لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیدیا

07 نومبر 2017

لاہور(وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیدیا۔ فل بینچ نے قرار دیا کہ عدالت بند کمرے کی کارروائی میں رپورٹ کا جائزہ لے گی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کے روبروپنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث نے انٹرا کورٹ اپیل میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیاکہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ اب ایک ناکارہ دستاویزات ہے کیونکہ ان کے بقول پنجاب حکومت نے جس مقصد کیلئے سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی تھی وہ مقصد پورا ہو چکا ہے۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے پولیس اور عوامی تحریک کی مدعیت میں الگ الگ مقدمات درج کیے گئے اور اب ان پر ٹرائل جاری ہے۔ پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث نے خدشہ ظاہر کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ پبلک کرنے سے ٹرائل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ خواجہ حارث نے دلائل مکمل کرتے ہوئے استدعا کہ رپورٹ پبلک کرنے سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ فل بنچ نے خواجہ حارث کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سانحہ ماڈل ٹاون کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیا عدالت نے قراردیاکہ فل بنچ بند کمرے کی کارروائی میں اس انکوائری رپورٹ کا جائزہ لے گا۔
سانحہ ماڈل ٹاﺅن/ رپورٹ