جمعة المبارک ‘ 26 ذی الحج 1439 ھ ‘ 7 ستمبر 2018ء

Sep 07, 2018

بلوچستان دنیا میں غربت اور پسماندگی میں پہلے نمبر پر آ گیا

معلوم نہیں پہلی پوزیشن پر آنے کی خوشی میں بلوچستان کے وارثوں کو مبارکباد دی جائے یا ان سے تعزیت کی جائے۔ جی ہاں وہی بلوچستان ہے جہاں سوئی گیس تانبے اور سونے کے ذخائر اور سی پیک کی گودار تا خنجراب سڑک ہی نہیں بنی بے شمار دیگر معدنی وسائل موجود ہیں اس صوبے میں تو دودھ اور شہد کی نہریں بہنا چاہئیں تھی۔ مگر افسوس یہاں غربت اور پسماندگی کی گنگا جمنا بہہ رہی ہے۔ باقی رہی اقتدار کے گلی کوچوں میں بسنے والی لکشمی وہ صرف یہاں کے حکمرانوں تک ہی محدود رہتی ہے جن کے محلات کو کراچی کے پوش ایریاز اسلام آباد کے حسین محل وقوع میں اپنی آب و تاب دکھا رہے ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے حقوق کے چیمپئن اپنے صوبے پر ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کے روادار نہیں یہ صوبے سے حاصل ہونے والی آمدن اور وفاقی حکومت سے ملنے والے تعمیراتی اور ترقیاتی فنڈز تک ہضم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے پھر خود ہی اپنے صوبے کی پسماندگی اور بدحالی کا رونا روتے ہیں اگر یہ چاہتے تو 70 برسوں میں صوبے میں دودھ و شہد کی نہریں بہا سکتے تھے۔ اب اقوام متحدہ کی رپورٹ ہمارے استحصالی نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمیں خود اپنا چہرہ ہی بھیانک اور مکروہ نظر آ رہا ہے۔ بلوچستان کی یہ حالت اس کے عوامی نمائندوں نے کی ہے جن کے نزدیک نوکریوں پر ان کے عزیزوں کا حق ہے سڑک صرف انکی کلی (گاﺅں) تک جانی چاہئے بجلی کا ٹرانسفارمر ان کے علاقے میں بلکہ گھر میں لگانا چاہئے۔ سکول، کالج کی انہیں ضرورت نہیں‘ ہسپتال وہ بنانا نہیں چاہتے کہ عملہ کہاں سے آئے گا۔ خود دیہات کے طالب علم وہاں واپس آ کر کام کرنا نہیں چاہتے۔ ان حالات میں ہم پسماندگی اور غربت میں اول نہیں آئیں گے تو کیا ترقی اور خوشحالی میں اول آئیں گے۔

٭....٭....٭....٭

کراچی گیسٹ ہاﺅس پر چھاپہ، اداکار علی سلیم المعروف بیگم نواز ش علی گرفتار

کراچی پولیس نے اب ایک اور تنازعہ میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ کلفٹن کے گیسٹ ہاﺅس پر چھاپہ مار کر وہاں اداکار وفنکار اور نجانے کیا کیا بیگم نوازش علی کو اس کے ایک اور ساتھی کے ہمراہ شراب کی کئی بوتلوں سمیت حراست میں لے لیا ۔ اب گرفتار ہونے والے یا والی علی سلیم کہتے ہیں کہ وہ شوٹنگ کیلئے آئے تھے۔سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی ۔ اب بھلا پولیس والوں نے کیا ان کا اچار ڈالنا تھا۔اب معلوم نہیں شوٹنگ میں حصہ لینے والے ان کے باقی ساتھی کہاں بھاگ گئے تھے۔ اس سے بڑی فنکاری اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ نامراد شراب جیسی زرنگار آتشیں بوتل جہاں سے بھی ملتی ہے موقع مناسبت سے یہ اپنا رنگ روپ تبدیل کر لیتی ہے اور ذائقہ میں کبھی شہد بن جاتی ہے کبھی زیتون کا تیل ،اب کلفٹن میں اگر شوٹنگ ہو رہی تھی تو کیا وہ بنا عملے اور کیمروں کے ہو رہی تھی اور یہ نگوڑی شراب کی بوتلیں کیا وہاں اداکاری کے لئے تشریف فرما تھیں۔ دھونس دباﺅ سے زیادہ دیر تک حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ دولت ہو یا شہرت اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو سب کچھ کرنے کی اجازت ہو ۔ عام آدمی شاپر میں پڑی ایک کپُی کے سبب مہینوں حوالات میں پھر جیل میں سڑتا ہے تو کسی بااثر کو رعایت کیوں۔ اب دیکھتے ہیں بیگم نوازش علی اور انکا دوست کس طرح ان بوتلوں کو کھانسی کا شربت یا رنگدار پانی ثابت کرتے ہیں اور باعزت رہائی پاتے ہیں....۔

