16بیگناہ جبری شادی اور عشق کی بھینٹ چڑھ گئے

07 نومبر 2017

ملک فیاض حسین/ علی پور

ایک دلخراش واقعہ ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے دریا پارکچہ کے علاقہ موضع والوٹ کی بستی لاشاری میں پیش آیا ہے۔ واقعہ کے مطابق بستی لاشاری میں فاروق لاشاری کی بیٹی آسیہ عرف شمو کی شادی دو ماہ قبل برادری کے سربراہ محمداکرم لاشاری کے بیٹے محمدامجد سے ہوئی تھی۔ آسیہ عرف شمو اس شادی پر راضی نہ تھی۔ آسیہ اپنے قریبی رشتہ دار سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ آسیہ کے میکہ اورسسرال ایک ساتھ آباد ہیںاور قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔ آسیہ شوہر سے لڑکر میکے چلی گئی لیکن اسکے والد فاروق اور نانا غلام نازک نے واپس سسرال بھیج دیا۔ شاہد نے آسیہ کو اپنے شوہرامجد سے جان چھڑانے کیلئے کہا اور خاندان کے تین افراد آسیہ ، شاہد اور ذرینہ نامی خاتون نے امجد کے قتل کاایک خوفناک منصوبہ تیارکیا۔منصوبہ کے تحت شاہد نے مارکیٹ سے چوہے مار زہر خریدااور ذرینہ نامہ خاتون کے حوالے کیا جس نے وہ موت کی پڑیہ آسیہ تک پہنچائی۔ آسیہ نے بھی اس جبری شادی سے جان چھڑوانے اور اپنی محبت کو پانے کیلئے منصوبہ پر عمل شروع کردیا۔17اکتوبر کی شب آسیہ نے امجد کیلئے دودھ تیار کیااور زہر ملادیا لیکن امجد نے دودھ پینے سے انکار کردیا۔امجد کی والدہ نے دودھ کا وہی زہر ملا گلاس اس دودھ میں شامل کردیاجس سے علی الصبح لسی اور مکھن تیا ر کیا گیا۔دیہاتی ماحول کے مطابق رشتہ داروں نے بھی لسی پی اور گھرکے دیگر افراد جس میں مرد وخواتین کے علاوہ بچوںنے بھی لسی پی اور مکھن سے ناشتہ کیا۔زہر کی پڑیہ لاشاری خاندان کے27افراد کے اندرسرایت کر گئی اور انکی طبیعت بگڑنے لگی۔ ابتدائی طور پر ٹوٹکے آزمائے گئے اور اتائیوں سے علاج کروایا گیا لیکن زہر نے اب اپنا کام دکھانا شروع کردیا زہر سے متاثرہ افراد بے ہوش ہوتے گئے۔ کچہ میں صحت کی سہولیات نہ ہونے سے متاثرین کو فاضل پور ، راجن پور کے ہسپتالوں لے جایا گیا لیکن وہاں بھی طبی سہولیات مناسب نہ ہونے سے اموات کا سلسلہ شروع ہوا اور پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ڈاکٹروں نے معاملہ کو سیریس نہ لیا اور چھپکلی کے زہر کا علاج کرتے رہے۔ متاثرین کو ویکسین دی جاتی رہی۔ سرکل پولیس علی پور کے تھانہ کندائی کا عملہ اس واقعہ سے مکمل بے خبر رہامیڈیا پر خبریں چلنے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اورروایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعہ کو قدرتی امر قراردے دیا ۔ڈی ایس پی علی پور منور بزدار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ دودھ میں چھپکلی تھی جو لسی بناتے وقت گرینڈہوگئی اور پوری لسی زہریلی بن گئی جس کے سبب اموات واقع ہوئی ہیں اسی دوران نشتر ہسپتال ملتان ریفر کیے گئے تین متاثرہ افراد دم توڑگئے اور جاں بحق افراد کی تعداد آٹھ ہو گئی ،اسی شام دو مزید کم سن اور معصوم کلیاں بھی مرجھا گئیں اورتعداد دس تک جا پہنچی۔ تب تک پولیس اورمحکمہ صحت دونوں کے ذمہ دار افسران نے بے حسی کی چادر اوڑھے رکھی دودھ میں زہر ملانے کی بھنک میڈیا کے کانوں تک پہنچی اورخبر شائع ہوئی تو پھرآر پی او ڈیرہ غازیخان ، ڈی پی او مظفرگڑھ حرکت میں آئے اوراس کیس میں مجرم کی تلاش شروع کی تو پولیس نے اس سنگین اورانتہائی افسوس ناک واقعہ کے تینوں ملزم گرفتار کرلیے اور انکے بھیانک چہرے بھی میڈیا کے سامنے لائے گئے۔ 

ملزمان آسیہ، شاہد اورذرینہ کی گرفتاری تک جاں بحق افراد کی تعداد 14تک پہنچ چکی تھی جو اب 16ہو چکی ہے۔ 27میں سے16افراد اس بھیانک منصوبہ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں صرف دو متاثرہ افراد کو نشتر ہسپتال سے زندہ واپس بھیجا گیا ہے۔ جبکہ ابھی تک 9افراد نشتر میں زیرعلاج ہیں۔ دس روز سے بستی لاشاری میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ روزانہ جنازے پڑھائے جا رہے ہیں کمشنر ڈیرہ ، آرپی او ڈیرہ ، کمشنر مظفرگڑھ، ڈی پی او مظفرگڑھ سمیت محکمہ صحت کے افسران بستی لاشاری کا دورہ کرچکے ہیں لیکن متاثرہ خاندان کیلئے ایک پائی امداد کااعلان نہیں کیا گیا۔ جنوبی پنجاب کا سرائیکی وسیب اپنے علیحدہ صوبہ کیلئے ایسے نہیں سڑکوں پر نکلا ۔ایسا واقع کہیں اورہوتاتو لاکھوں روپے فی کس کے حساب سے امداد فراہم کی جا چکی ہوتی غیر ذمہ داری پر پولیس اور محکمہ صحت کے افسران معطل ہو چکے ہوتے لیکن چونکہ یہ المناک واقعہ جنوبی پنجاب سرائیکی وسیب کے ایک پسماندہ ترین علاقہ میں پیش آیا ہے اس لیے یہاں کے انسان کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ؟۔اس لیے منتخب عوامی نمائندوں کو بھی متاثرہ خاندان کے اس دکھ میں شریک ہونے اورتسلی کے چند بول بولنے کی فرصت نہیں ملی متاثرہ خاندان کو مالی امدا دینے کی بجائے پولیس افسروں اوراہلکاروں کو انعام دیکر حکومت نے متاثرہ خاندان اور سرائیکی وسیب کے باسیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے پولیس نے تھانہ کندائی میں مذکورہ تینوں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
زہر خوانی کے معاملہ کا ڈراپ سین،
پسند کی شادی نہ ہونے پہ بیوی نے دوافراد سمیت خاوند کی جان لی

ملزمان پر قتل اوردہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں ملزمان کا چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ بھی عدالت سے حاصل کرلیا گیا ہے لیکن یہ سب کچھ وقت گزرنے کے بعد کیا گیا ہے اگر پولیس بروقت روایتی طریقہ تفتیش سے ہٹ کر تحقیقات کرتی اور زہرخوارانی کے معاملہ تک بروقت پہنچا جاتا توکئی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھامحکمہ صحت کے ذمہ داروں نے بھی بروقت متاثرہ افراد کے ٹیسٹ نہیں کروائے علی پور کے موضع والوٹ کی بستی لاشاری میں پوری بستی موت کے اس کھیل کا شکار ہو چکی ہے