بروقت اور مکمل علاج ٹی بی سے چھٹکارہ

فرزانہ چوہدری
چسٹ سپیشلسٹ پروفیسرڈاکٹر عبد المجید اختر نے ایم بی بی ایس کے بعد امراض سینہ و تپد ق میں ایم سی پی ایس اور ڈی ٹی سی ڈی کیا ،بعد ازاں ڈی پی ایچ کیا ۔ دسمبر 2012ء میں پی ایچ ڈی پبلک ہیلتھ مکمل کی اس سلسلہ میں ان کے 30 کے قریب مختلف سائنٹیفک جنرلزمیں پیپر شائع ہو چکے ہیں ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پی ایچ ڈی کے لئے پروڈ سپروائزر ہیں۔ میو ہسپتال میںبطور ایم ایس اور منیجر پراونشل ٹی بی کنٹرول پروگرام پنجاب کے فرائض انجام دیے۔آجکل انڈس ہسپتال کے پنجاب اور کے پی کے میں ٹی بی پروگرامز کو لیڈ کر رہے ہیں۔
چسٹ سپیشلسٹ پروفیسرڈاکٹر عبد المجید اختر نے بتایا ’’ میں آپ کو ٹی بی کی ہسٹری کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ ٹی بی ایک ایسی مہلک مرض ہے جس کے آثار آج سے تقریباً 7000 سال پہلے کے ملتے ہیں۔ اُس وقت کے بڑے بڑے ڈاکٹرز، سکالرز اور محقق اس بیماری کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے تھے۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس بیماری کی وجہ کیا ہے اسکی تشخیص کیسے کی جا سکتی ہے اور اس کا علاج کیا ہے لیکن وہ سب لوگ ایک بات بخوبی جانتے تھے کہ اس بیماری کا آخرکار انجام صرف اور صرف موت ہے۔
آثار قدیمہ کے محکمہ کی کھدائی کے دوران اور محققین کی نشاندہی اور دلچسپی سے کچھ ایسے ڈھانچوں کی طرف غور وفکر اور تحقیق کی گئی جو ان لوگوں کو اپنی کاوشوں سے ملے تھے۔ ان ڈھانچوں میں انسان اور جانوروں کی ہڈیوں کے ڈھانچے تھے۔ ان ڈھانچوں میں خاص طور پر ریڑھ کی ہڈیوں میں بیماری کی ایسی علامات مشاہدہ میں آئیں جو آج کل ہڈیوں کی ڈبی سے مماثلت رکھتی ہیں۔ ان ڈھانچوں کی جب عمر کا اندازہ لگایا گیا تو پتہ چلا کہ یہ ڈھانچے زمانہ قدیم کے تھے اور ان کی عمریں آج سے تقریباً 7000 سال کی ہیں۔ یعنی ان کا تعلق 5000 سال قبل مسیح سے ہے۔ پھر زمانہ کے ساتھ ساتھ بیماری کا، پریشانی کا اور علاج میں ناکامی کا سفر گزرتا گیا۔ آخر کار 24 مارچ 1882ء کو ROBERT KOCH نے وہ جرثومہ دریافت کر لیا جوکہ ٹی بی کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ اس جراثیم کا نام MYCOBACTERIUM TUBERCULOSISہے لہٰذا اسی دن کی مناسبت سے ہر سال 24 مارچ کوورلڈ ٹی بی ڈے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس جراثیم کے خلاف ادویات کی تیاری کا مرحلہ شروع ہوا۔ بیسویں صدی کے درمیانی عرصہ میں یہ امید پیدا ہوئی کہ اس بیماری پر جلد قابو پا لیا جائے گا مگر بیسویں صدی کے آخری چند سالوں میں یہ بیماری پھر زور پکڑنے لگی اور مریضوں میں پھر اضافہ ہونے لگا۔ 1994ء میں WHO کے ماہرین نے اس بیماری کو گلوبل ایمرجنسی قرار دیا۔ تاکہ اس کا علاج اور بیماری کا خاتمہ ہنگامی بنیادوں پر کیا جائے اور ایک منظم طریقہ علاج DOTS( Directly observed thirapy shortcourse )کی اہمیت کو اجاگر کیا پھر معلوم ہوا کہ ٹی بی کے بہت سے جراثیم ٹی بی کی ادویات کو مزاحمت (DR۔durg resistant ) کر رہے تھے 2000ء میں DOTS PLUS کی ترجیحی بنیادوں پر علاج کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔ 2006ء میں DR کی بھی ایک ایڈوانس قسم یعنی XDR کو نوٹ کیا گیا۔ ٭Drug SensitureاورDrug resistant ٹی بی کی تشخیص کے لیے Gen X-pert مشین درستیاب ہیں جو اس مرض کی تشخیص دو گھنٹے میں کردیتی ہے جس سے علاج میںاور آسانی پیدا ہوگئی ہے ۔
٭ پاکستان میں ٹی بی کے مریضوں کی کیا صورتحال ہے؟
