اثاثہ جات کیس :چودھری برادران نیب میں پیش اسحاق ڈار کے بیٹے نہ آئے

07 نومبر 2017

لاہور(خصوصی رپورٹر+سٹاف رپورٹر) چودھری برادران گزشتہ روز اثاثہ جات کیس میں نیب کے دفتر پیش ہوگئے۔ مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت اور سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ عدلیہ، نیب اور قومی ادارں کا مکمل احترام کرتے ہیں، نیب نے جو معلومات مانگی تھیں وہ فراہم کر دی ہیں، مزید کوئی معلومات درکار ہوں گی تو وہ بھی مہیا کر دیں گے، آئندہ بھی بلایا تو ضرور پیش ہوں گے۔ وہ نیب کے دفتر سے واپسی کے بعد اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے خاندان پر پیپلزپارٹی سمیت ہر دور میں مقدمات درج کیے گئے، یہ معاملات بھی 18 سال پرانے ہیں جن میں ہم نے ہمیشہ تسلی بخش جواب دیا۔ پرویزمشرف کے دور میں نیب کی ٹیم نے 2000ء میں ہمارے گھر میں کئی گھنٹے تک چھاپہ مارا اور باتھ روم کی ٹونٹیاں تک چیک کی گئیں، نیب نے ہم سے جو بھی کاغذات یا ثبوت مانگے ہم نے انہیں دئیے، اب دوبارہ نیب کے نوٹس پر ہم کسی کو ساتھ لیے بغیر چلے گئے، ہمارے بہت سے ساتھی ہمارے ساتھ نیب کے دفتر جانا چاہتے تھے ہم نے منع کر دیا اور کہا کہ نوٹس ہمیں آیا ہے تو ہم خود ہی جائیں گے۔ جو چیزیں مطلوب تھیں، فراہم کر دی ہیں کچھ چیزیں ان کے پاس پہلے سے موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہمارے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، بھٹو دور میں 135 جھوٹے کیس ہم پر بنے، شہبازشریف کی سرکردگی میں ہماری فیکٹری پر میرے والد مرحوم کی موجودگی میں ریڈ کیا گیا اور گیس، بجلی کے بل تک چیک کیے گئے، جب سب کچھ ٹھیک نکلا تو منہ چھپا رہے تھے۔ نوازشریف، شہبازشریف اس وقت بھی ہمارے خلاف تھے اور پچھلے دس سال میں بھی انہوں نے ہر طریقہ اختیار کیا اور ہمارے تمام معاملات کھنگال لیے ہیں لیکن کچھ نہیں ملا۔ ہمارے خلاف مختلف ادوار میں قتل کے تین جھوٹے مقدمات بھی بنائے گئے حالانکہ بندے بھی ہمارے ہی قتل ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان مقدمات میں بھی سرخرو کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر الیکشن کے موقع پر ہمارا احتساب ہوتا ہے الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال میں آج تک کچھ نہیں ملا، ہمارے کیس پرانے ہیں لیکن نوازشریف، شہبازشریف کے خلاف تو نئے کیس سامنے آ رہے ہیں ان کے خلاف تو ماڈل ٹائون میں دن دیہاڑے 16 افراد کو قتل اور سو کے لگ بھگ زخمی کرنے کا فوجداری کیس بھی ہے جس میں ان سے اب تک نہیں پوچھا گیا۔ نیب کی تحقیقات کے مطابق چوہدری برادران پر غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس دائر کیا جس میں ان پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے۔اسحاق ڈار کے دونوں بیٹے طلبی کے باوجود پیر کے روز نیب میں پیش نہیں ہوئے‘ انہیں دوبارہ نوٹس جاری کیے جائیں گے۔