ختم نبوت لانگ مارچ لاہور سے روانہ، گوجرانوالہ میں قیام، جگہ جگہ شاندار استقبال

07 نومبر 2017

لاہور + اسلام آباد + کامونکے + سادھوکے (خصوصی نامہ نگار+نامہ نگاران + نوائے وقت رپورٹ) تحریک لبیک یا رسول اللہ کا ختم نبوت لانگ مارچ مرکزی رہنما علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں گزشتہ روز روانہ ہوگیا، مزار داتا گنج بخش سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اسلام آباد ڈی چوک پہنچ کر اپنے مطالبات پیش کرے گا۔ براستہ جی ٹی روڈ لاہور سے روانہ ہونیوالے مارچ میں مختلف شہروںسے قافلے شامل ہوکر اس کا حصہ بنیں گے جبکہ مرکزی رہنما پیر افضل قادری بھی ایک بڑے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے قافلے میں شامل ہوئے، قافلے نے گزشتہ روز گوجرانوالہ قیام کیا۔ آج اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگا۔ گزشتہ روز بسوں، موٹر سائیکلوں، ٹرک اور دیگر گاڑیوںکا قافلہ لے کر علامہ خادم حسین رضوی اسلام آباد کیلئے روانہ ہوئے، تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ملک بھر سے داتا دربار جمع ہونے والے کارکنوں اور ٹرانسپورٹ کے باعث داتا دربار چوک میں زبردست ٹریفک جام رہا جبکہ عرس کی تقریبات کے باعث پہلے ہی داتا دربار غیر معمولی رش تھا۔ داتا دربار سے روانگی کے وقت علامہ خادم رضوی لاﺅڈ سپیکرز اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے پرچموں سے سجے ٹرک پر سوار تھے۔ یہاں خطاب کرتے ہوئے علامہ خادم رضوی نے کہا کہ حق جب آتا ہے تو باطل کو جانا پڑتا ہے یہ قرآن کا فیصلہ ہے لہٰذا ہمارا ختم نبوت لانگ مارچ 2017 الیکشن اصلاحات بل میں ختم نبوت کے ساتھ غداری کرنے والوں، قانون توہین رسالت 295C کی ایف آئی آر پر پابندی لگانے والوں، مساجد، اذان، نظام تبلیغ، تحقیقی کتب پر پابندیاں لگانے والوں، قالَ قالَ رسول اللہ کی پاداش میں محب وطن علماءمشائخ پر فور تھ شیڈول وناجائز مقدمات قائم کرنے والوں اور دیگر اسلام و پاکستان مخالف پالیسیاں و قانون بنانے والوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام مصطفی پاکستان کا مقدر ہے۔ 2018 کا الیکشن نظام مصطفی کےلئے ہو گا ظالم لٹیرے کرپٹ سب سیاستدانوں کا کڑا احتساب شروع ہو چکا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اسلام مخالف قوانین بنانے والے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ لانگ مارچ کے آغاز پر علامہ خادم رضوی نے خصوصی طور پر دعا بھی کرائی۔آئین میں ختم نبوت شق میں تبدیلی کے ذمہ داران کےخلاف ابھی تک کارروائی نہ ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں حکومت کی رضا مندی شامل ہے عاشقانِ رسول عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار تحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان کے مرکزی امیر علامہ خادم رضوی نے گزشتہ روز سٹی چوک کامونکے میں ختم نبوت لانگ مارچ کے استقبال کیلئے آنے والے عوام کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مقامی امیر علامہ قاری خدا بخش فیضوی، علامہ بشیر قادری، علامہ مفتی نعیم اختر نقشبندی اور حاجی ذوالفقار قادری نے بھی خطاب کیا۔ لانگ مارچ سادھوکے کی حدود مےں سات بجے جبکہ کامونکے سٹی چوک مےں ساڑھے سات بجے کے قرےب پہنچا اور اےک گھنٹہ رکنے کے بعد گوجرانوالہ کی طرف روانہ ہوا، اس موقع پر جی ٹی روڈ پر مےلوں لمبی قطارےں لگ گئی اور مسافروں کو شدےد دشواری کا سامنا بھی رہا۔ تحریک لبیک پاکستان اور سنی تحریک کی جانب سے لاہور تا اسلام آباد ریلی کے انعقاد کے اعلان کے بعد جلسے کی حفاظت اور امن و امان کیلئے پولیس نے 70 کروڑ سے زائد کی اضافی گرانٹ مانگ لی۔ اضافی گرانٹ، کنٹینرز، رہائش، پٹرول، کھانا اور دیگر اخراجات کی مد میں مانگی گئی ہے۔ پنجاب، خیبر پی کے اور آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے آئے 8 ہزار پولیس اہلکاروں کیلئے 44 لاکھ 80 ہزار روپے، انکی رہائشگاہ کی مد میں 55 لاکھ 12 ہزار روپے، پٹرول کی مد میں 14 کروڑ 56 لاکھ روپے، گاڑیوں اور کنٹینرز کی ہائرنگ کیلئے اور کھانے کی مد میں 4 کروڑ 39 لاکھ 43 ہزار روپے کی اضافی گرانٹ مانگی گئی جبکہ دیگر اخراجات کیلئے پولیس نے 20 لاکھ روپے مانگے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اضافی گرانٹ صرف 7 یوم کیلئے ہے اور اگر دھرنا طویل ہوا تو مزید گرانٹ مانگی جائے گی۔
پولیس/ گرانٹ