میاں نواز شریف : پاکستان سے چین تک !

08 جولائی 2013

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی بہت عظیم دکھائی دیتا ہے، چین تو پھر ہمارا مخلص دوست ہے۔ ایسا دوست جو صرف جمہوریت ہی میں نہیں آمریت میں بھی ہمارا سہارا بنتا ہے۔ چین پاکستان کا دوست ہے، اس لئے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ منصبِ اقتدار آصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہو یا میاں نواز شریف کے۔ دوسرے لفظوں میں چین عنانِ اقتدار رکھنے والوں کا دوست نہیں وہ پاکستان کا دوست ہے۔ بھارت کا مقابلہ ہو تو پاکستان کا دوست، امریکہ ہینکی پھینکی کے چکر میں ہو، تو پاکستان کا دوست! بے حد گہرائی اور بے حساب اونچائی والی دوستی !
یہ سب باتیں اپنی جگہ پر درست سہی لیکن کیا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ پاکستان کشکول اٹھا کر نہیں سامان، ہاں ہاں برآمدات کا سامان اٹھا کر چین جائے گا۔ کیا ایسا نہیں لگتا کہ، رفتہ رفتہ رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی اور ہر پاکستانی جوتا کپڑا بھی چین ہی کا پہنے گا؟ اگر ایسا ہو گیا تو کپاس سے ٹیکسٹائل انڈسٹری تک کدھر جائیں گے؟ سائیکل سے سکوٹر تک پہلے ہی چین کے چلتے ہیں، ایسے جیسے سکہ ہی چین کا چلتا ہے۔ ڈر لگتا ہے یہ ”چین“ سے ”محبت“ کہیں ”روگ“ ہی نہ بن جائے۔ اللہ کرے یہ میری کم علمی ہو اور چین کی محبت واقعی ہمارے لئے استحکام کے دریچے کھولتی ہو۔ ارے جی! ہمیں تو خوشی ہے کہ ہمارے گاﺅں سے 4 کلو میٹر دور نندی پور کے ہائیڈرو پاور سٹیشن میں چین جان ڈالنے جا رہا ہے ورنہ وہ نندی پور جو گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے سنگم پر واقع ہے کبھی پاور ہاﺅس کہلاتا تھا، پھر وہ ایک ننھی سی سیرگاہ بن گیا، رفتہ رفتہ سیرگاہ بھی نہ رہی محض ایک سفید ہاتھی بن کر رہ گیا۔ اُڑتی ہوئی ملی ہے خبر بزمِ ناز سے، کہ وزیراعظم نواز شریف اور چینی وزیراعظم کے مابین جو آٹھ اقتصادی منصوبوں پر دستخط ہوئے ہیں، ان میں نندی پور کی بجلی کی پیداوار کی بھی سُنی گئی ہے۔ چین نندی پور پاور پراجیکٹ پر کام کرنے پر راضی ہو گیا ہے اور اس پراجیکٹ سے 450 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ اللہ کرے کہ یہ خواب شرمندہ¿ تعبیر ہو اور مسلم لیگ ن کی حکومت کا خواجہ پی پی پی کا راجہ ثابت نہ ہوا۔
-1 نندی پور پاور پراجیکٹ -2 تجارتی راہداری کے معاہدہ کے تحت 18 ارب ڈالر کی لاگت سے سرنگیں بنانا -3 مواصلات کے نظام کی بہتری کیلئے 44کروڑ ڈالر کی لاگت سے اسلام آباد کا خنجراب فائر آپٹک کیبل بچھانا -4 پولیو وائرس سے بچاﺅ -5 گھروں میں شمسی توانائی کے استعمال کا تعارف اور -6 شاہراہ قراقرم کی توسیع و مرمت قابل ذکر منصوبے ہیں۔ واضح رہے کہ چین کے تعاون سے کئی اقتصادی منصوبوں پر پہلے ہی سے عمل جاری ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل گوادر کی بندرگاہ کا انتظام و انصرام پہلے ہی چین کے سپرد کیا جا چکا ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ گزشتہ سال پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب ڈالر تھا جبکہ آئندہ دو سے تین برسوں میں تجارتی حجم کو بڑھانے کا مستحکم ارادہ ہے اور تمنا ہے کہ تجارتی حجم کا ہدف 15 فی صد تک بڑھ جائے۔ بہرکیف وزیراعظم لی کی چنانگ اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے درمیان اچھی ملاقات رہی، میاں نواز شریف اس چینی دورہ پر چینی صدر سے بھی ملے۔ میاں نواز شریف کو اس دورے کی دعوت مئی میں اس وقت ملی تھی جب چینی وزیراعظم لی کی چنانگ پاکستان کے دورہ پر آئے تھے۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف دونوں ہی چینی دورہ پر تھے، سمیٹنے میں دونوں ہی پیش پیش رہے۔ نندی پور پراجیکٹ کے حوالے سے میاں شہباز شریف بہت خوش تھے، پھر چینی صدر کی جانب سے یہ پہلی دفعہ تھا کہ انہوں نے کسی پاکستانی وزیراعظم کو استقبالیہ اور ملاقات سے نوازا۔