ج:دنیا کے 22 ممالک میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد 81 فیصد ہے اور پاکستان ان میں پانچویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں نئے ٹی بی کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ میں 268 ہے لیکن ایک لاکھ میں نئے و پرانے ٹی بی کے مریض340 ہوتے ہیں۔ اس طرح ہر سال نئے مریضوں کی تعداد تقریباً 5,36,000 ہے جبکہ کل مریض تقریباً 6,80,000 ہیں۔ پاکستان میں بیماریوں میں ٹی بی کا تناسب 5.1 فیصد ہے۔ ٹی بی ڈاٹس پروگرام کے تحت علاج کا دورانیہ 6-8 ماہ ہے۔ ۔ دنیا کے ستائیں ممالک میں ایم ڈی آر ٹی بی مرض سب سے زیادہ ہے جو زیادہ خطرناک مرض ہے۔ پاکستان اُن ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے اور پاکستان میں ایسے مریضوں کی تعداد تقریباً 27000 ہے۔ایسے مریضوں پر ٹی بی کی عام ادویات اثر نہیں کرتیں۔ DOTS-PLUS کے طریقہ علاج کے تحت اسکی ادویات زیادہ مہنگی اور TOXIC ہوتی ہیں۔ ان مریضوں کا علاج تقریباً 24 ماہ کرنا پڑتا ہے۔ ایک مریض کے علاج اور پھر بحالی پر تقریباً 5 لاکھ کا خرچ ہوتا ہے۔ ٹی بی DR کے مریضوں کی سالانہ اموات تقریبا18 فیصد ہیں۔پاکستان کوٹی بی کنٹرول کرنے کے دیے گئے ٹارگٹس کے مطابق 2020ء میںٹی بی کے مریضوں میںپچاس فیصد کمی اور 2035ء تک مکمل خاتمہ ہے لیکن تمام کوششوں کے باوجود اُس وقت بھی دس لاکھ میں سے ایک ٹی بی کا مریض موجود ہو گا۔
٭ بچوں کو بھی ٹی بی ہوتی ہے؟
ج: ٹی بی بڑوں کے علاوہ بچوں کو بھی ٹی بی، ایم ڈی، آر ٹی بی، ہڈیوں کی ٹی بی ہوسکتی ہے۔ ایسے مریضوں کو پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے مختلف حصوں کی ٹی بی ہو سکتی ہے جیسے مریضوں کو پھیپھڑوں کے باہر کی جھلی کی ٹی بی، غدودوں کی ٹی بی، ہڈیوں کی ٹی بی، ریڑھ کی ہڈیوں کی ٹی بی کے علاوہ پیٹ، دماغ، گردہ، مثانہ، آنکھیں، جلد، دل کے باہر کی جھلی اور جسم کے مختلف اعضاء کی ٹی بی بھی ہے۔ ٹی بی اور ایڈز کی بیماریوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اس لیے بعض ٹی بی کے مریضوں میں HV ٹیسٹ پازیٹو ہوسکتا ہے ۔ اگر کسی شخص کو کھانسی، بخار، بلغم یا خون آتا ہو اور ساتھ ساتھ بھوک اور وزن میں کمی بھی ہو۔ عام قسم کی ادویات کھانے سے فرق بھی نہ پڑ رہا ہو اور یہ علامات دو ہفتوں سے جاری رہیں تو لازمی ہے کہ کس مستند ڈاکٹر سے چیک کروائیں کیونکہ یہ علامتیں ٹی بی کی ہو سکتی ہیں۔ ٹی بی عمر کے کسی حصے میں بھی ہو سکتی ہے لیکن زیادہ تر تقریباً 75 فیصد عمر کے درمیانی حصے کے لوگوں میں ہوتی ہے اور عمر کا یہ حصہ انسان کی روزی کمانے کا ہوتا ہے اور جب اس عمر میں بیماری لگ جائے تو ایک انسان جسمانی مرض کے ساتھ ساتھ معاشی، معاشرتی اور ذہنی اثرات کے دبائو کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ تقریباً 25 فیصد لوگ اپنی تشخیص اور علاج پرائیویٹ یا پبلک سیکٹر میں کرواتے ہیں۔ اگر کوئی ایک مریض اپنا علاج کروانے سے محروم رہ جائے تو وہ ایک سال میں دس سے پندرہ مریضوں کو بیماری لگا دیتا ہے۔ یہ بیماری ایک خاص قسم کے جراثیم سے لگتی ہے جو ایک مریض سے دوسروں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیںجن میں یہ جراثیم منتقل تو ہو جاتا ہے لیکن ان میں قوت مدافعت اتنی ہوتی ہے کہ وہ ان جراثیموں پر غالب آ جاتی ہے۔ ہاں البتہ ان لوگوں میں کسی بیماری سے یا خوراک کی کمی سے قوت مدافعت کم ہو تو اس کو بیماری کا حملہ ہو سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ بیماری اس وقت اثرانداز ہو بلکہ چند دنوں سے لے کر کئی سالوں تک یہ جراثیم جس میں رہ کر کسی وقت بھی بیماری لگا سکتے ہیں۔ اگرچہ جسم کا کوئی عضو یا حصہ ایسا نہیں جو اس بیماری سے محفوظ ہو لیکن زیادہ تر تقریباً 70-75 فیصد یہ بیماری پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ پھر جب ایسا مریض کھانسی کرتا ہے تو یہ جراثیم اس کی بلغم کے ذریعے باہر پھیل جاتے ہیں اور جب ایک صحت مند آدمی سانس لیتا ہے تو یہ جراثیم اس کے پھیپھڑوں میں داخل ہو کر صحت مند آدمی کو بھی مریض بنا دیتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے علاوہ یہ جراثیم بعض اوقات خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر معدہ اور آنتوں میں جا کر پیٹ کی ٹی بی بھی لگا دیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ جراثیم جلد پر حملہ کر کے بیماری لگا دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ جسم کا کوئی عضو یا حصہ ایسا نہیں جس کی ٹی بی نہ ہو سکتی ہو۔
٭ٹی بی کی تشخیض کا موثرطریقہ کونسا ہے؟
ج: ٹی بی کی تشخیص مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے۔ اس کا سب سے اہم مفید اور مستند طریقہ بلغم ٹیسٹ ہے۔ ایکسرے میں بیماری کی شدت اور اضافہ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ٹیوبر کلین ٹیسٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس مریض میں ٹی بی کی جراثیم داخل ہوئے ہیں لیکن یہ بیماری کو ظاہر نہیں کرتا بعض اوقات جسم کے مختلف حصوں سے مواد لے کر BIOPSY TEST کیا جاتا ہے۔
٭ ٹی بی ڈاٹس پروگرام کیا ہے؟
ج؛ ٹی بی ڈاٹس پروگرام ایک ایسا لائحہ عمل اور طریقہ علاج ہے جس کے تحت ٹی بی کی تمام ادویات مریض کو مفت میسر ہوتی ہیں۔ مریض کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ سوائے چند پیچیدہ امراض کے۔ ٹی بی کے مکمل علاج کا دورانیہ چھ سے آٹھ ماہ ہے۔ ٹی بی کی پیچیدہ امراض میں دماغ اور ہڈیوں کی ٹی بی ہے اس کے علاج کے لیے بعض اوقات ادویات زیادہ عرصہ کیلئے لینا پڑتی ہیں۔ MDR-TB خطرناک ٹی بی مرض ہے جس میں عام ادویات اثر نہیں کرتیں۔ اس کی ادویات مہنگی، TOXIC ہوتی ہیں اور کم سے کم دو سال لگاتار مریض کو کھانی پڑتی ہیں۔
٭ٹی بی کے پھیلاؤ کو کیسیروکا جاسکتا ہے؟
ج: تشخیص کے بعد مریض کا علاج فوراً شروع کر دینا چاہیے تاکہ جراثیموں کے پھیلائو کو فوراً روکا جا سکے۔ یہی طریقہ ہے جو دوسروں کو بیماری لگانے سے روک سکتا ہے۔ علاج شروع کرنے کے تقریباً ایک ماہ بعد جراثیم ختم ہو جاتے ہیں لیکن علاج مسلسل کم سے کم چھ ماہ ضروری ہے۔ کھانستے اور چھینکتے وقت منہ کو رومال یا ٹشو سے ڈھانپ لیا جائے۔ جگہ جگہ تھوکنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مریض کے کپڑے، بستر، چادر اور رومال وغیرہ کو گرم پانی سے دھو کر دھوپ میں خشک کریں۔ بعض مریضوں میں ادویات کے مضر اثرات دیکھنے میں آتے ہیں مثلاً شدید قے آنا، نظر کمزور ہونا، یرقان ، جوڑوں میں درد وغیرہ ایسے حالات میں اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ تمام تاثرات ادویات میں معمولی ردوبدل سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔بعض اوقات کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جو مریض کو پریشان کرتی ہیں مگر یہ نقصان دہ نہیں ہوتیں۔ مثلاً پیشاب کا رنگ سرخی مائل ہونا یا بھوک میں کمی ہونا ،یہ علامتیں عارضی ہوتی ہیں۔اگر کوئی مریض ٹی بی کی ادویات باقاعدگی سے کھانا بھول جاتا ہے تو اسے چاہیے کے وہ نزدیکی TB-DOTS-CENTRE میں رجسٹرڈ کروائے یا پھر اپنے کسی فیملی ممبر کو یہ ذمہ داری دیں کہ وہ اپنی نگرانی میں اسے باقاعدگی سے دوائی کھلائے۔
