بدھ ، 16 رجب المرجب1444ھ،8 فروری 2023ئ

پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کی تیاریاں 4 لاکھ کارکن گرفتاریاں دیں گے
بڑے عرصے بعد کوئی سیاسی جماعت اس قابل ہوئی ہے کہ وہ کھل کر ”ستیہ گرہ“ سٹائل کی سیاست کو اپنا رہی ہے۔ یہ گاندھی جی کی سیاست کا سب سے مو¿ثر ہتھیار تھا انہوں نے جیل بھرو تحریک کی بنیاد رکھی تو اس میں کمال کر دکھایا جب ہزاروں کانگریسی کارکن اور رہنما ازخود گرفتاریاں دے کر جیلوں میں گئے۔ اس کے برعکس بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے سیاسی دنگا فساد کی بجائے پُرامن انقلاب کی راہ دکھائی اور اس میں کامیاب ہو کر بھی دکھایا اب عمران خان خود کو بانی پاکستان کا پیروکار کہتے ہیں۔ ان کے کارکن خان صاحب کو قائد اعظم ثانی کہتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے میاں نواز شریف کے چاہنے والے انہیں کہتے ہیں۔ مگر حقیقت میں ہماری کسی بھی سیاسی پارٹی کا کوئی بھی قائد حضرت قائد اعظم کی راہ پر ہی نہیں چل سکتا۔ ان میں وہ اوصاف کہاں۔ بہرحال بات ہو رہی تھی جیل بھرو تحریک کی۔ بھٹو کے دور تک تو کبھی نہ کبھی کسی سیاسی جماعت کو یہ بخار آتا تھا۔ مگر چند درجن ورکر ہی جیل جاتے باقی سب روپوش ہو جاتے۔ اس وقت تک تو پولیس والے گرفتار کر کے دور دراز لے جا کر قیدیوں کو ویرانے میں چھوڑتے تھے کہ لو اب پیدل واپس جاﺅ۔ اس کے علاوہ مارشل لاﺅں کے دور میں ایسی حماقت سوائے ایم آر ڈی کی جماعتوں کے کسی نے نہ کی۔ ایم آر ڈی کے ہزاروں کارکنوں نے جیلیں بھریں اور چند سو کارکنوں نے سخت سزائیں پائیں۔ اب اگر پی ٹی آئی جیل بھرو تحریک میں کامیاب رہتی ہے تو یہ جدید پاکستانی سیاست کا عجوبہ ہو گا ورنہ چند دن شور شرابا ہو گا۔ میڈیا میں غل مچے گا۔ اخبارات کے صفحات سیاہ ہونگے اور اس کے بعد بحث مباحثہ زیادہ اور گرفتاریاں کم ہونگی بس ان کارکنوں کا شوق پورا ہو جائے گا جنہوں نے ابھی تک جیل نہیں دیکھی۔ کاش یہ ذرا شہباز گل، فواد چودھری اور اعظم سواتی سے ہی اس بارے میں ایڈوانس لیکچر لے لیں۔
٭٭٭٭٭
بھارت ایشیا کپ میں نہیں آتاتو نہ آئے بھاڑ میں جائے۔ جاوید میانداد
ہم جاوید میانداد کو اس جاندار موقف پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے حقیقت میں قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ کیا بھارت کے نہ آنے سے ایشیا کپ نہ کرایا جائے۔ کل بھارت عالمی مقابلوں میں پاکستانی کی موجودگی پر اعتراض کرے گا یا کہئے گاکہ وہ پاکستان کے ساتھ نہیں کھیلے گا تو کیا ہو گا۔ شر کو پنپنے دینا غلطی ہوتی ہے۔ یہ تو عالمی کرکٹ کونسل کی ناکامی ہے کہ وہ بھارت کے آگے بچھا جا رہا ہے۔ آئی سی سی کے جو قوانین ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ اسے بھارت کے اشاروں پر نہ نچایا جائے۔ اگر ان سے یہ نہیں ہوتا تو پھر واقعی میانداد کے بقول گورننگ باڈی کوئی اور کام کرے۔ ہمارے خیال میں بہتر کام گورکن کا ہی ہو سکتا ہے کہ آئی سی سی کی پالیسیوں کو دفن کر کے یہ لوگ بھارت میں جا کر بوٹ پالش کریں یا چائے کا ڈھابا کھول لیں۔ اگر بھارت نے یہی پالیسی کسی یورپی ملک کے حوالے سے اپنائی ہوتی تو پھر ہم دیکھتے کہ آئی سی سی والے کیسے سخت اقدامات کرتے ہیں کس طرح بھارت کو تگنی کا ناچ نچاتے ہوئے دن میں تارے دکھاتے ہیں۔ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہوتی ہے۔ اس پر سیخ پا ہونا تماشائیوں اور کرکٹ شائقین کا حق ہے۔ پاکستان میں بھی بھارت سے شکست پر شائقین تلملا اُٹھتے ہیں۔ صرف بھارت ہی انگاروں پر نہیں لوٹتا۔ مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم کھیل میں بھی منفی سیاست گھسیٹیں۔ بھارت کو اپنے طرزِ عمل میں بہتری لانا ہو گی یا پھر آئی سی سی خود کوئی ایکشن لے تاکہ بھارت کھیل کو کھیل تک محدود رکھے نفرت کی سیاست کو درمیان میں لائے۔
