غزن آباد میں تحصیلداران کی مشترکہ کھلی کچہری ،عوامی مسائل سنے

07 نومبر 2017

کلرسیداں(نامہ نگار ) سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر تحصیلدار راولپنڈی ملک نور زمان اور تحصیلدار کلر سیداں طارق محمود نے یونین کونسل غزن آباد میں مشترکہ کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں چیئرمین یوسی غزن آباد طارق یسین کیانی،وائس چیئرمین ظفر عباس مغل،سروس سنٹر انچارج کلر سیداں سلیمان مشتاق،جنرل کونسلر عبدالمجید کیانی،سابق نائب ناظم سید مداح حسین شاہ ،پٹواری اخلاق حسین،امتیاز احمد اور شوکت عباس سمیت معززین علاقہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔کھلی کچہری میں چیئرمین طارق یسین کیانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد محکمہ مال کے حوالے سے پائی جانے والی شکایات اور ان کا ازالہ کرنا ہے۔انہوں نے گرداوری نظام میں بہتری لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام میں بے شمار خامیاں ہیں جس کی وجہ سے عوام کے مسائل میں کمی آنےکی بجائے اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے گرداوری نظام میں تکنیکی مسائل کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وراثتی معاملات میں عوام پس کر رہ گئے ہیں کمپیوٹرائزد نظام سے قبل عوام کو سہولیات حاصل تھیں مگر کمپیوٹرائزڈ نظام کے شروع ہوتے ہی مسائل میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔انہوں نے اس موقع پر کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے پر سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔سید اشتیاق شاہ سکنہ گراٹہ سیداں نے شکایت کی کہ جمع بندیوں میں ان کے دادا کا نام غلط لکھ دیاگیا ہے جبکہ تبادلہ انتقال میں بھی ان کا نام غلط ہے۔بار بار چکر لگانے کے باوجود نام میں درستگی نہیں کی جا رہی،انہوں نے بتایا کہ بعض با اثر افراد نے قبرستان کی جگہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔اخلاق احمد سکنہ شاہ باغ نے 27 فٹ سرکاری راستہ واگزار کرانے کی اپیل کی۔نمبردار خادم حسین نے شکایت کی کہ وراثت کے انتقال کا معاملہ گزشتہ چھ ماہ سے لٹکا ہوا ہے ۔انہوں نے پرانے نظام کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔عبدالمجید کیانی نے شکایت کی کہ یتیم اور بیوہ خواتین کے فوتگی نامے کے سلسلہ میں بے پناہ مشکلات ہیں، ان میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔زرینہ بی بی نے شکایت کی کہ اس کا خاوند 2005 میں انتقال کر گیا تھا، دیور وراثتی انتقال میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔لیاقت علی سکنہ موہڑہ فیض اللہ نے شکایت کی کہ جمع بندیوں کے دوران ان کا غلط نام لکھ دیا گیا ہے۔محمد شہزاد نے بتایا کہ انہوں نے چھپر کے علاقہ سے زمین کا تبادلہ کیا، موقع پر نشاندہی کروائی تو جگہ فالتو نکلی۔نشان لگوائے گئے جو بعد ازان مٹا دیے گئے ہیں ۔تھانے میں بھی درخواست دی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔راجہ نوید نے پٹواریوں کے بارے میں شکایت کی کہ وہ اپنے اپنے حلقہ جات میں موجود نہیں ہوتے،عوام ریکارڈ کی درستگی کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو برس ہو گئے گرداوری نہیں بھری جا رہی۔اس موقع پر تحصیلدار نے متعلقہ پٹواریوں کو پیر اور جمعرات کے روز اپنے اپنے پٹوار سرکل میں موجود رہنے کی ہدایت جاری کی۔جنرل کونسلر فرزند علی نے شکایت کی کہ پٹوار سرکل چنام میں تعینات امتیاز نامی پٹواری دستیاب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انہیں کئی کلومیٹر فاصلے طے کر کے کلر سیداں جانا پڑتا ہے۔مرزا اختر نے شکایت کی کہ وراثت کے انتقال کیلئے بار بار چکر لگوائے جاتے ہیں۔