آئندہ برس روس میں ہونیوالے فیفا ورلڈ کپ کے دوران داعش کے حملوں کا خطرہ

07 نومبر 2017

ماسکو(سپورٹس ڈیسک ) روس میں آئندہ سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران دہشت گرد تنظیم داعش کے حملوں کا خطرہ ہے جس کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔روس کے سلامتی امور کے ایک ماہر الیگزینڈر گولٹس کا کہنا ہے کہ 14 جون سے 15 جولائی 2018 تک ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران دہشت گردی کا خطرہ حقیقی طور پر موجود ہے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے 20 سال تک روس کو شدید دہشت گردی کا سامنا رہا جب وہ چیچنیا میں دو مختلف جنگیں لڑرہا تھا لیکن ستمبر 2015 میں شام میں بشارالاسد حکومت کا ساتھ دینے کے فیصلے کے بعد سے دہشت گردی کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔گولٹس نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ حکام تو دولت اسلامیہ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دہشت گردی میں ملوث ہزاروں روسی واپس روس آرہے ہیں۔روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک کاکیسس رپبلکس سے تعلق رکھنے والے 2900 روسی جنگجو اور 2000 سے 4000 کے درمیان وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے جنگجو اس وقت روس میں موجود ہیں۔ہر روز دولت اسلامیہ کی طرف سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ٹورنامنٹ کے دوران حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جن میں اکثر کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی شامل ہوتی ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی دھمکیاں محض توجہ حاصل کرنے کے لیے دی جاتی ہیں۔ تاہم حکام سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے خاموش ہیں۔روس کے ڈپٹی وزیراعظم ویٹالے موٹکوکا کہنا ہے کہ سکیورٹی انتظامات کے لیے 30 بلین روبل (512 ملین ڈالر) مختص کیے گئے ہیں اور ہم ایونٹ کیلئے تاریخی سیکیورٹی کا انتظام کریں گے۔اس سال جون میں ولادیمر پیوٹن نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں احتجاج کرنے، بغیر اجازت 11 میزبان شہروں میں داخلے اور ڈرائیونگ پر پابندی ہوگی جبکہ اس کے ساتھ نوفلائنگ زونز بھی تشکیل دیے گئے ہیں اور مذکورہ صدارتی حکم نامے کا اطلاق 25 مئی سے 25 جولائی 2018 تک ہوگا۔