مشرق وسطی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟

08 جولائی 2013

یوسف عرفان ۔۔۔۔
فوج نے 3 جولائی 2013ءکومصری منتخب صدر مُرسی کی جمہوری حکومت ختم کر دی۔ فوج نے آئین معصل کر دیا اور چیف جسٹس عادل منصور کو عبوری حکومت کا سربراہ بنا دیا۔ آرمی چیف عبدالفتاح کا فرمان ہے کہ عبوری حکومت ٹیکنو کریٹ کی ہو گی جو سب کو ساتھ لے کر چلے گی اور آئین پر نظرثانی بھی کرے گی۔ صدر مُرسی کے خلاف نام نہاد عوامی مظاہرہ جاری تھا جو فوج اور عدلیہ کی مداخلت کا مطالبہ کر رہا تھا۔ آرمی چیف نے صدر مُرسی کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا کہ مظاہرین کو مفاہمتی عمل سے مطمئن کیا جائے۔ آرمی چیف نے الٹی میٹم کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی صدر مُرسی اور اخوان قیادت کو قید کر کے نامعلوم مقام پر پہنچا دیا۔ صدر مُرسی بھاری عوامی اکثریت سے منتخب ہوئے تھے۔ قبل ازیں لاکھوں مصری عوام نے سابق آرمی چیف اور صدر حسنی مبارک کے خلاف مظاہرے کئے اور عام انتخابات میں اخوان المسلمین کی اعلیٰ تعلیم یافتہ قیادت کو ووٹ دیا۔ خود صدر مُرسی بھی امریکہ اعلیٰ جامعات کے فارغ التحصیل تھے۔ صدر مُرسی کی پارلیمان میں 100 حافظ قرآن اور دیگر ارکان بھی اعلیٰ مشرق و مغرب کی تعلیمات کے حامل تھے۔ صدر مُرسی اپنی پہلی صدارتی تقریر میں حضرت عُمر فاروق کے خطاب کو مشعل راہ بنایا۔ صدر مُرسی نے تقریباً ایک سال حکومت کی جس میں بیرونی امداد اور مداخلت سے اجنتاب کیا۔ عوام کو انتظامی ذمہ داریاں دے کر منظم، متحرک اور مضبوط کیا۔ صدر مرسی نے خود انحصاری ، خود اعتمادی اور سمجھداری سے حکومت کی۔ ان کے دور میں دہشت گردی کا ایک سنگین واقعہ ہوا۔ امریکہ اور عالمی برادری نے بنیاد پرست مسلمان عوام کے خلاف سرکاری آپریشن کا مطالبہ کیا۔ صدر مُرسی نے تفتیش اور تحقیقات کے بغیر عالمی دباﺅ رد کر دیا۔ علاوہ ازیں دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث انٹیلی جنس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کو برطرف کر دیا۔ فی الحقیقت صدر مُرسی کی حکومت نیشنلزم کی حامی اور انٹر نیشنلزم کی تارگی چھوڑنے والی تھی۔ مصر میں فوجی مداخلت نے الجزائر کی جمہوری حکومت کی خاتمے کی یاد تازہ کر دی۔ الجزائر فرانسیسی کالونی رہا ہے۔ یہاں بالواسطہ اور بلاواسطہ فرانسیسی اشیرباد سے سرکار بنتی تھی۔ یہ جمہوری ہو یا فوجی، ہر دو صورت غیر ملکی مفادات کی محافظ تھی۔ عوام تنگ تھے۔ غیر ملکی ایماءپر انہی ہی حکومتوں کے ہاتھوں مرتے تھے۔ الجزائر کے مسلمان عوام متحد ہو کر جمہوری منتخب حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تو الجزائر کی خود انحصاری پر مبنی جمہوری حکومت ناقابل قبول ہو گئی اور بالآخر فوج نے مداخلت کی اور امریکہ و سابق استعماری عالمی برادری نے جمہوریت کے خاتمے اور فوجی آمریت کو خوش آمدید کہا۔ تقریباً یہی کیفیت 12 اکتوبر 1999ء میں پاکستان کے اندر فوجی انقلاب کی تھی اور بعد ازاں پاکستان میں بھی قومی اور ٹیکنوکریٹ سرکاری سازی کے شوشے چھوڑے جاتے رہے۔ مغرب کو ہر وہ نظام اور طرز حکومت پسند ہے جو ان کے عالمی اور استعماری مقاصد کے تابع ہو۔ پاکستان مستقبل کی عالمی تجارت کا مرکز ہے۔ جبکہ مصر اور شام اسرائیلی سلامتی کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل ملک ہیں، پاکستان میں گذشتہ الیکشن سے قبل نام نہاد عوامی مظاہروں کا بندوبست کیا گیا جو بار بار فوج اور عدلیہ سے مداخلت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر پاکستان میں دوسرا جنرل پرویز مشرف کوئی نہ بنا جبکہ مصری فوج نے کمال کیا کہ وہ دوسرا حسنی مبارک بننے کو تیار ہو گئی۔ مصری ریاست اور انتظامیہ عالم عرب میں دور رس اثرات کی حامل ہے۔ مصر بلکہ شام وغیرہ بھی بنیاد پرست مسلمان حکومت کے امکان سے بھی مغرب کا دل دھل جاتا ہے کیونکہ عالم عرب کے دل میں اسرائیل ایک چبھتا ہوا کانٹا ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کاامریکہ وعالمی برادری سے مطالبہ تھا کہ وہ مصر میں اسرائیلی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس وقت شام میں بھی بیداری اور سرکار مخالف تحریکیں جاری ہیں۔ حماس نے پہلے ہی اسرائیل کے لئے مسائل بڑھا دئیے ہیں۔ مصر میں فوجی انقلاب آ گیا ہے مگر اس انقلاب کو مستحکم ہونے کے لئے خاصی عوام کش اقدامات کرنا پڑیں گے جو بظاہر مشکل ہیں۔ فوج اور مرسی کے حامی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی تھم بھی گئی تو زبردستی چلی جائے گی۔ جو نہ صرف مصر کی سرزمین کو مشتعل رکھے گی بلکہ ارد گرد کی عرب ریاستوں کو بھی تیزی سے متاثر کرے گی۔ یہ ممکنہ اثرات ایسے ہیں جن کو امریکہ و عالمی برادری پہلے ہی خوب جانتی ہے۔ ان اثرات کے سدباب کے لئے تیونس اور لیبیا کی نئی حکومتیں کا قیام پیش بندی اہتمام ہے، سوڈان مسلم اور عیسائی حصوں میں تقسیم بھی اسرائیلی تحفظ اور دفاع کی بندوبست ہے۔ کرنل قذافی روسی بلاک میں تھے اور اپنی خامیوں کے باوجود احیائے اسلام اور مصری اسلام کے حامی تھے، لیبیا کی دو حصوں میں تقسیم کا مطلب ایک حصہ کو امریکہ عالمی برادری کا بگرام کی طرح اڈہ بنانا ہے۔ جبکہ لیبیا کے ساتھ تیونس ازسر نو عالمی برادری کے تازہ دم نمائندوں کے ہاتھ میں ہے۔ مصر میں صدر مرسی سے حکومت کے خاتمے کا مطلب عالم عرب میں ”ناپسندیدہ سرکار“ کو عبرت کا نشان بنانا ہے۔ امریکہ، عالمی برادری کو آمریت اور جمہوریت سے کوئی غرض نہیں۔ مصری فوجی انقلاب ، شام کے اندر عوامی تحریکی قیادت کو بھی پیغام ہے کہ وہ تبدیلی کا ایندھن بنیں، تبدیلی کے کارساز نہ بنیں مصر کے مستقبل کے بارے میں فوری طور پر حتمی نتائج نکالنا مشکل ہے مگر ایک نتیجہ نوشتہ دیوار ہے کہ مصر طویل خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔ امریکہ و عالمی برادری کی بیجا مداخلت ، دباﺅ، امداد اور اثر و رسوخ کے خلاف نفرت بڑھے گی اور احیائے اسلام کی تحریکوں کو اپنی پالیسی اور طریقہ کار کو از سرنو مرتب کرنا ہو گا۔ اگر عالم اسلام جمہوری حق بھی اسی طرح جھپٹا مارا جاتا رہا ہے تو حالات و واقعات غیر از قیاس رخ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس طرح عالم عرب اور اسلام بھی ازسرنو منظم ہو کر بہتر اور موثر طریق کار اپنائیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ و عالمی برادری نے صدر مرسی کی جمہوری حکومت کا رسک لینے سے قبل مصر کی ناکہ بندی اس طرح کی ہے کہ لیبیا میں کامیاب بغاوت کا تجربہ کیا تاکہ مصر کے عوام کو لیبیا سے تعاون کے بجائے مخالفت ملے یہ الگ بات کہ لیبیا کے عوام بھی امریکی سفیر کو مظاہروں میں مار کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرتے ہیں۔