تربیلاکے 5 یونٹ بند دیہات میں لوڈ شیڈنگ 18 گھنٹے شہروں کا بھی برا حال سموگ :حادثات سے مزید 14 جاں بحق

07 نومبر 2017

لاہور+اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+نامہ نگاران +این این آئی+ نوائے وقت رپورٹ+خصوصی نمائندہ) لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید دھند اور سموگ کا راج گزشتہ روز بھی برقرار رہا جس سے معمولات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں، تھانہ ساندہ کے علاقہ میں بس نے نویں جماعت کے طالبعلم کو کچل دیا، پولیس نے لاش کو مردہ خانے منتقل کر کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا معلوم ہوا ہے کہ تھانہ ساندہ کے علاقہ میں عصمت اللہ نامی بس ڈرائیور بس نمبرRIL7592راولپنڈی سے طالبعلموں کا ٹرپ لے کر لاہور آیا جب اس کی بس شیرا کوٹ کے علاقے بند روڈ پر پہنچی جہاں 15سالہ رحمت نام طالبعلم سکول جانے کے لئے سڑک کراس کر رہا تھا دھند کے باعث ڈرائیور کو نظر نہ آیا اور بس ڈرائیور نے طالبعلم کو ٹکر مار دی شدید زخمی ہونے پر طالبعلم کو فوری طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر مردہ خانہ منتقل کر دیا جبکہ بس ڈرائیور عصمت اللہ کو گرفتار کر لیا۔حد نگاہ کم ہوجانے سے مختلف ٹریفک حادثات میں13افراد جاں بحق جبکہ طلباء طالبات سمیت 80سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ موٹر وے کے مختلف سیکشن بند کر دیئے گئے۔ ائیرپورٹس پر فلائٹ آپریشن بھی شدید متاثر ہو رہا ہے ،متعدد پروازیں منسوخ ہونے کے ساتھ تاخیر کا بھی شکار ہوئیں، محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کی جانب سے آلودگی کے باعث بننے والے مزید 60کارخانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں صبح کے وقت شدید دھند اور سموگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی کام پر جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ماہرین کے مطابق چھوٹے بچے ، بوڑھے افراد ، دل کے مریض اور سانس کے مریض گھر کے اندر رہیں غیرضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔ماسک کا استعمال کریں، اگر کار میں ہیں تو شیشے چڑھا کر رکھیں۔ ڈاکٹرز کا کہناہے کہ سموگ سے متاثرہ افراد انفلوئنزا کے حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔ شہریوں کو مشورہ کہ سموگ کے دوران کھلی فضا میں ورزش یا جوگنگ سے بھی اجتناب کریں۔ شاہ کوٹ میں سانگلہ روڈ پرگاڑی نے دھند کے باعث ایک شخص کوکچل دیا چوک سرورشہید روڈ پرسناواں موڑکے قریب کار بس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 4افراد زخمی ہوگئے۔پنڈی بھٹیاں میں چنیوٹ روڈ پر کار نالے میں گرگئی، حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 3افراد زخمی ہوگئے۔ لاہور روڈ پر دھند کے باعث ٹریفک حادثے میں 7افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔ ظفروال کے علاقے میں نجی کالج کی وین الٹ گئی جس کے باعث 12 طالبات زخمی ہوگئیں۔ ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق لاہور شہر اور گردونواح میں دھند کا راج رہا، لاہور میں حدنگاہ 20سے 30میٹر رہ گئی۔ لاہور سے چیچہ وطنی تک حدنگاہ صرف30میٹر رہ گئی۔ موٹروے ایم تھری پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد ایم فور فیصل آباد سے گوجرہ تک ٹریفک کیلئے بند کی گئی۔کوٹ مومن سے سیال موڑ تک حدنگاہ50سے60میٹررہ گئی۔موٹر وے پر دھند کی وجہ سے سیال موڑ کے قریب 20سے زائد گاڑیاں ٹکرا گئیں ٹریفک حادثہ میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے زخمیوں کو سرگودھا پنڈی بھٹیاں ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ سیال موڑ سے خانقاہ ڈوگراں تک حد نگاہ 70 سے 100 میٹر رہی۔گاڑیوں پرفوگ لائٹس استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ لاہور ائیرپورٹ پر بھی دھند کے باعث 40پروازیں متاثر ہوئیں جن میں سے 12منسوخ اور 28تاخیرکا شکار رہیں ۔ فیصل آباد ایئرپورٹ پر پانچویں روز بھی دھند اور سموگ کے باعث فلائٹ آپریشن بند رہا۔ ملک سے آنے والی 12 میں سے 5فلائیٹ منسوخ ہو گئیں جن میں سے 8فلائیٹس کو سیالکوٹ اور کراچی سے آپریٹ کیا گیا۔ دبئی سے آنے جانے والی چاروں فلائیٹس بھی منسوخ کر دی گئیں۔ مدینہ سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز کو کراچی سے آپریٹ کیا جائے گا جبکہ شارجہ سے فیصل آباد آنے جانے والی دونوں پروازیں سیالکوٹ سے آپریٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شارجہ سے آنے والی پرواز حدنگاہ بہتر ہونے پر سیالکوٹ سے آپریٹ ہو گی وگرنہ اس کی منسوخی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب سموگ کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کے تحت تمام متعلقہ اداروں کی مربوط منظم جدوجہد جاری ہے اور محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کی جانب سے آلودگی کے باعث بننے والے 236صنعتی یونٹس سیل کیے جاچکے ہیں۔صوبائی وزیر تحفظ ماحول پنجاب بیگم زکیہ شاہنواز کے مطابق مزید 60کارخانوں کے خلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہیں۔محکمہ تحفظ موحولیات پنجاب کی جانب سے کسانوں کو فصلوں کو آگ لگانے کی بجائے متبادل طریقہ کار کے استعمال کے بارے میں آگاہی دی گئی ہے جبکہ گردوغبار کے تدارک کے لیے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے 17000کلومیٹر سڑکوں کو صاف بھی کیا۔دریں اثناء انچارج کنٹرول روم گڈو تھرمل سٹیشن نے کہا ہے کہ ہائی ٹرانسمشن لائنوں پر مرمتی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کئی گرڈ سٹیشن کو بجلی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ ہائی ٹرانسمشن لائن گزشتہ رات دھند کی وجہ سے ٹرپ ہوئی تھی۔ کمیر سے نامہ نگار کے مطابق شدید دھوند سموگ کی وجہ سے حد نگاہ صفر تھی اس دوران چک132/9-Lکا محمد دین روڈ کراس کرتے ہوئے نا معلوم گاڑی کے نیچے آ کر موقع پر دم توڑ گیا۔ٹوبہ ٹیک سنگھ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق بجلی لوڈ شیڈنگ کے باعث معمولات زندگی متاثر، کاروبار ٹھپ جبکہ طلبہ کو تدریسی مراحل میں شدید دشواری کا سامنا ،14گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث کاروباری حضرات کو بھی شدید دشواری کا سامنا ہے۔تاجر تنظیموں کے عہدیداروں سمیت عوامی حلقوں نے غیر اعلانیہ بجلی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند نہ کرنے کی صورت میں شٹر ڈائون ہڑتال سمیت احتجاجی ریلیاں نکالنے کی دھمکی دی۔کمیر سے نامہ نگار کے مطابق لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ 12گھنٹے ہو گیا ۔وہاڑی سے نامہ نگار کے مطابق گرڈ اسٹیشن میں فنی خرابی ضلع بھر میں بجلی کی سپلائی معطل ، 14گھنٹے سے مسلسل بجلی نہ ہونے سے گھروں ، مساجد اور سکولوں تک میں پینے کا پانی نایاب ہو گیا۔ قصور سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق گردونواح میںشدید دھند کے باعث تین حادثات میں ایک خاتون سمیت دو افراد جاں بحق اورچھ افرا د زخمی ہو گئے ۔