوت علیحدگی پسند بلوچوں کی مدد اور کراچی میں دہشت گردی کے لئے بھارتی ایجنسی ”را“ کو بروئے کار لانے کی صورت میں سامنے آئے ہیں، اس کے بعد بھارت سے توانائی سمیت کسی بھی قسم کا تعاون حاصل کرنے کی خواہش رکھنا پاکستان کو اپنے اس مکار دشمن کے لئے عملاً تر نوالہ بنانے کے مترادف ہو گا۔
اس وقت جس سرعت کے ساتھ میاں نوازشریف کی حکومت بھارت سے مختلف شعبوں میں تعاون حاصل کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے اور وزیراعظم کے دورہ¿ چین کے ساتھ ہی بھارت کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کے پیش نظر کوئی بعید نہیں کہ وزیراعظم میاں نوازشریف اپنے دورہ¿ چین سے ملک کی اقتصادی، معاشی اور دفاعی ترقی کے لئے جو کامیابیاں حاصل کر کے آتے ہیں وہ بھارت جا کر منموہن کے قدموں میں نچھاور کر دیں۔ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آتے ہی میاں نوازشریف کی خواہش کے مطابق بھارتی تجارتی، ثقافتی اور دانشوروں کے وفود کی پاکستان آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ جبکہ وزیراعظم خود بھی اپنے خصوصی ایلچی شہریار خاں کو بھارت بھجوا کر منموہن کے لئے اپنی خصوصی محبت کا پیغام پہنچا چکے ہیں اور پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف بھی بھارت جانے کے لئے رخت سفر باندھے بیٹھے ہیں تو ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت کے ہاتھوں ہماری سلامتی کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات بھگتنے کے لئے بھی میاں نوازشریف کو تیار رہنا چاہئے۔ جو بھارت کشمیر پر قابض ہو کر ہمیں پانی سے محروم کر چکا ہے اور پھر اس پانی پر ڈیم بنا کر ان سے پیدا ہونے والی بجلی ہمیں درآمد کرنے کا چکمہ دے رہا ہے اور جو بھارت ہمارے ملک میں دہشت گردی کا ناسور پھیلا کر یہاں سرمایہ کاری کے راستے مسدود کر رہا ہے وہ مذاکرات کی میز پر کشمیر پر ہماری کوئی بات سنے گا نہ وہ ہمیں توانائی کی پیداوار میں خودکفیل ہونے دے گا۔ اس لئے پاکستان کے دورے پر آئے بھارتی انڈس واٹر کمشنر اورنگا ناتھن کے اس دعوے کی درفنطنی سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں کہ بھارت اور پاکستان کے مابین کوئی ایسا تنازعہ نہیں جو تصفیہ طلب نہ ہو۔ میاں صاحب کو دورہ¿ چین کی کامیابی مبارک مگر وہ اب بھارت جا کر کامیابی کا یہ سفر کھوٹا نہ کریں۔