عمر ابنِ خطاب رضی اللہ عنہ

Sep 07, 2018

امیر المومنین مرادِ رسول حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تاریخ اسلام کے ایک آفتاب ِنیم روز ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو عدی سے ہے ۔ عدی کی طرف منسوب ہونے کی بنا پرحضرت عمر کو” العدوی“ کہا جاتاہے ۔ قریش مختلف قبیلوں میں منقسم ہوئے ان میں دس قبائل بڑے ممتاز گردانے جاتے تھے ۔قبیلہ بنو عدی بھی ان میں شامل تھا ، حضرت عمر کے شجرہ نسب میں آٹھویں پشت پر عدی کانام ملتا ہے، عمربن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی۔ کعب بن لوئی پر حضرت عمر کا سلسلہ نسب حضور اکرم صلی اللہ علےہ وسلم سے مل جاتاہے۔ زمانہ جاہلیت میں قریش کے اہم قبائل کوکچھ خاص مناصب موروثی طور پر سپردکردیے گئے تھے قبیلہ بنو عدی کے حصے میں ”سفارت “ اور ”فیصلہ منافرہ“ کے منصب تھے ۔ جب کبھی قریش کہیں کوئی سفارت بھےجنا چاہتے یا قریش کی کسی ایک یا متعدد قبیلوں سے جنگ چھڑ جاتی تو مذکرات کیلئے اورمعاملات طے کرنے کیلئے قریش خاندان بنو عدی کے سربراہ کو یااس کے نامزد نمائندے کو سفیر بناکر بھےجتے تھے ،اسی طرح بعض اوقات یوں ہوتا کہ دو قبیلوں کے درمیان ایک دوسرے سے شرف نجابت یا دیگر فضائل میں اےک دوسرے سے برترہونے کے مسئلے پر نزاع پیدا ہوجاتا ۔ اےسی صورت میں فیصلہ کرنے والے کو ”منافر“ کہتے ۔ قریش اپنے ”منافرہ “ کافیصلہ بھی بنو عدی کے افراد سے کرواتے تھے ۔

جب بنو ہاشم کے سربراہ عبدالمطلب اوربنو امیہ کے رئیس حرب بن امیہ کے درمیان منافرہ کی صورت پیدا ہوئی تو حضرت عمر کے دادا نفیل حکم مقرر ہوئے اور انہوں نے فریقین کے دلائل سن کرحضرت عبدالمطلب کے حق میں فیصلہ کیا۔ حضرت عمر کے والد خطاب قبیلہ کے سردار تھے, جو سیادت و قیادت کی اعلی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ شاعری اورنسب دانی کے حوالے سے بھی بڑی شہرت کے حامل تھے قبیلہ بنو عدی کے ایک اور نامور فرزند زید بن عمرو بن نفیل ہیں ۔ جنہوںنے دورجاہلیت میں غور وفکر اور اپنی فطرت سلیمہ کے باعث بت پرستی سے بیزاری کا اظہارکردیا، یہ حضوراکرم صلی اللہ علےہ وسلم کی بعثت سے پہلے کی بات ہے اس پر انہیں بڑی اذیتیں اٹھانا پڑی اوروہ شام کی طرف ہجرت کرگئے جہاں انہیں عےسائیوں نے قتل کردیا۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ جو عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں انہی کے لختِ جگر ہیں۔ حضرت عمر کے بھائی زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کاشمار ممتاز صحابہ میں کیاجاتاہے ۔ حضرت عمرکی والدہ حنتمہ کا تعلق بنو مخزوم سے ہے ،جو قریش کی جنگی تیاریوں کے ذمہ دار تھے، حنتمہ حضرت خالد بن ولیدکی چچازاد بہن تھیں۔سفارت اور منافرہ کے منا صب اپنے زمانے کے سےاسی، معاشی،عمرانی اورجغرافیائی حالات سے مکمل واقفےت کا تقاضہ کرتے ہےں۔حضرت عمر کی شخصیت میں معاملہ فہمی ، شجاعت ، ذوقِ شعری اور نسب دانی کے خواص یکجاہوئے ۔ دور دراز کے تجارتی سفروں نے انہیں حقائقِ زندگی سے آشناکیا ۔ حضوراکرم صلی اللہ علےہ وسلم کی نظر اس باصلاحیت شخص پر پڑی ،قدر دان اور قدر شناس پیغمبر نے اپنے پروردِگار سے انہیں اسلام کے لیے مانگ لیا۔

مزیدخبریں