الہ آباد کے علاقہ بھاگی والی کے قریب دھند کے باعث موٹرسائیکل سوار محمد اسلم اور اسکی بیوی آگے جانے والی گدھا ریڑھی سے ٹکرا گئے جس کے نتیجہ میں محمد اسلم شدید زخمی اور اسکی بیوی رسولاں بی بی موقع پر ہی دم توڑگئے اور چھانگا مانگا سٹاپ کے قریب سٹر ک عبور کرتا ہوا رانا قاسم علی نا معلوم گاڑی کی زد میں آکر دم توڑ گیا جبکہ پتوکی بائی پاس کے قریب لاہور سے اوکاڑہ جانے والی مسافر وین دھند کی وجہ سے آگے جانے والے کنٹینر سے ٹکرا گئی جس میں فیصل آباد کی رہائشی شمیم بی بی سمیت پانچ مسافر زخمی ہوگئے۔گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے تجاوز کرگیا۔ شیخوپورہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق شدید دھند کے باعث حادثات میں مزید پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے، فیصل آباد روڈ فیروزوٹواں کے قریب بس اور کنٹینر کے تصادم میں ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوگئے، دو کو مخدوش حالت کے پیش نظر لاہور ریفر کردیا گیا، لاہور روڈ بائی پاس کے قریب ٹرک کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ماموں اور بھانجا موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے ۔مریدکے جی ٹی روڈ کھوڑی کے قریب کار کی ٹکر سے ایک نوجوان ارشد جان بحق ہوگیا۔ جی ٹی روڈ کالا شاہ کاکو سے لیکر گوجرانوالہ روڈپر شدید دھند کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس سے ایک شخص ہلاک اور درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ قصور اور گرد و نواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ 18 گھنٹے تک جاری جس سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی، لوگ سراپا احتجاج، سیاسی و سماجی حلقوں کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 24گھنٹے میں 16 سے 18 گھنٹے تک بڑھ گیا، نارنگ منڈی حادثات میںتین خواتین سمیت 11افراد شدیدزخمی ہوگئے بعض کی ٹانگیں اوربازوبھی ٹوٹ گئے۔ نیو کالاخطائی روڈپر سدھانوالی کے قریب تیز رفتار ٹیوٹاوین نے سائیڈ مارکرصدربازار نارنگ منڈی کے موٹرسائیکل سوار دوبھائی اویس اور شہزاد مختار کو شدیدزخمی کردیاجبکہ دھوپ سڑ ی میں موٹررکشہ تیزرفتاری کے باعث ٹریکٹرٹرالی سے ٹکراگیا جس کے نتیجہ میں حافظ یاسر زخمی ہوگیا اس کی ٹانگیں اور بازو ٹوٹ گئے، مریدکے نارووال روڈ پر موٹر رکشہ الٹنے سے تین عورتوں سمیت 8 سواریاں شدید زخمی ہوگئی۔ کسیسے اور گرد و نواح میں بھی سموگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے کاروباری زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ ننکانہ ضلع بھر میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن، رات بارہ بجے اچانک بند ہوئی بجلی دن ڈیڑھ بجے بحال ہوئی۔ بچیانہ سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابقمین لائن میں فنی خرابی کے باعث بچیانہ میں 13گھنٹے کا طویل ترین بریک ڈائون، شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔ سیالکوٹ نے نامہ نگار کے مطابق سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیر پورٹ پرسموگ کی وجہ سے پروازوں کی آمد و روانگی میں تاخیرکا سامنا رہا اور شارجہ جانے والی پرواز منسوخ کردی گئی جس کی وجہ سے مسافر پریشان رہے۔ سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پروازوں کی روانگی میں دس سے بارہ گھنٹے تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی رہی اور مسافروں کوچھوڑنے اور لینے کیلئے ائیرپورٹ آئے ان کے عزیز واقارب اور دوست بھی پریشان ہوئے ۔