سب باتیں اپنی جگہ پر، سب معاہدے سودمند سہی لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ معاہدے آٹھ ہوں یا ساٹھ،جب تک ملک میں مائیکرو فنانس کے دروازے نہیں کھلتے، جب تک پاکستانی خود چھوٹی چھوٹی صنعتیں نہیں لگاتے، جب تک پاکستانی خود پاکستانی کو اپنے یونٹس میں روزگار دینے کے قابل نہیں ہوتے تب تک پاکستان کی معاشی حالت قابلِ رشک نہیں ہو سکتی۔ سعودی عرب اور ترکی سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ تعلقات اچھے ہیں لیکن جمہوری ملک ہونے کے ناطے ہم تو یہی کہیں گے کہ پاکستان کے ترکی اور سعودی عرب سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ پاک چین دوستی جہاں قابل تعریف ہے وہاں پاک سعودیہ دوستی بھی قابل قدر اور قابل ستائش ہے۔ سعودیہ کے حوالے سے ہم اتنی گزارش کریں گے کہ، مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز زیادہ اِدھر اُدھر بھاگنے کے بجائے اپنے آپ کو سعودی عرب، ترکی اور چین کی طرف راغب کریں، یہ امریکہ اور برطانیہ صرف اونٹ کے منہ میں زیرہ دیں گے یا پھر آئی ایم ایف کی طرح کڑی شرائط ہیں۔ ملائیشیا، مراکش اور نائیجریا جیسے ممالک کے ساتھ بھی امپورٹ ایکسپورٹ کا تعلق بنانا ضروری ہے۔ سب سے زیادہ توجہ اب ایکسپورٹ پر بھی ہونی چاہئے کم ازکم سعودیہ کے حوالے سے ان دنوں گولڈن چانس ہے جہاں اوپر سعودی حکمران مہربان ہیں وہاں اس دور کے پاکستان میں تعینات سعودی سفیر بھی پاکستان سے محبت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ حالیہ آئی ایم ایف کے قرضے سے مہنگائی ہی نہیں مہنگائی کا طوفانِ بدتمیزی پوری قوم کے سر پر چڑھ جائے گا، آئی ایم ایف کی مان کر ایک دفعہ پھر کچھ ادارے اونے پونے میں فروخت ہوں گئے۔ کہیں ڈاو¿ن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کے خنجر پھر سینوں میں اتریں گے۔ پہلے ہی ایک ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں تین دفعہ اضافہ ہوا اورآئی ایم ایف سے نئے معاہدہ اور قرضہ کے بعد ایک دفعہ پھر بجلی کے نرخ بڑھیں گئے۔ سبسڈی کے خاتمے اور نجکاریاں نئے مسائل کے انبار لگا دیں گے۔چلیں وقتی طور پر یہ مان لیا کہ اس قرض کے بغیر کام نہیں چلتا تھا لیکن آئندہ ماضی کے بھاﺅ بالخصوص جس بھاﺅ حبیب بینک لمیٹیڈ فروخت ہوا تھا ایسی تاریخ نہ دہرائی جائے۔ قومی ادارے غیروں کے ہاتھوں بالکل نہ فروخت کئے جائیں۔ اس دورے کو بہتر اور کامیاب بنانے میں میاں نواز شریف کے علاوہ میاں شہباز شریف اور چوہدری احسن اقبال کا بھی اہم عمل دخل ہے اور اس دفعہ کم ازکم احسن اقبال نے خوبصورت اور پیشہ وارانہ عمدہ اننگ کا آغاز کیا ہے۔ کاش ایسی ہی اننگ کا آغاز چوہدری نثارعلی خان اور خواجہ آصف بھی کرتے۔ بہرحال دوروں سے نکل کر میاں برادران کے مختلف ساتھیوں چوہدری احسن اقبال ، چوہدری جعفر اقبال جونیئر، ظفر اللہ جھگڑا ، پرویز رشید اور ڈاکٹر سعید الہیٰ وغیرہ کی نذر ایک التماس ہے کہ میاں نواز شریف اچھے خارجی تعلقات کے علاوہ اچھے ”داخلی“ تعلقات پر بھی نظر رکھیںلیکن اب کے بار میاں نوار شریف نے قبل از وزارت عظمیٰ اور بعد از وزارت عظمی بھارت سے بلاوجہ محبت کی پینگوں کا تذکرہ کرکے متذکرہ لوگوں کو کافی حد تک مایوس کیا ہے۔ یہ لوگ بھارت سے جنگ نہیں چاہتے تاہم تعلقات کو برابری کی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر میاں برادران اس بات کو بہرحال مدنظر رکھیں ۔نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام کے تقاضے کسی صورت بھی نہیں بھولنے چاہیے۔ پی پی پی اور ن لیگ میں فرق نظر آنا چاہیے ۔