قومی اسمبلی: میڈیکل یونیورسٹی کو پمس سے الگ کرنے کے لئے ترمیمی بل منظور

07 نومبر 2017

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی نے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کو پمس سے الگ کرنے کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل منظور کر لیا۔ وزیر مملکت برائے کیڈ نے بل منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا۔ اس سے قبل بل کے بارے میں طویل بحث ہوئی۔ پی پی پی کے سینئر راہنما سید نوید قمر نے بل کے حوالے سے ایوان میں کہا کہ پارلیمنٹ کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ نماز مغرب کے وقفہ کا فائدہ اٹھا کر بل منظور کرایا جا رہا ہے۔ اس طرح قانون سازی نہیں ہوتی۔ اس بل کو کمیٹی مسترد کر چکی ہے۔ اس پارلیمنٹ کو بے وقعت کر دیا گیا ہے اور اب ایک جنازہ پڑھنا باقی ہے اور کچھ نہیں رہ گیا۔ تحریک انصاف کے رکن اسد عمر نے کہا کہ بل میں صرف انتظام کو الگ کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے لئے ہسپتال کی ضرورت ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پمس کے اثاثوں پر کچھ لوگ قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ غازی گلاب جمال نے کہا کہ ہسپتال میں دوسرے صوبوں کے لوگوں کو واپس بھیجنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ صاحبزادہ طارق اﷲ نے کہا کہ جب سے یونیورسٹی اور پمس ایک ہوئے ہیں ہسپتال کے حالات خراب ہیں۔ عذرا افضل نے کہا کہ یونیورسٹی کو ہسپتال کی ضرورت ہوتی ہے۔ پمس کو ہسپتال کے ساتھ رہنا چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کے طاہر اقبال نے کہا کہ انہوں نے تین سال قبل بل دیا تھا جو ابھی تک اسمبلی میں نہیں آیا ہے۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔ میرا بل غائب کر دیا گیا۔ حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ پشاور میں یونیورسٹی کےساتھ ہسپتال ہیں۔ دوسرے صوبوں کے لوگوں کو ہسپتال میں رہنے دیا جائے۔ وزیر مملکت کیڈ نے کہا کہ ایوان میں جو آرا دی گئی ہیں وہ 80 فیصد حقائق کے منافی ہیں۔ ہسپتال میں وائس چانسلر ہی ایڈمنسٹریٹر ہے۔ ایسا سیٹ اپ کسی اور جگہ نہیں ہے۔ بل کے ذریعے پمس کو انتظامی طور پر الگ کر دیا جائے گا۔ بل کے تحت یونیورسٹی کے ساتھ ٹیچنگ ہسپتال ہو گا۔ جبکہ یونیورسٹی کے ساتھ فیڈرل میڈیکل کالج سمیت 18 ادارے منسلک ہیں۔ یونیورسٹی ختم نہیں ہوئی۔ یونیورسٹی کا نام اور اثاثے برقرار رہیں گے۔ بعدازاں بل منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ منظوری کے مرحلہ پر کسی جماعت نے مخالفت نہیں کی اور ایوان نے بل کی منظوری دیدی۔ بل کے تحت پمس میں ٹیچنگ فیکلٹی کی تمام آسامیاں فیڈرل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو منتقل ہو جائیں گی۔ ہسپتال خود مختار ہو جائے گا۔