انتخابات ملتوی نہیں ہونے دینگے :نواز شریف

07 نومبر 2017

اسلام آباد (خبرنگار+ ایجنسیاں+ نامہ نگار + نوائے وقت رپورٹ) اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نوازشریف اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کون سازش کر رہا ہے اب اگر نوازشریف کیسز کا سامنا کئے بغیر بھاگے تو ان کی سیاست مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ شاہد خاقان عباسی کا نااہل شخص کو وزیراعظم تسلیم کرنا مذاق ہے۔ ان خیالات کا اظہار خورشید شاہ نے پارلیمنٹ ہائوس میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات 1998 کی پرانی مردم شماری پر کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن عام انتخابات کو مقررہ وقت پر ہونا چاہئے کیونکہ پیپلزپارٹی قبل از وقت انتخابات کی حامی نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو پرانی مردم شماری پر تحفظات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ وہ پرانی مردم شماری پر ہی 2013ء کا الیکشن جیتے۔ نوازشریف اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کا دشمن کون ہے۔ ہم نے حلقہ بندیوں سے متعلق بل پر کوئی یوٹرن نہیں لیا حلقہ بندیوں پر ہمارے تحفظات تھے کیونکہ سندھ میں آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ہے ۔ ہماری آبادی کے لحاظ سے 10 سے 12 نشستیں بڑھنی چاہئے تھیں۔ دوسری جانب وزیر داخلہ احسن اقبال نے خورشید شاہ کے مطالبے پر کہا ہے کہ نئی مردم شماری ہو چکی ہے۔ انہوں نے خورشید شاہ کی تجویز کو بچگانہ قرار دیا اور کہاکہ اگر پرانی مردم شماری پر 2018ء کے عام انتخابات ہوئے تو آئینی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ خیبرپی کے اور بلوچستان کی نشستیں بھی بڑھ چکی ہیں۔ آئندہ انتخابات نئی مردم شماری پر ہی کرانا ہوں گے۔ پرانی مردم شماری پر الیکشن سے سیاسی تنازعات سراٹھائیں گے، اس لئے سب جماعتوں کو چاہئے کہ مل کر بیٹھیں اور اتفاق رائے سے حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل کو منظور کرائیں تاکہ 2018ء کے عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوسکیں۔ جمہوری تسلسل کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ادھر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر حکومت اپوزیشن میں تعطل دور کرنے کے لئے آج (منگل کو) پارلیمانی لیڈرز کا اس معاملے پر تیسرا اجلاس طلب کر لیا۔ اپوزیشن نے قراردیا ہے کہ قومی اسمبلی میں ترمیم کے لئے مطلوبہ تعداد میں ارکان کو جمع کرنے میں حکومتی ناکامی حکومتی ممبران کا اپنی حکومت پر عدم اعتماد ہے۔ ایوان میں پیر کو حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر پارلیمانی رہنمائوں نے مخالفانہ آراء کا اظہار کیا۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ پہلے اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ اب موقف میں تبدیلی پر حیرانی ہے ۔ اس کیلئے پھر مجھے میٹنگ بلانی پڑے گی مشترکہ مفادات کونسل کی بات کی جا رہی ہے اس بات پر آج پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ اس معاملہ کا فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل یا پارلیمنٹ کہاں ہوگا۔ آئین میں ترمیم میں تاخیر پر الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ سے رہنمائی کا فیصلہ کیا ہے۔ غلام آحمد بلور نے کہا کہ جب میٹنگ میں سارے معاملات طے ہوچکے تھے پھر اس بل کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے ہم سجھتے تھے کہ پنجاب مخالفت نہیں کرے گا اور ہم نے ہمیشہ پنجاب کے خلاف شکوے کئے کہ پنجاب چھوٹے صوبوں کو حق نہیں دیتا مگر ان کی 9 سیٹیں کم ہوئی اور پھر بھی وہ اس بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں پنجاب کی جو جماعتیں اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں وہ چھوٹے صوبوں کے خلاف سازش کررہی ہیں۔ اگر آپ نے وہاں بل کی حمایت کی اور آپ کی لیڈر شپ نہیں مان رہی تو آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئینی ترمیم کیلئے 228ممبران پورے کرے اور اس کیلئے ایک بار پھر تمام جماعتوں کی میٹنگ بلائی جائے اور جن جماعتوں کے تحفظات ہیں ان کے تحفظات دور کئے جائیں ۔ ہم وقت پر الیکشن چاہتے ہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرے اور سپریم کورٹ الیکشن ملتوی کرانے کے احکامات جاری کرے ۔ ظفراللہ خان جمالی نے کہا کہ حکومت کو جلدی کی ضروری نہیں اگر حکومت آئین اور قانون کے مطابق چلے گی تو کوئی مسئلہ نہیں ہے سب کچھ درست ہوگا۔ سپیکر نے کہا کہ بل کے ایک ایک لفظ پر تمام جماعتیں متفق تھی۔ آفتاب احمد خان شیر پائونے کہا کہ ملک کے اندر مردم شماری ہوئی بہت ساری سیاسی جماعتوں کو تحفظات تھے اس کے باوجود بھی مردم شماری کے نتائج سامنے آئے ۔ مردم شماری کے بعد نئے حلقے بنے تھے۔ پی پی پی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ چھوٹے صوبوں کی بات کی ہے ہم نے بل کے حوالے سے میٹنگ میں بل کی حمایت کی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ یہ مسئلہ سی سی آئی میں حل ہوچکا ہے اور وہاںزیر بحث بھی آچکا ہے مگر ایسا نہیں ہوا اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ہم اس بل کی حمایت کریں گے ۔ ہم چاہتے ہیں جو کچھ ہو وہ آئین اور قانون کے مطابق ہو ہم بھی چاہتے ہیں کہ چھوٹے صوبوں کو مکمل اختیارات ملیں ۔ یہ تاثر نہ دیا جائے کہ ہم بالکل اس کی مخالفت کررہے ہیں ۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری جماعت نے پہلے بھی کہا تھا کہ اپوزیشن کے تحفظات دور کریں ہم اس بل کی پھر حمایت کریں گے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد کی احتساب عدالت آج شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کرے گی۔ شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث ایڈووکیٹ نیب ریفرنسز کو یکجا کرنے کے حق میں اور نیب پراسیکیوٹر اس کے خلاف دلائل دیں گے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکے خلاف نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے دائر ریفرنس کی سماعت کل 8اکتوبر کو ہو گی۔ آج نواز شریف چوتھی بار جبکہ مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر چھٹی بار احتساب عدالت پیش ہوں گے۔گزشتہ سماعت پر عدالت نے مقدمے کی کارروائی آج 7نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق ریفرنسز کو یکجا کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائیگا۔ شریف خاندان کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت کے باہر ایک ہزار سے زائد پولیس اور ایف سی اہلکار تعینات ہوں گے۔ادھر ترجمان الیکشن کمشن ہارون شنواری نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں کیلئے کم سے کم چھ ماہ چاہئیں۔ کلیئر کیا جائے کہ حلقہ بندیاں کرانی ہیں یا نہیں۔ صوبوں اور بڑے شہروں سے متعلق مردم شماری کے عبوری نتائج ہیں۔ عبوری نتائج الیکشن کمشن کو سرکاری طور پر نہیں دیئے گئے ہم نے مردم شماری کے عبوری نتائج ویب سائٹ سے لئے ہیں۔ پچاس لاکھ نئے ووٹرز آئے ہیں جن کا اندراج بھی کرنا ہے۔ ترامیم کی وجہ سے ہمارے کام میں تاخیر ہورہی ہے۔
اسلام آباد (محمد نواز رضا۔ وقائع نگار خصوصی) مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے نئی مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقوں کی از سر نو حد بندی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کے لئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو سیاسی جماعتوں سے رابطے کے بعد پارٹی قیادت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی کمیٹی وفاقی وزراء زاہد حامد، خواجہ سعد رفیق، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القادر بلوچ اور مشیر امیر مقام پر مشتمل ہو گی۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ عام انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کو التوا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف کو آئینی ترمیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے مختلف تجاویز پیش کیں جن کو پارٹی قیادت نے سراہا۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت کا اجلاس نوازشریف کی زیر صدارت پنجاب ہائوس میں ہوا جس میں اہم قومی امور موجودہ سیاسی صورتحال اور نئی حلقہ بندیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں میاں نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا اجلاس میں میاں نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ عدالتی جنگ لڑیں گے وہ ہر قسم کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہیں اصولوں پر کوئی کمپرو مائز نہیں کروں گا۔