چہلم امام حسین ، علی ہجویری ؒکا عرس اور سخت سکیورٹی انتظامات

07 نومبر 2017

احسان شوکت

azee_ahsan@hotmail.com
پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں نیچہلم امام حسین ؓاورحضرت داتا گنج بخش کے 974ویں عرس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔ حساس اداروں کی اطلاعات کے مطابق دہشت گرد لاہور میں داتا دربارکے عرس کے موقع پرکو ئی بڑی کارروائی کر سکتے ہیں۔اس صورتحال میں ملک دشمن عناصر کے مذموم ارادوں کو ناکام بنانا اور امن و امان برقرار کھنا ایک کڑا امتحان ہے ۔ جس سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کے علاوہ رینجرز اور فوج کی بھی مدد حاصل کی گئی ہے۔ لاہور میں 8,9 اور 10نومبر 2017 974 ویں سالانہ عرس داتا دربارکے موقع پر پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں نے داتا دربار کی سکیورٹی کے لئے فول پروف حفاظتی انتظاما ت کئے ہیں۔ پولیس گشت میں اضافہ کر دیاگیا ہے۔ داتا دربار میں مانیٹرنگ کے لئے ڈیڑھ سو سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں۔ داتا دربار انتظامیہ نے ڈیڑھ سو سے زائد سکیورٹی گارڈز اور رضاکاروں کا بھی بندوبست کیا ہے۔ زائرین کو میٹل ڈ یٹکٹر سے تلاشی اور واک تھرو گیٹس سے گزار کر احاطہ دربار میںداخل ہونے دیا جائے گا۔ علماء اکرام اور اہم شخصیات کو دہشت گردی کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر محفوظ مقام سے شٹل بس سروس کے ذریعے پولیس سکیورٹی کے حصار میں داتا دربار لایا جائے گا۔ دربار سے ملحقہ اونچی عمارتوں پر بھی پولیس اہلکار تعینات کرنے کے علاوہ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں دوری پر پارک کرنے کی اجازت ہو گی۔ جلوس کے راستوں اورداتا دربار کی طرف آنے والی ہر قسم کی ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزارا جائے گا جبکہ 10نومبر جمعتہ المبارک کو چہلم حضرت امام حسینؓ کے موقع پرصوبہ بھر میں 9 اور 10محرم الحرام کے سکیورٹی آرڈر کی پیروی کرنے کا ہی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام انٹیلی جنس اداروں کی مشاورت سیخصوصی سکیورٹی پلان تیار کیا ہے۔ جس کے لئے ایک لاکھ90ہزار سکیورٹی اہلکار صوبہ بھر میں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے کے لئے تعینات کئے گئے ہیں۔ تمام بارگاہوں کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کئے جائیں گے اور ہر شخص کو مکمل چیکنگ کے بعد اندر داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ روایتی جلوسوں کے راستے پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں جن سے جلوس کے راستے کی مکمل مانیٹرنگ کی جائے گی۔ حساس اداروں کی اطلاع کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیس و دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی جائے گی اور کسی کو بھی جلوس کے راستے یا مجلس میں شناخت کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ صوبائی دارالحکومت میں لاہور میں چہلم حضرت امام حسینکے موقع پر 15ہزار پولیس افسران و اہلکاروں کی سکیورٹی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں جن میں 8 ایس پیز ،27 ڈی ایس پیز ،68 ایس ایچ اوز،450 سب انسپکٹرز اور اے ایس آئیز اور 14ہزار سے زائد جوانوں کو چہلمحضرت امام حسینؓ کے جلوس مرکزی روٹ اور عرس کے جلوس کے روٹ پر تعینات کیا جائے گا جبکہ میٹل ڈیٹیکٹرز‘ واک تھرو گیٹس‘ خاردار تاریں، سراغ رساں کتوں کی مدد سے تلاشی اور 3 سو سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائیںجائیں گے۔ آئی جی آفس‘ سی سی پی او آفس اور ڈی آئی جی آپریشنزکے آفس میںکنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی کیمرے ان کنٹرول رومز کے ساتھ منسلک ہیں۔ جس سے دہشت گردوں پر نظر رکھی جا ئے گی ۔ جلوس کے تمام راستوں اور اس سے ملحقہ سڑکوں کو خاردار تاریں اور لوہے کے بیرئیر لگا کر بند کر دیا جائے گا اور جلوس میں داخل ہونے کے لئے ایک داخلی اور ایک خارجی راستہ رکھا جائے گا۔لیڈیز پولیس کو بھی تعینات کرنے کے علاوہ کسی کو بھی چار مقامات پر تلاشی لئے بغیر مجلس اور جلوس کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ چہلم کیجلوس کی خصوصی سکیورٹی کیلئے پولیس موبائل سکواڈ گاڑیاں، موٹرسائیکلیں اور ایلیٹ کی گاڑیاں بھی ملحقہ علاقوں میں گشت کریں گی۔ پولیس اہلکاروں کو جلوس کے روٹ پر اونچی چھتوں پر بھی تعینات کیا گیا ہیجبکہجلوس کے روٹ پر دوربینوں سے لیس سنائپر بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لئے فوج اور رینجرز کے دستوں کے ساتھ ساتھ ایلیٹ فورس کی 20 ریزروز بھی سٹینڈ بائی رہیں گی۔ روٹ کیجدید آلات سے چیکنگ اور سکریننگ کے علاوہ سراغ رساں کتوں کی مدد لی گئی ہے ۔ جلوس کی ویڈیو فلم بھی بنائی جائے گی جبکہ ہر جلوس کے روٹ اور وقت کی پابندی کو ہر صورت ممکن بنایا جائے گا۔ جلوس کے راستوں میں جیمر لگا کر موبائل فون سروس جام کر دی جائے گی اور جلوس کی ہیلی کاپٹرز سے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔ علاوہ ازیںسٹی ٹریفک پولیس نے بھی چہلم حضرت امام حسینؓ اور حضرت داتاگنج بخش ؒ کے 974 ویںعرس کیلئے ٹریفک انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔ اس موقع پر ڈویژنل افسران کی نگرانی میں6 ڈی ایس پیز،22انسپکٹرز، 426 وارڈنز کے علاوہ ،5لفٹرز اور 2 بریک ڈائونز بھی تعینات کئے گئے ہیں جبکہ وارڈنز کو مشکوک افراد اور لا وارث اشیاء پر بھی کڑی نظررکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شرکاء کی گاڑیوں کیلئے فاصلے پر 5 پارکنگ سٹینڈز عتیق سٹیڈیم،گھوڑاہسپتال، ناصر باغ، سلیم ماڈل ہائی سکول نمبر2 اور دربار ہسپتال مختص کئے گئے ہیں۔ ٹریفک پلان کے مطابق 8نومبر بدھ ہر قسم کی ٹریفک جوکہ شاہدرہ کی طرف سے لاہور شہر میں داخل ہوگی چوک آزادی سے جانب ریلوے سٹیشن بھجوائی جائے گی یا چوک نیازی شہید سے بندروڈ چوک سگیاں سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگی۔ چوک چوبرجی کی جانب سے آنیوالی ٹریفک کو چوک ایم اے اوکالج سے جانب ساندہ روڈ، بندروڈ اور سیکرٹر یٹ کے ساتھ سولسٹر آفس اور ایل ڈی اے آفس کے سامنے سے ہوتے ہوئے چوک کمشنرآفس سے کورٹ سٹریٹ ،کارنر ایس ایس پی آفس، آئوٹ فال روڈکی جانب بھجوایا جائے گا۔ نیز کاہنہ، قصور کی طرف سے آنے والی ہیوی ٹریفک کو چوبرجی، موڑ سمن آباد،گلشن راوی بند روڈ کی طرف بھجوایا جائے گا، بند روڈ چوک سگیاں سے جانب کچہری کی طرف کوئی ٹریفک نہیں آنے دی جائے گی۔ اندرون سرکلرروڈ سے آنیوالی ہر قسم کی ٹریفک موری گیٹ سے اردوبازار، چوک چیٹرجی، لاء کالج کچہری روڈ نیلا گنبد کے راستے بھجوایا جائے گا۔ لاء کالج کی جانب سے کسی قسم کی ٹریفک کوچوک چیٹرجی اردوبازار اور اندرون سرکلررو ڈسے آنیوالی تمام پبلک سروس گاڑیاں چوک شاہ عالمی سے جانب میوہسپتال بھجوائی جائیںگی۔ تمام سست رفتار ٹریفک کو چوک ٹیکسالی سے براستہ موہنی روڈ اور موری گیٹ سے جانب اردوبازار چلایا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سیعوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی اس موقع پر حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے جہاں کہیں بھی کوئی مشتبہ شخص یا کوئی چیز دیکھیں فوراً 15پر اطلاع دیں تاکہ چہلم کے موقع پرکسی بھی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش آنے سے روکا جا سکے جبکہ حکومت نے پنجاب بھر میں فرقہ واریت کو ہوا دینے، شر انگیز تقریریں کرنے، منافرت آمیز میٹریل چھاپنے ، لائوڈ سپیکر کے غلط استعمال اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی کڑی نگرانی کے ساتھ ساتھ ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کر کے انہیں بلاتخصیص گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنے کا فیصلہ بھی کیا ہے اور صوبے میں شرپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر چہلم حضرت امام حسینؓ کے موقع پر سکیورٹی کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ مگر ایسی صورتحال نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو گہری تشویش اور اندیشوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کو بھی اتحاد و باہمی یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اپنے قومی اداروں کی اخلاقی مدد کرکے ان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ اس حوالے سے ہماری ملکی سیاسی، سماجی اور دینی تنظمیوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور اپنے تمام اختلافات پس پشت ڈال کر دہشت گردی کے محاذ پر دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا اور اسی میں وطن عزیز کی سلامتی اور ہم سب کی بقاء ہے۔ ہم باہمی اتحاد اور اعتماد سے نہ صرف دشمن کے قوم کو تقسیم کرنے کے خطرناک اداروں کو خاک میں ملانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ دشمن کے نیٹ ورک کو توڑنے اور ان کا قلع قمع کرنے کی پوزیشن میں بھی ہوں گے۔