جب حسن البناءشہید نے اخوان المسلمون کی بنیاد رکھی

08 جولائی 2013

عبد الغفار عزیز ۔۔۔۔
”اللہ کی خاطر آپ کا بھائی، اللہ کی رحمت کا محتاج، حسن احمد عبد الرحمن البنائ۔ میں 1906 میں الحمودیة میں پیدا ہوا، جامعہ ازھر کے دار العلوم سے فارغ التحصیل ہوا، اب اسماعیلیہ کے پرائمری سکول میں مدرس ہوں۔ اللہ تبارک و تعالی سے دُعا گو رہتا ہوں کہ دین حنیف کی خدمت کرنے میں وہ میری مدد فرمائے“۔یہ وہ تعارفی کلمات ہیں جو امام حسن البناءشہید نے اخوان المسلمون کی تاسیسی نشست میں کہے۔ اس نشست میں ان کے علاوہ چھے افراد تھے۔ عبد الرحمن حسب اللہ ان میں سے ایک تھے۔ وہ اس نشست کا پس منظر اور اس کی کاروائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”ان کے دروس نے ہمارے دل و دماغ کو اپنی مکمل گرفت میں لے لیا تھا۔ ایک روز درس ختم ہوا تو ہم ان کی طرف لپکے، مصافحہ کیا، مو¿ثر درس پر ان کا شکریہ ادا کیا، اور ان سے استفسار کیا کہ وہ کون ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ان سے کوئی خصوصی ملاقات ہوسکے؟ ہم ان سے اسلام کی برکات سے محروم اپنے ملک کے حالات پر تبادلہءخیال کرنا چاہتے تھے۔ ہماری یہ بات سن کر حسن البناءکا چہرہ خوشی سے دمک اُٹھا۔ وہ ہمیں اپنی رہائش گاہ پر لے گئے۔ ایک مسحور کن ربانی ماحول میں ہماری تفصیلی ملاقات ہوئی، سوال و جواب ہوئے۔ انہوں نے ہمیں ایک مسلمان کا مقصد حیات بتایا، اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اور یہ واضح کیا کہ اللہ اپنے بندے سے کیا چاہتا ہے۔ ان کی گفتگو سے ہم پوری طرح قائل اور ہر جدوجہد کے لیے تیار ہوگئے۔ مرحوم ایک عجیب وارفتگی کے عالم میں گفتگو کررہے تھے، داڑھی آنسوو¿ں کی لڑی سے تر تھی ۔۔۔ اسی عالم میں نصف شب گزر گئی“۔گفتگو کے اختتام پر انہوں نے فرمایا: اسلام کے ابتدائی دور میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی تقریباً ہمارے ہم عمر تھے۔ تو کیا ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس آیت پر عمل درآمد کرنے کی جانب کوئی عملی اقدام اٹھا سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ عہد کرسکتے ہیں کہ ہم سب اللہ کی خاطر بھائی بھائی ہیں اور دین حنیف کی بالادستی کے لیے کوشاں ہوں گے؟ ہم ان کی یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا: کیوں نہیں۔۔۔ اگر آپ چاہیں توابھی ہاتھ بڑھائیے ہم آپ کی بیعت کرنے کو تیار ہیں۔ کچھ مزید گفتگو کے بعد انہوں نے ہمارے ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھتے ہوئے فرمایا: اچھا تو پھر میرے ساتھ ساتھ دہرائیے: نستغفر اللہ العظیم (تین بار) ہم اللہ کی طرف پلٹتے ہیں، ہم پختہ عزم کرتے ہیں کہ کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کریں گے، ہم اللہ سے عہد کرتے ہیں کہ ہم اس کی خاطر بھائی بھائی، اور دین حنیف کی خدمت کے لیے کوشاں رہیں گے، اللہ تعالی ہماری اس بات پر گواہ رہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی جس کا ترجمہ ہے ”اے نبی جو لوگ تم سے بیعت کررہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کررہے تھے۔ اُن کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اُس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا، اور جو اُس عہد کو وفا کرے گا جو اُس نے اللہ سے کیا ہے اللہ عنقریب اُس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا“۔بیعت کے بعد ہم سب نے انتہائی گرم جوشی سے باہم مصافحہ کیا، تھوڑی سی مشاورت کے بعد ہم نے اپنا نام ”الاخوان المسلمون“ چنا اور اللہ کے فضل سے ہم اس مبارک جماعت کا اولین بیج ثابت ہوئے۔ اگلے روز مغرب کے وقت دوبارہ ملنے کے وعدے پر ہم ایک دوسرے سے رخصت ہوئے تو ہم ایک باقاعدہ جماعت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔جن چھے افراد نے الامام البناءکے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے ایک مبارک جماعت کی بنیاد رکھی تھی آئیے ذرا امام البناءکی زبانی ان کے نام سنتے ہیں۔ ”درج ذیل چھے ساتھی آج میری رہائش گاہ پر آئے حافظ عبد الحمید (بڑھئی) احمد الحصری (حجام) فو¿اد ابراھیم (دھوبی) عبد الرحمن حسب اللہ (القنال کمپنی میں ڈرائیور) اسماعیل عز (القنال کمپنی کا مالی) زکی المغربی (سائیکل ساز)“ - بلا استثناءیہ سب افراد معمولی پیشوں سے تعلق رکھتے تھے۔ خود امام حسن البناءکے والد احمد عبد الرحمن البنا، جو ویسے تو ایک عظیم محدث تھے اور انہوں نے مسند احمد کی 23 جلدوں پر مشتمل شاندار شرح بھی لکھی، علاقے میں پہلی مسجد بنی تو وہی اس کے امام و خطیب ٹھہرے۔ لیکن گھر کا چولہا جلانے کے لیے خود وہ بھی گھڑی سازی کا معمولی کام کیا کرتے تھے۔انہوں نے حسن البنا کو بھی گھڑی سازی کا کام سکھا دیا تھا۔ لیکن جامعہ ازھر سے فارغ ہونے کے بعد حسن البنا نے ایک پرائمری سکول میں تدریس کا کام چنا۔ دروس و دعوت کا کام بھی دوران تعلیم ہی شروع ہوگیا تھا۔ اور آج اپنے چھے ساتھیوں کے ساتھ انہوں نے ایک عظیم انقلاب کی بنیاد رکھ دی تھی۔ بچپن ہی سے علم و تقوی کے ماحول میں پرورش پانے والاسکول کا ایک استاد، آج 6 مبارک نفوس کا امام بن گیاتھا۔ امام حسن البنا شہید کی 42 سالہ زندگی کے کئی پہلو بہت اہم منفرد اور نمایاں ہیں، لیکن اخلاص و للہیت، حکمت و دانائی اور جہد مسلسل ایسے عنوانات ہیں کہ ان کی پوری ہستی کا احاظہ کیے ہوئے ہیں۔ ان تین بنیادوں پر انہوں نے چھے قدسی نفوس کے ساتھ مل کر الاخوان المسلمون کا جو شجر طیبہ بویا، وہ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان کی بلندیوں پر جا پہنچا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا کہ یہ دعوت و تحریک زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے لیے صبح و شام کے اذکار کی پابندی سے لے ،کر مصر پر قابض استعماری فوجوں سے مزاحمت تک، شرک و خرافات کے خاتمے سے لے کر، سرزمین اقصی میں عملی جہاد تک، قہوہ خانوں میں جمی مجلسوں سے لے کر، قصر اقتدار میں براجمان استعماری غلاموں کی محفلوں تک، دیہات کے پرائمری سکولوں کے بچوں سے لے کر، معاشرے کے اعلی ترین دماغوں تک ہر جگہ، ہر فرد اور ہر میدان میں دعوت و تحریک کے بیج بوئے۔ معاشرے کے تمام افراد کو اپنے ساتھ ملانے کی تڑپ نے ان کے دل کے دروازے سب کے لیے وا کردیے۔ ۱۹۲۸ میں تا¿سیس کی جانے والی الاخوان المسلمون نے اپنا یہ دعوتی و تربیتی سفر شروع کیا، تو ۲۰ سال بعد ہی قبلہءاول (مسجد اقصیٰ) پر یہودی قبضے نے انہیں عملاً ایک معرکے میں لاکھڑا کیا۔ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہءاول یہودیوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے، اخوان کے مجاہدین، کمال شجاعت سے میدان میں آن کھڑے ہوئے اور مصر و اُردن کی افواج نے تسلیم کیا کہ ان کی قربانیاں خدمات اور کامیابیاں باقاعدہ افواج سے بھی بڑھ کر تھیں۔ اخوان کے اسی جرم کی پاداش میں ۱۹ فروری ۱۹۴۹ کی شام الاخوان المسلمون کے بانی امام حسن البناءکو قاہرہ کے بھرے بازار میں شہید کردیا گیا۔ تب سے لے کر آج تک اخوان کی قربانیوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔امام کو شہید کروانے والے ملک فاروق کا تختہ ۱۹۵۲ میں کرنل ناصر نے الٹ ڈالا۔ اس کی موت کے بعد دوسرے فوجی افسر انور سادات نے اقتدار سنبھالا اور اس کے قتل کے بعد تیسرے فوجی افسر حسنی مبارک نے تخت جما لیا۔ تینوں نے فرعونیت کے علاوہ کرپشن کو اپنا تعارف بنایا۔ یہاں تک کہ ۲۵ جنوری ۲۰۱۱ کو پوری قوم اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ اخوان کی قربانیوں کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجیے کہ صرف حسنی مبارک کے ۳۰ سالہ دور میں اخوان کے ۵۰ ہزار کارکنان جیلوں میں گئے۔ لیکن ان تمام قربانیوں کے باوجود اخوان نے دعوت وتربیت کا سفر جاری رکھا۔ حسنی مبارک کے زوال کے بعد جب عبوری فوجی حکومت کو انتخابات کروانا پڑے تو مصری عوام نے اخوان ہی کو اپنا نمائندہ منتخب کیا۔ پھر ایک نہیں دو سال کے اندر اندر مصری عوام آٹھ مرتبہ الیکشن بوتھ پر گئے اور ہر بار انہوں نے اخوان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اخوان کے ایک رہنما محمد مرسی صدر مملکت منتخب ہوئے۔ ۶۳ سال تک سیاہ و سفید کی مالک فوج، اس کی تراشید ججوں اور نمک خوار ذرائع ابلاغ نے پہلے روز سے ان کے خلاف لاتعداد محاذ کھول دیے۔ بالآخر ایک سال اور اڑتالیس گھنٹے بعد منتخب حکومت اور جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دی گئی۔ اب ایک بار پھر اخوان کو قربانیوں کا سامنا ہے۔ یکم اور دو جولائی کو ان کے ۵۰ کے لگ بھگ کارکنان شہید کردیے گئے ہیں اور مشرق وسطیٰ کا اہم ترین برادر اسلامی ملک پھر سے فوجی جبر و عذاب اور غیر یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