٭....٭....٭....٭

نواز شریف کی عدالت میں پیشی کے موقع پر فاسٹ فوڈ کھانے کی خواہش

میاں صاحب جیل میں ہوں یا ریل میں لگتا ہے ان کی حس مزاح اور کھانے پینے کی عادتیں نہیں بدلتیں۔ گذشتہ روز اڈیالہ جیل سے عدالت میں پیشی کے موقع پر ان سے ملنے کے خواہشمند کافی مسلم لیگی رہنما بھی عدالت میں آئے ہوئے تھے جہاں میاں نواز شریف ہوں وہاں محفل تو جمنی ہی تھی۔ سو یہاں بھی خوب چہل پہل ہو گئی۔ عدالتی وقفے میں میاں صاحب نے فاسٹ فوڈ کھانے کی فرمائش کی ‘ لگتا ہے وہ جیل میں پرہیزی کھانے کھا کھا کر اُکتا گئے ہیں۔ ویسے بھی کہاں جیل کی بے مزہ سبزیاں، دال اور گوشت اور کہاں جاتی امرا اور وزیراعظم ہا¶س کے پکوان۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حالانکہ جیل میں بھی انہیں وی آئی پی کھانا ملتا ہو گا۔ مگر زبان کی لذت کب چھوٹتی ہے۔ اس لئے نوازشریف نے جب کچھ چٹ پٹا کھانا کھانے کی فرمائش کی تو ان کے ساتھی چودھری تنویر نے فوری طور فش برگر اور جوس منگوائے جو میاں صاحب نے نہایت رغبت سے نوش جان کئے۔ اب کیا میاں جی کے اس طرح اکیلے اکیلے موج میلہ منانے اور کھانا کھانے پر جیل میں بند مریم نواز اور صفدر جی کا دل نہیں دکھا ہو گا۔ مگر فکر کی بات نہیں وہ کون سے عام قیدی ہیں انہیں بھی وی آئی پی مینوئل کے مطابق کھانا ملتا ہے۔ میاں صاحب نے تو ویسے ہی ذائقہ بدلنے کے لئے کچھ چٹ پٹا فاسٹ فوڈ کھانے کا کہا تھا جس کی فوری تعمیل ہو گئی۔ اب آئندہ ان رہنما¶ں کو جو ملاقات کے لئے عدالت آتے ہیں پہلے ہی سے اپنے ساتھ رنگ برنگے ذائقہ دار فاسٹ فوڈ کا ہنگامی انتظام کر کے رکھنا چاہئے کہ کیا پتہ کب میاں صاحب یا کوئی اور کچھ طلب کر بیٹھے ۔

٭....٭....٭....٭

ڈولفن فورس میں بھرتی دو ڈکیت اہلکار ساتھیوں سمیت گرفتار

یہ ہماری جدید ترین محافظ فورس کے بندے ہیں۔ ان کا کام ہماری رکھوالی کرنا ہے۔جب یہ خود ہی عوام کو لوٹنے لگیں تو ان باقی پیچھے کیا رہ جائے گا۔ اس فورس کو بناتے وقت ہر طرح سے اسے ایک مکمل فوری برق رفتار فورس کا تاثر دیا گیا۔ مگر لگتا ہے اسی افراتفری میں جلد بازی میں اس فورس میں اپنے بندے کھپانے کی خاطر اس فورس کی بھرتی کے وقت اچھی طرح چھان بین نہیں کی گئی۔ اس طرح کئی کالی بھیڑیں بھی بھرتی کے وقت اس فورس میں شامل ہو گئیں۔ ان دو ڈاکوﺅں نے بھی وردی کو ڈھال بنا کر دونوں ہاتھوں سے اپنا سابقہ دھنداپھرشروع کر دیا۔ اب تو انہیں کسی کا ڈر یا خوف بھی نہیں تھا۔ کیونکہ اب تو کوتوالی ہی ان کی تھی تو انہوں نے دو اور ڈاکو بھی ساتھ ملا کر اپنا گینگ پھر فعال کر دیا۔

خدا جانے اب ایسے اور کتنے لعل و گوہر ڈولفن ہی کیا پولیس کی دوسری یونیفارموں میں چھپے کارروائیاں ڈالتے پھر رہے ہیں۔ کوئی ہے جو ان کی ڈگریاں چیک کرے اور جن کی سفارش پر یہ بھرتی ہیں ان کو بھی سامنے لائے۔ ویسے یہ کوئی نیا الزام نہیں اس سے قبل بھی کئی ایسے وارداتیے پولیس اہلکار پکڑے گئے ہیں۔ پولیس تو” بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا“ کے فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ اگرچہ ساری پولیس ایسی نہیں مگر جو میں وہ کم نہیں۔

٭....٭....٭....٭

مزیدخبریں