٭ علاج سے ٹی بی کے جراثیم مکمل طور پر مر ضاتے ہیں؟
ج: علاج کے دوران ایک ماہ میں ٹی بی کے جراثیم عام طور پر مر جاتے ہیں اور پھر یہ کھانسنے اور چھنیکنے سے منہ سے خارج نہیں ہوتے اور ایسے مریض مکمل علاج کے بعد اپنی اچھی ازدواجی زندگی گزار سکتے ہیں۔ٹی بی کی بیماری اور اسکی ادویات دونوں ہی حمل کیلئے نقصان دہ نہیں ہیں۔ ٹی بی کیلئے مخصوص انجکشن کے علاوہ تمام ادویات لی جا سکتی ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دوران حمل علاج نہ کروانا، علاج لیٹ شروع کروانا یا پھر حمل کے خوف سے علاج ادھورا چھوڑ دینا زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر ادویات حمل کے دوران بغیر کسی نقصان کے لی جا سکتی ہیں۔ انجیکشن نقصان دہ ہو سکتا ہے اس لیے کسی مستند ڈاکٹر سے رابطہ میں رہیں۔ تاکہ حمل کے دوران ادویات میں وقفہ نہ ہو۔
٭ کیاٹی بی کی مریضہ ماں یعنی زچہ بچہ کے لیے کس احیتاطی تدبیر پر عمل کرنا ٖروی ہے؟
ج:BCG ایک حفاظتی ٹیکہ ہے جو بچے کی پیدائش کے فوراً بعد لگوانا چاہیے۔ یہ ٹیکہ بچوں کے جسم میں ٹی بی کے جراثیم کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور بیماری سے بچائو میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کا اثر تقریباً پانچ سال تک رہتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر کسی وقت جسم میں کسی بیماری یا خوراک کی کمی کی وجہ سے قوت مدافعت کم ہو جائے تو بیماری کے جراثیم حملہ آور ہو کر بیماری لگا سکتے ہیں۔
٭کیاٹی بی کی مریضہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں؟
ج: جی ہاں ،ٹی بی کی مریضہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں۔ ٹی بی کے جراثیم ماں کے دودھ کے ذریعے بچے کو نہیں پہنچتے۔ اس لیے دودھ پلانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ماں کا دودھ تو جسم میں قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ البتہ جس ماں کے منہ میں جراثیم آ رہے ہوں اس کیلئے ضروری ہے کہ دودھ پلاتے وقت وہ اپنا منہ دوپٹے سے ڈھانپ لے۔ تاکہ سانس کے ذریعے یہ جراثیم بچے میں منتقل نہ ہوں۔ یاد رکھیں کہ ٹی بی کے جراثیم ماں کے دودھ کے ذریعے بچوں کو منتقل نہیں ہوتے۔
٭ٹی بی موروثی بیماری بھی ہے؟
ج: نہیں ،یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ٹی بی موروثی بیماری ہے۔ ٹی بی کے جراثیم کسی بھی وقت کسی شخص پر حملہ آور ہو کر بیماری لگا سکتے ہیں۔
٭ کیامنہ سے خون آنا ٹی بی کی خاص علامت ہے؟
ج: نہیں،یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ اگر منہ سے خون آئے تو ٹی بی ہو گئی۔ خون مسوڑھوں کے علاوہ معدہ، خوراک کی نالی اور پھیپھڑوں کی کئی قسم کی بیماریوں سے بھی آ سکتا ہے جن کا تعلق ٹی بی سے نہیں ہے۔
٭ ٹی بی کے مریض کو اگر شوگر ،بلڈ پریشر یا کوئی اور بیماری ہو تو؟
ج: ٹی بی کے مریض کو اگر شوگر ، بلڈ پریشر یا کوئی اور بیماری ہے تو وہ اس مریض کی دوائی اپنے معالج سے مشورہ کر کے ضرور لے سکتا ہے۔
٭ٹی بی ڈاٹس کیا ہے؟
ج:ٹی بی ڈاٹس دوائی نہیں بلکہ ایک طریقہ علاج ہے جس میں مختلف ادویات کو ملا کر گولیوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے اور یہ ادویات 6-8 ماہ تک کسی نہ کسی کی زیرنگرانی دی جاتی ہے۔ ادویات کا باقاعدہ اندراج کر کے نتائج اخز کیے جاتے ہیں۔

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...