پاناما کیس: نواز شریف کی نظرثانی اپیلوں کو مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

07 نومبر 2017 (21:32)

 سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی نظرثانی کی درخواستوں کو مسترد کیے جانے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے.23صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ درخواست گزار کا 184/3 کے تحت شہادت بغیر نااہل قرار نہ دینے کا موقف درست نہیں۔فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ پاناما فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں ہوئی جس پرنظر ثانی کی جائے۔تفصیلی فیصلے کے مطابق احتساب عدالت شواہد کا قانون کے مطابق جائزہ لینے اور فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔فیصلے میں بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ ضعیف شواہد کو رد کرنے کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے، پاناما فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نوازشریف کی نااہلی سے متعلق حقائق غیرمتنازع تھے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فیصلہ سے نواز شریف کو حیران کردیا گیا۔نگران جج کی تقرری کے اعتراض پر سپریم کورٹ نے کہا کہ نگران جج کا تقرر نئی بات نہیں ہے اور اس کا مقصد ٹرائل میں بے پروائی کو روکنا ہے۔فیصلے کے مطابق چھ ماہ میں ٹرائل کی ہدایت ٹرائل کورٹ کو متاثر کرنا نہیں، جلد مکمل کرنے کیلئے ہے تاہم اگر کسی وجہ سے مقدمہ طوالت اختیار کرتا ہے تو سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ مزید وقت دے دے۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضح کیا کہ اس کا فیصلہ احتساب عدالت کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوگاسابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے معاملے پر نظرثانی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے جسٹس اعجاز افضل خان نے 23صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاناما فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں ہے کہ نظرثانی کی جائے احتساب عدالت شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر سکتی ہے ٹرائل کورٹ کمزور شواہد رد کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے نواز شریف کی نا اہلی سے متعلق حقائق غیر متنازعہ تھے فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت شواہد کا قانون کے مطابق جائزہ لے سکتی ہے نگران جج کا تقرر نئی بات نہیں مقصد ٹرائل کو شفاف بنانا ہے یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ نگران جج ٹرائل پر اثر انداز ہوں گے جسٹس اعجاز الحسن نے جے آئی ٹی کو ایف زیڈ ای کمپنی کو تحقیقات کا کہا ہے یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ نگران جج ٹرائل پر اثر انداز ہوں گے مریم نواز بادی النظر میں لندن فلیٹس کے بینیفیشل مالک ہیں یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ لندن فلیٹس سے کیپٹن صفدر کا کوئی تعلق نہیں فیصلے میں یہ بھی آیا ہے کہ نواز شریف نے جان بوجھ کر اپنے اثاثے چھپائے ہیں بددیانتی کے ساتھ کاغذات نامزدگی میں جھوٹا بیان حلفی دیا اس اقدام کو عمومی انداز سے نہیں دیکھا جا سکتا فیصلے میں یہ لکھا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں تمام اثاثے بتانا قانونی ذمہ داری ہے اور یہ قانونی ذمہ داری پوری نہیں کی گئی ساڑھے چھ سال کی تنخواہ نواز شریف کمپنی پر واجب الادا اور نواز شریف اس کمپنی کے ملازم تھے نہیں مانا جا سکتا کہ اثاثوں میں غلطی حادثاتی یا غیر ارادی طورپر ہوئی فیصلہ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ متفق نہیں نکالی گئی تنخواہ نواز شریف کا اثاثہ نہیں ہے امیدوار کو قابل پاس نمبر دینا اچھے نتائج نہیں دیتا فیصلے میں یہ بھی واضح طور پر لکھا گیا کہ یہ چیز لوگوں اور سسٹم کو مذید بدعنوان کرتی ہے نااہلی کے معاملے کا انتہائی محتاط ہو کر جائزہ لیا گیا ہے فیصلے میں مذید کہا گیا ہے کہ امیداوار نے عوام کی قسمت کے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کا شبہ تک بھی نہیں ہونا چاہیے امیدوار یا منتخب رکن کو اس معاملے پر رعایت دینا سیاست میں تباہی ہو گی اور یہ تباہی پہلے ہی انتہا کو پہنچ چکی ہے جسے روکنے کے لیے انتہائی اقدامات کی ضرورت ہے اعلٰی ترین عہدے پر بیٹھے شخص کے حواری اہم عہدوں پر فائز ہیں فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ نیب ،آئی بی ، سٹیٹ اور نیشنل بینک میں اعلٰی شخصیت کا اثرورسوخ ہے اس کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے اور ایس ای سی پی میں بھی اعلٰی شخصیت کا اثرورسوخ ہے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیب کو جے آئی ٹی کی تحقیقات سے فائدہ اٹھانا چاہیے عدالت نہیں چاہتی کہ معاملہ کسی کے حواریوں کے پاس جائے۔سپریم کو رٹ کے تفصیلی فیصلہ میں ایک شعر کا بھی حوالہ دیا گیا ہے
ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے