لاہور میں بم دھماکہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرائے

08 جولائی 2013

 پرانی انار کلی فوڈ سٹریٹ میں بم دھماکہ 5افراد ہلاک،50زخمی،دھماکہ ریسٹورنٹ میں ٹائم ڈیوائس سے کیا گیا۔20زخمیوں کی حالت نازک، 72گھنٹوں میں دہشت گردی کے مزید واقعات ہوسکتے ہیں،آئی جی پنجاب۔لاہور میں سکیورٹی سخت کردی گئی ، کچھ عرصہ امن کے بعد لاہور میں ایک بار پھر دہشت گردی کی بڑی واردات میں شہر کے بارونق علاقہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں رات گئے تک رش رہتا ہے،اس دھماکہ سے کم از کم یہ تو پتہ چل گیا کہ دہشت گرد طالبان کو نواز شریف ہویا شہباز شریف کسی سے کوئی ہمدردی نہیں اور انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے آبائی شہر اور ان کے حلقے میںد ھماکہ کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ جہاں چاہیں دہشت گردی کی واردات کرسکتے ہیں۔ان کا اپنا ایجنڈا ہے اور انکا کسی جماعت یا شخصیت سے کوئی سروکار نہیں،بے گناہ عوام کی جان لینے پر امن شہروں میں بم دھماکہ کرنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ان حالات میں آئی جی پنجاب نے مزید واقعات کی پیش گوئی کی ہے کیونکہ گنجان آباد شہر سکیورٹی لیپس کے باعث آسانی سے دہشت گردی کا نشانہ بن جاتے ہیں، ان حالات میں حکومت پنجاب، خفیہ اداروں اور سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کیلئے بلاکسی امتیاز کے صوبے میں دہشت گردوںکے تمام خفیہ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کیخلاف سخت کریک ڈاﺅن کرے اور ان کو چلانے والوں دہشت گردوںکو پناہ دینے والوں اور انکی مالی معاونت کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن لے اور پنجاب کے آنے جانے والے تمام راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے شہروں میں گشت اور چیکنگ کاسخت نظام نافذ کرے۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کے پاس دہشت گردوی کی نقل و حرکت اور ان کے کسی بھی شہر میں داخل ہونے کی مکمل معلومات ہوتی ہیں،اس کے باوجود وہ ان کی گھناﺅنی وارداتیں روکنے میں ناکام ہیں۔