٭٭٭٭٭
کراچی پولیس کا 2 سالہ بچے پر جعلی فنگر پرنٹس سے رقم نکالنے کا مقدمہ
کوئی بتلائے کہ ہم کیا کہیں۔ پولیس کے حوالے سے لاکھ ہاتھ ہولا رکھیں۔ ان کی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں۔ مگر جب مردے پر قتل اندھے پر ڈکیتی لنگڑے پر پرس چھین کر بھاگنے اور لولے پر فائرنگ کا مقدمہ درج ہو گا تو پھر کب تک کوئی خاموش رہ سکتا ہے۔ صبر کا دامن کہیں نہ کہیں تو چھوٹ ہی جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسی وارداتوں میں فیڈر پینے والے بچوں پر زیادتی اور قتل تک کے مقدمات کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ اب ایک بار پھر کراچی پولیس نے اپنے پیٹی بھائیوں کی اس روایت کو زندہ رکھتے ہوئے 2 سالہ بچے پر جعلی فنگر پرنٹس کی بدولت رقم نکلوانے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ بڑی عجب کہانی ہے اس پر کوئی چاہے بھی تو اعتبار نہیں کر سکتا۔ مگر دیکھ لیں پولیس نے تحقیقات کئے بغیر ہی مقدمہ درج کر لیا اور جب بچے کو عدالت میں لایا گیا تو سب نے دیکھا کہ فراڈ کا ملزم اپنے باپ کی گود میں بیٹھا رو رہا اورفیڈر پی رہا ہے۔ اس پر تھانے کا عملہ یا عدالتی عملہ چکرایا تو ضرور ہو گا کہ یہ اتنا بڑا مجرم ہے کہ اسے گود میں اُٹھا کر لایا جا رہا ہے۔ ایسا تو ہمارے سیاستدانوں کو کاندھوں پر بٹھا کر تھانوں اور عدالتوں میں لایا جاتا ہے۔ اب عدالت کی طرف سے جو کچھ سندھ پولیس کو سُننا پڑے گا اس کے ساتھ ہی عوام کی طرف سے بھی جو کچھ سہنا اور سُننا پڑے گا وہ ایک الگ موضوع بحث ہے۔ کیا پولیس خود کو ایسی احمقانہ حرکتوں سے دور نہیں رکھ سکتی۔
٭٭٭٭٭
پاکستانی باکسر عثمان وزیر دوبارہ ڈبلیو بی او یوتھ ورلڈ چمپئن بن گئے
پاکستانی باکسر نے اپنے ٹائٹل کا نہایت کامیابی سے دفاع کیا اور حریف تھائی لینڈ کے باکسر کو دس راﺅنڈ کے اس مقابلے میں ساتویں راﺅنڈ میں ناک آﺅٹ کر دیا۔ یہ ایک زبردست مقابلہ تھا جس میں عثمان وزیر نہایت مہارت اور خوبصورتی سے اپنے حریف پر چھائے رہے۔ تھائی باکسر کی مہارت اور مقابلہ کی لگن قابلِ دید تھی جس کی وجہ سے مقابلہ سات راﺅنڈ تک جاری رہا۔ عثمان وزیر نے جو پہلے ہی ڈبلیو بی او یوتھ ورلڈ چمپئن ہیں ایک بار پھریہ اعزاز حاصل کرکے اسے اپنے پشاور کے شہدا کے نام کیا جو مسجد میں نماز کے دوران خودکش دھماکے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ پاکستان کے نوجوان مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے باوجود اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ ایسے اور بھی کئی نوجوان ہیں جو حکومتی سرپرستی کے منتظر ہیں۔ اگر ان کی سرپرستی کی جائے تو وہ مختلف کھیلوں میں عالمی سطح پر عثمان وزیر کی طرح اپنے ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہمارے محکمہ کھیل والوں کو اب صرف ایک آدھ کھیل کی سرپرستی کی بجائے باقی کھیلوں کی طرف بھی توجہ دینا ہو گی تاکہ نئے نئے کھلاڑی سامنے آئیں۔ ملکی سطح پر صوبائی سطح پر اگر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور محکمہ کھیل والے ٹھنڈے اے سی والے دفاتر سے نکل کر گڈری میں چھپے ان لعل و جواہر کو تلاش کر کے تراش خراش کر کے دنیا کے سامنے پیش کریںتو کھیلوں کے میدان میں ایک بار پھر ہمارا پرچم بلند ہو سکتا ہے۔ صرف کرکٹ میں ہی سب کچھ نہیں باقی کھیلوں میں بھی ہم وکٹری سٹینڈ ہوسکتے ہیں جن پر کھڑے ہونے والوں کے ذریعے قومی پرچم بلند ہوتا ہے اور ان کیلئے قومی ترانہ بجایا جاتا ہے جو ایک اعزاز کی بات ہے۔