گلف ائیرلائن کی پرواز نے رات ساڑھے تین بجے آنا تھا لیکن وہ تاخیر کا شکار ہوئی اور لیٹ سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچی اور نئے مسافروں کو کئی گھنٹے کی تاخیر کے بعد لے کر روانہ ہوئی جبکہ شارجہ جانے والی فلائٹ منسوخ کردی گئی ۔سموگ کی وجہ سے تین روز گزرنے کے باوجود بھی حکومت ملک میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو گئی بجلی کی ڈیمانڈ صرف13500میگا واٹ رہ گئی ہے اور ملک میں بجلی کا شارٹ فال5000میگا واٹ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ پانی سے بجلی کی پیداوار کم ہو کر صرف 2500میگا واٹ رہ گئی ہے جبکہ چشمہ کے دو جوہر ی پلانٹ تا حال بند پڑے ہیں جبکہ نندی پور بھکی حویلی بہادر شاہ ہوتی سمیت سات پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی تا حال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ ہائیڈرو پاور سے صرف1000میگا واٹ بجلی ہی سسٹم میں شامل ہے جس کی بڑی وجہ ڈیموں میں پانی کی کمی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ چھ گھنٹہ تک ہے ملتان بہاولپور میں سموگ کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ شہروں سے زیادہ ہے ذرائع کے مطابق سموگ کی وجہ سے سسٹم ٹرپ کر جاتا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی لوڈ شیڈنگ فری کرنے کا اعلان کرنے کے در پے ہیں اور اس حوالے سے تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانا آسان نہ ہو گا۔ تر بیلا بجلی گھر کے 5یونٹ بند ہو گئے ہیںتربیلا بجلی گھر کی کل پیدوار 3478میگا واٹ ہے جو کم ہوکر990 میگاواٹ رہ گئی ہے تربیلا جھیل کے آبی زخائرمیں کمی آگئی ہے۔ لوڈ شیڈنگ میں اضانے کا خدشہ تربیلاجھیل میں پانی کی آمد میں کمی کے باعث گنجائش 75فٹ تک کم ہوگئی ہے جھیل میں پانی کی سطح1475.00 فٹ ہو گئی ہے ۔ 27300کیوسک فٹ پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی پانی کی آمد میں کمی کی وجہ سے اخراج بھی کم کر دیا گیا ہے جبکہ تر بیلا جھیل سے 45000کیوسک فٹ پانی سپل ویز کے زریعے دریا سندھ اور غازی بھروٹھا نہرمیں چھوڑا جارہا ہے تر بیلا بجلی گھر کے 9یونٹ بجلی پیدا کررہے ہیں جن کے ذ ریعے 990میگا واٹ بجلی پید ا کی جارہی ہے ۔ تر بیلا جھیل میںپانی کی سطح تیزی سے کم ہونے کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے جو آنے والے دنوں میں لوڈ شیڈنگ میںاضافے کا باعث بنے گی ۔ پنجاب میں اسموگ کے باعث ریلوے نظام بھی متاثر ہوا ہے، کراچی سے راولپنڈی سمیت دیگر شہروں کو جانے والی ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں، عوام ایکسپریس 8گھنٹے تاخیر سے راولپنڈی پہنچی۔ ریلوے حکام کے مطابق گزشتہ روز بھی کراچی سے روانہ ہونے والی کراچی ایکسپریس ساڑھے 6گھنٹے ، نائٹ کوچ ساڑھے 5گھنٹے ، قراقرم ایکسپریس 4گھنٹے ، پاک بزنس ایکسپریس سوا2گھنٹے اور پاکستان ایکسپریس پونے 2گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی۔ مسافر ٹرینوں کی روانگی میں تاخیر کی وجہ سے مال بردار گاڑیوں کو بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ریلوے حکام کے مطابق ریلوے قانون کے مطابق 6گھنٹے سے زیادہ لیٹ ہونے پر مسافروں کو مکمل ٹکٹ ریفنڈ کی سہولت دی جاتی ہے اور جو مسافر ٹکٹ ریفنڈ حاصل کرنا چاہے اسے مکمل رقم فوری ادا کر دی جاتی ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق پنجاب میں اسموگ اور دھند کا سلسلہ مزید بڑھنے پر ریلوے کے نظام پر مزید اثر پڑے گا۔