چین کے دورے کی افادیت اور اہمیت

08 جولائی 2013

دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ کوئی ملک دنیا سے کٹ کرنہیں رہ سکتا۔ پاکستان اپنی بقاءاور سلامتی کی جنگ لڑرہا ہے۔ اسے قابل اعتماد دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر چین کا مقدمہ لڑتا رہا ہے۔ چین نے بھی ہر موڑ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ امریکہ کے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستان کو بڑا دھچکا لگا اور اس نے امریکہ کی بجائے چین پر اپنا انحصار بڑھا دیا۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے چین کے سات دورے کیے۔ پاکستانی اسٹیبلشمینٹ کو یہ ادراک ہوچکا ہے کہ پاکستان کا مستقبل چین، بھارت، ایران اور افغانستان سے وابستہ ہے۔ مسائل کا حل ریجن کے اندر ہے۔ اب وہ دور گزر چکا جب امریکہ پاکستان کے حکمرانوں کو آنکھیں دکھاتا تھا اور وہ چین کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پیدا کرلیتے تھے۔ پاکستان نے گزشتہ بارہ سال کے دوران امریکہ کا ساتھ دیا۔ جانی اور مالی قربانی دی مگر آج پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ اور سماجی طور پر دہشت گردی کا اکھاڑہ بن چکا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال سے وہی ملک باہر نکال سکتا ہے جسے عالمی قوت بننے کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے۔ کیوں نہ ایسے دوست پر انحصار بڑھایا جائے جو ہر آزمائش میں پورا اُترا ہے۔ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ کیا۔ میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں چینی وزیراعظم نے فرمائش کی کہ میاں صاحب وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کے بعد سب سے پہلے چین کا دورہ کریں۔
اس پس منظر میں حکومت سازی کے بعد وزیراعظم پاکستان نے اولین فرصت میں چین کے دورے کا فیصلہ کیا۔ چین نے اعلیٰ سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میاں برادران کے کان میں یہ بات ڈال دی تھی کہ چین کاشغر سے گوادر تک شاہرہ تعمیر کرنے کا خواش مند ہے۔ بلٹ ٹرین اور موٹر ویز میاں برادران کی کمزوری ہیں البتہ یہ کمزوری مستقبل میں پاکستان کے لیے بڑی سود مند ثابت ہوسکتی ہے بشرطیکہ شاہراﺅں کو صنعتی ترقی کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے کے ساتھ ابھی تک وعدوں کے مطابق صنعتی زون تعمیر نہیں کیاجاسکا اور اس طرح موٹر وے پر آنے والی لاگت کے اعتبار سے پورا فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکا۔ وزیراعظم کے دورہ¿ چین کے بارے میں تجزیے اور تبصرے ہورہے ہیں بعض ریٹائرڈ سفارت کاروں کا خیال ہے کہ گھر میں آگ لگی ہے ان حالات میں بیرونی دورے سے گریز کیا جانا چاہیئے تھا جبکہ سیاست کار کہتے ہیں کہ گھر میں آگ لگی ہوتو ہمسایے کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا دورہ¿ چین کامیاب اور پرجوش رہا۔ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ چین کے لوگ اپنے مہمانوں کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کو پورا پروٹو کول دیا گیا۔ چین کے صدر شی جین پنگ نے روایت سے ہٹ کر وزیراعظم پاکستان کو وفد سمیت استقبالیہ دیا۔ چین کے صدر نے کہا ”میں آپ کو اور آپ کے بھائی کو پسند کرتا ہوں“۔ یہ جملہ مخلص دوست ہی کہہ سکتا ہے۔ پاکستانیوں کے لیے یہ بات خوش آئیند ہے کہ عالمی لیڈر ان کے منتخب حکمرانوں کی عزت کرتے ہیں۔ اگر میاں برادران اپنا امیج (جسے مہنگائی کے طوفان کا چیلنج ہے) برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ان کا امیج کار آمد ثابت ہوگا۔
چین کو گہرا ادراک ہے کہ مستقبل میں گوادر پورٹ چین کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ گوادر پورٹ سے پورا فائدہ اُٹھانے کے لیے چین کو ریل اور سڑک کے ذریعے گوادر سے ملانا لازم ہے تاکہ چین کی مصنوعات کم وقت میں اور کم لاگت پر مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ممالک میں پہنچ سکیں۔ اس قومی مقصد کی خاطر چین نے کاشغر سے گوادر تک 18 بلین ڈالر کی لاگت 2000 کلو میٹر شاہراہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ لانگ ٹرم منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ کتنے دکھ کی بات کہ 65 سال کے بعد بھی پاکستان نہ بس (ڈائیو) نہ پورٹ (گوادر) چلاسکتا ہے۔ ہم پاکستان کو غیروں کی منڈی بنا رہے ہیں۔ ترقی اور خوشحالی کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان 8 معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں جن میں لاہور سے کراچی تک موٹر وے تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے جو اڑھائی سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ راولپنڈی سے چین کی سرحد تک آپٹک فائبر کیبل بچھائی جائے گی۔ کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے 2000 میگاواٹ کا منصوبہ شروع کیا جائے۔ سولر انرجی کے ایک منصوبے کے لیے بھی معاہدہ کیا گیا ہے۔ پنجاب کے چیف منسٹر میاں شہباز شریف نے چین کی کمپنی سے کامیاب مذاکرات کرکے اسے نندی پور پراجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے راضی کرلیا ہے۔ چینی ماہرین آج پاکستان پہنچ جائیں گے۔ میاں نواز شریف نے گوادر میں انٹرنیشنل ائیر پورٹ تعمیر کرنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین نے پاک ایران گیس پائپ لائین کو چین تک توسیع دینے کی خواہش ظاہر کی ہے جس سے پاکستان پر امریکہ کا دباﺅ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
پاک چین مشترکہ اعلامیہ میں چین نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کو چین کی اہم ترجیح بنانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے چین کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید پروان چڑھانے اور اس کے قومی مفادات کا دفاع اور تحفظ کرنے کا یقین دلایا ہے۔ چین ہمارا دوست ہے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے مگر کیا ہم پاکستانی اپنے دوست بھی ہیں۔ 2015ءتک چین بھارت تجارت 100 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی جبکہ پاکستان اور چین کی باہمی تجارت شاید 15 بلین ڈالر تک پہنچ سکے۔ اس میں چین کا قصور نہیں ہے بلکہ ہمارا اپنا قصور ہے۔ پاکستان کے مقتدر افراد میں نیشلزم کا فقدان ہے۔ ہم ذاتی مفاد کی خاطر دن رات ایک کردیتے ہیں جبکہ قومی مفاد کے لیے شرمناک بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ چین کی کمپنیوں نے پاکستانی بیوروکریسی کے رویے کے بارے میں وزیراعظم پاکستان سے شکایت کی انہوں نے فوری طور پر اپنے ہاتھ سے اپنا ذاتی ای میل ایڈریس لکھ کر کمپنی کے نمائندے کو دے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وزارت خارجہ کی فائلوں میں سینکڑوں ایم او یوز پڑے ہیں جو کاغذ کے پرزے ثابت ہوئے۔ وزیراعظم پاکستان کو اپنے آفس میں عملدرآمد سیل تشکیل دینا پڑے گا تاکہ معاہدوں کو برق رفتاری کے ساتھ مکمل کیا جاسکا۔ وزیراعظم عملدرآمد کے سلسلے میں ہفتہ وار رپورٹ طلب کریں۔
وزیراعظم پاکستان انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ زراعت اور صنعت پر بھی خصوصی توجہ دیں کیونکہ ان دو شعبوں میں ترقی کیے بغیر ان کے معاشی دھماکے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔ وزیراعظم پاکستان نے چین کے دورے میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ اس وقت ثمر آور ہوں گی جب وہ دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ دہشت گردی کی موجودگی میں سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ سرمایہ ہمیشہ ان ملکوں کا رخ کرتا ہے جہاں پرامن ہوتا ہے اور آئین اور قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔دہشت گردوں نے اب شریف برادران کے مضبوط سیاسی قلعے کو بھی ٹارگٹ کرلیا ہے۔ میاں نواز شریف کو اپنا دورہ¿ چین مختصر رکھنا چاہیئے تھا۔ وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا کہ وہ بیرونی دوروں پر ٹرینوں میں سیروتفریح کرتا نظر آئے۔ پاکستان کے اندرونی حالات کا تقاضہ ہے کہ حکومت اندرونی اور داخلی مسائل پر پوری توجہ دے کیونکہ پاکستان کا اندرونی چہرہ صاف اور شفاف کیے بغیر بیرونی امداد اور تعاون حاصل نہیں کیاجاسکتا۔ وزیراعظم پاکستان نے چینی قیادت کو افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاءکے سلسلے میں اعتماد میں لیا ہوگا۔ چین کے دورے کی اہمیت اور افادیت کو مجموعی طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ دورہ چین اور پاکستان کے عوام کے لیے مبارک ثابت ہوگا۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...